بے سکونی
رات کے اس لمحے شہر مصنوعی روشنیوں سے چکاچوند تھا۔ سڑکوں پر رنگا رنگ بلب، گھروں کی کھڑکیوں سے امڈتی روشنی، بارش کی نمی، ہوا میں پھیلی مٹی کی خوشبو اور شہر کی خاموشی کا حسین امتزاج ایک دل فریب منظر پیش کر رہا تھا۔
احمد اور مریم اس جان دار منظر کے دوران اپنے گھر کی بالکونی میں کھڑے اپنے اپنے موبائل کی اسکرینوں میں کھوئے ہوئے تھے۔ ان کی بس ایک ہی خواہش تھی کہ لوگ ان کی زندگی کے ہر رنگ کو دیکھیں، ان کی ہر خوشی کی تعریف کریں۔
بے بی شاور، بچوں کی پیدائش، بچوں کے پہلے قدم کی تقریب، بچوں کی سالگرہ یا ان کی اپنی شادی کی سالگرہ۔۔۔ غرض ہر موقع ایسا ہونا چاہیے تھا کہ سب حیران رہ جائیں۔ مہنگے کیک، زرق برق سجاوٹ، پرتعیش کپڑے، بہترین کیمرا اور انواع و اقسام کے کھانے۔۔۔ سب کچھ صرف تصویروں اور ویڈیوز کے لیے تھا۔ سوشل میڈیا پر ہر پوسٹ ڈھیروں ویوز لیتی، ہر لمحہ مکمل دکھائی دیتا۔ لیکن احمد اور مریم کے دل کے اندر ایک خالی پن، یا جسے شاید “بے سکونی” کہتے ہیں، بس اسی کا بسیرا تھا۔
ہر نیا خرچ، ہر نئی تقریب صرف بے سکونی میں اضافہ کرتی تھی۔ اس سارے جھنجھٹ میں نہ وہ بچوں کو کوالٹی ٹائم دے پا رہے تھے اور نہ ہی ایک دوسرے کو۔ ایک دن مریم نے اپنی سب سے قریبی سہیلی ماہم سے سب کہہ ڈالا۔
“ہم سب کچھ کر رہے ہیں، لیکن دل کیوں خالی خالی سا ہے؟ ہمارے پاس نہ ایک دوسرے کے لیے وقت ہے اور نہ ہی بچوں کے لیے۔ ہر پارٹی، ہر تقریب کے بعد بھی بے سکونی ہی بے سکونی رہتی ہے۔ بچے اب ضدی اور ہٹ دھرم بن چکے ہیں۔”
ماہم بولی:
“یہی تو مسئلہ ہے مریم! تم اپنی خوشیوں کی نمود و نمائش میں مصروف ہو۔ ہر نیا منظر، ہر مہنگا تحفہ، بس دکھاوا ہے۔ یاد رکھو، رب کا حکم سادگی ہے۔ جب رب کے احکامات سے منہ موڑا جائے تو پھر بے سکونی جنم لیتی ہے۔”
ماہم کی باتیں مریم کے دل پر گہرا اثر چھوڑ گئیں۔
ان کے گھر میں ہر جگہ مہنگی چیزیں تھیں، لیکن سب سے مہنگی چیز “سکون” نہیں تھا۔ کریڈٹ کارڈ کے بل بڑھ رہے تھے، قرض بڑھ رہے تھے، اور ہر چمکدار پوسٹ کے ساتھ دل میں بے سکونی بڑھتی جا رہی تھی۔
ایک دن احمد نے بچے کے پہلے قدم کی تقریب میں سب کچھ ترتیب دیا۔ کیک، مہنگے تحائف، خاص کپڑے اور بہترین کیمرا—سب موجود تھا۔ مہمان آئے، تصویریں بنوائی گئیں، لیکن احمد کے دل میں ایک خالی پن چھایا ہوا تھا۔ مریم بھی دل گرفتہ تھی۔ وہ دونوں کمرے میں بیٹھے خاموشی سے سوچنے لگے۔
“ہم نے دکھاوے کے لیے اتنا خرچ کیا، اور سارے اخراجات کے لیے میں نے قرض کا بوجھ بھی اٹھا لیا۔”
مریم نے آہستہ سے کہا:
“شاید سکون صرف اللہ کی رضا اور سادگی میں ہے۔ یہ بناوٹ اور نمود و نمائش دل و دماغ کو بے سکونی کے سوا کچھ نہیں دے سکتے۔”
احمد نے سر ہلایا۔ وہ دونوں رات کے سناٹے میں بیٹھے تھے۔ بارش کی نرم بوندیں چھت پر ٹپک رہی تھیں۔ وہ سوچنے لگے کہ اصل خوشی، سکون اور راحت سادگی، شکرگزاری اور اللہ کی رضا میں ہے، نہ کہ دکھاوا، دولت یا سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی عارضی تعریف میں۔
آہستہ آہستہ احمد اور مریم نے اپنی زندگی بدلنا شروع کی۔ وہ بچوں کے ساتھ کھیلتے، چھوٹے لمحات میں خوشی تلاش کرتے اور ہر لمحے کو دل سے محسوس کرتے۔ تقریبات سادہ ہوئیں، کیک چھوٹا، تحائف کم، تصویریں صرف یاد کے لیے۔ لیکن دل سکون سے بھر گیا۔
احمد اور مریم جان گئے کہ بے سکونی کا اصل سبب دکھاوا اور دنیا کی دوڑ ہے۔ حقیقی خوشی، سکون اور راحت اللہ کی رضا، شکرگزاری اور سادگی میں ہے۔ بس یہی بے سکونی کا حل ہے۔
اب وہ ہر دن دل کی خوشی سے جیتے، ہر لمحہ کی قدر کرتے۔ بے سکونی کی شدت مدھم ہو گئی۔ وہ جان گئے کہ زندگی کے سب سے قیمتی لمحے وہ ہیں جو سادگی اور اللہ کی رضا میں گزارے جائیں۔ چھوٹے لمحے، سادہ خوشیاں اور دل سے محبت و بناوٹ سے پاک زندگی ہی حقیقی دولت اور سکون ہیں۔
احمد اور مریم کی زندگی کا ہر دن ایک نئی روشنی لے کر آتا۔ وہ ایک دوسرے کے لیے جیتے، ایک دوسرے کو وقت دیتے اور بناوٹ سے پاک پرخلوص زندگی جیتے تھے۔ بچوں کی ہنسی اور دل کی سادگی نے ان کے وجود کو سکون سے بھر دیا
یوں بے سکونی کا بھیانک دور اپنے انجام کو پہنچا۔
