ریمیٹنس اور قرض: اصل حقیقت کیا ہے؟

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

ریمیٹنس اور قرض: اصل حقیقت کیا ہے؟

پاکستان کی معیشت میں اگر کسی ایک ستون کو مسلسل اور قابلِ اعتماد سہارا کہا جائے تو وہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ریمیٹنس ہے۔ خلیجی ممالک سے لے کر یورپ، برطانیہ اور امریکہ تک لاکھوں پاکستانی روزگار کی تلاش میں دیارِ غیر میں محنت کر رہے ہیں اور ہر سال اربوں ڈالر وطن بھیج کر نہ صرف اپنے خاندانوں کا سہارا بنتے ہیں بلکہ قومی معیشت کو بھی مضبوطی فراہم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب حالیہ دنوں سوشل میڈیا اور بعض سیاسی حلقوں میں یہ خبر گردش کرنے لگی کہ حکومتِ پاکستان نے سعودی عرب سے ممکنہ مالی تعاون کے لیے ریمیٹنس کو بنیاد بنانے کی تجویز دی ہے تو اس پر فوری اور جذباتی ردعمل سامنے آیا۔ خاص طور پر سوشل میڈیا پر بعض حکومت مخالف حلقوں، سیاسی کارکنوں اور یوٹیوب کے نام نہاد تجزیہ کاروں نے اس معاملے کو اس انداز میں پیش کیا جیسے حکومت پردیس میں محنت کرنے والے پاکستانیوں کی کمائی کو قرض کے لیے گروی رکھنے جا رہی ہو۔ بلاشبہ اوورسیز پاکستانیوں کی قربانیوں کو دیکھتے ہوئے ایسے خدشات پیدا ہونا غیر معمولی بات نہیں، لیکن کسی بھی معاشی معاملے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے جذبات کے بجائے حقائق اور معاشی اصولوں کی روشنی میں دیکھا جائے۔معاشیات کی دنیا میں ایک تصور موجود ہے جسے ریمیٹنس سیکورٹائزیشن (Remittance Securitization) کہا جاتا ہے۔ سادہ الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی ملک کو بیرونِ ملک سے مستقل بنیادوں پر بڑی مقدار میں زرِ مبادلہ موصول ہو رہا ہو تو اس مستحکم آمدنی کو مالیاتی منصوبہ بندی میں ایک مثبت عنصر کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس طریقہ کار میں نہ تو اصل ریمیٹنس کو ضبط کیا جاتا ہے اور نہ ہی بیرونِ ملک پاکستانیوں کی رقوم کسی کے قبضے میں جاتی ہیں۔ بلکہ مالیاتی ادارے اس بات کو دیکھتے ہیں کہ کسی ملک کے پاس غیر ملکی زرِ مبادلہ کا ایک مستقل اور قابلِ اعتماد ذریعہ موجود ہے، جس کی وجہ سے اس ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت بہتر سمجھی جاتی ہے۔ اس تصور کو ایک سادہ مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ جب کوئی فرد بینک سے قرض لینے جاتا ہے تو بینک سب سے پہلے اس کی آمدنی اور اسکے تسلسل کو دیکھتا ہے۔ اگر کسی شخص کی تنخواہ یا آمدنی باقاعدگی سے آ رہی ہو تو بینک کو یقین ہوتا ہے کہ وہ قرض واپس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کسی حد تک یہی اصول قومی معیشتوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر کسی ملک کو ہر سال بڑی مقدار میں غیر ملکی زرِ مبادلہ موصول ہو رہا ہو تو عالمی مالیاتی ادارے اسے ایک مثبت معاشی اشارے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ طریقہ کار دنیا کے لیے نیا نہیں ہے۔ کئی ممالک ماضی میں اس ماڈل سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ ترکی نے مختلف ادوار میں بیرونِ ملک ترک شہریوں کی رقوم کے مستحکم بہاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی مالیاتی مارکیٹ سے سرمایہ حاصل کیا۔ اسی طرح برازیل کے بعض بینکوں نے ریمیٹنس کی بنیاد پر بانڈ جاری کیے جس کے ذریعے انہیں نسبتاً کم شرح سود پر قرض حاصل کرنے میں مدد ملی۔میکسیکو اور مصر نے بھی اس طرز کے مالیاتی ماڈلز کو استعمال کیا تاکہ عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کیا جا سکے اور بیرونی سرمایہ نسبتاً کم لاگت پر دستیاب ہو سکے۔ پاکستان کے تناظر میں اس موضوع کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ اوورسیز پاکستانی ملک کی معیشت میں غیر معمولی کردار ادا کر رہے ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ہر سال تقریباً تیس ارب ڈالر کے قریب رقوم وطن بھیجتے ہیں۔ یہ رقوم نہ صرف لاکھوں خاندانوں کی معاشی ضروریات پوری کرتی ہیں بلکہ پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو بھی مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ بعض مواقع پر یہ ریمیٹنس براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری سے بھی زیادہ اہم ثابت ہوتی ہےکیونکہ معاشی بحران کے دوران بھی اس کا بہاؤ نسبتاً مستحکم رہتا ہے۔اسی وجہ سے معاشی ماہرین طویل عرصے سے یہ رائے دیتے رہے ہیں کہ پاکستان کو اورسیز پاکستانیوں کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہیے اور ایسے مالیاتی ذرائع پر غور کرنا چاہیے جن کے ذریعے بیرونی سرمایہ نسبتاً کم لاگت پر حاصل کیا جا سکے۔ اس میں بانڈز، خصوصی سرمایہ کاری اسکیمیں اور ریمیٹنس کے مستحکم بہاؤ کو مالیاتی اعتماد کے طور پر استعمال کرنے جیسے طریقے شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم یہاں ایک بنیادی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے۔ حالیہ خبروں میں جس تجویز کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ ابھی کسی حتمی پالیسی یا معاہدے کی شکل میں سامنے نہیں آئی۔ معاشی پالیسی سازی میں مختلف تجاویز زیرِ غور آتی رہتی ہیں اور ان میں سے ہر تجویز عملی شکل اختیار نہیں کرتی۔ اس لیے یہ تاثر دینا درست نہیں کہ اوورسیز پاکستانیوں کی کمائی کو کسی قرض کے لیے باضابطہ طور پر گروی رکھا جا رہا ہے۔اس ساری بحث میں ایک اور پہلو بھی نہایت اہم ہے۔اوورسیز پاکستانی محض زرِ مبادلہ کا ذریعہ نہیں بلکہ وہ پاکستان کے معاشی اور سماجی ڈھانچے کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ان کی محنت، قربانی اور وطن سےوابستگی قابلِ احترام ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ معاشی پالیسیوں کے حوالے سے مکمل شفافیت اختیار کی جائے اور عوام کو بروقت اور درست معلومات فراہم کی جائیں تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی جنم نہ لے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جدید معیشت میں مالیاتی فیصلے اکثر پیچیدہ ہوتے ہیں اور انہیں چند جملوں میں بیان کرنا آسان نہیں ہوتا۔ جب ایسے معاملات سوشل میڈیا پر مختصر اور جذباتی انداز میں پیش کیے جاتے ہیں تو اکثر اصل مفہوم تبدیل ہو جاتا ہے اور غیر ضروری شکوک و شبہات پیدا ہونے لگتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ معاشی موضوعات پر گفتگو کرتے وقت تحقیق، توازن اور ذمہ داری کو ملحوظ رکھا جائے۔ پاکستان کی معیشت کے لیے اوورسیز پاکستانی ہمیشہ امید اور اعتماد کی علامت رہے ہیں۔ اس لیے ان کے اعتماد کو برقرار رکھنا اور ان کے کردار کو مثبت انداز میں تسلیم کرنا قومی مفاد کا تقاضا ہے۔ جب پالیسی سازی میں شفافیت ہو اور عوام کو درست معلومات فراہم کی جائیں تو نہ صرف غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں بلکہ معاشی استحکام کی بنیاد بھی مضبوط ہوتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے ایک مضبوط اور پائیدار معیشت کی تعمیر ممکن ہے۔

یہ کالم / تحریر محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔
انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *