مقابلہ خطوط نویسی (درجہ اول)

بابا کے نام خط
فرشتہءِیزداں (جوہی ، سندھ)

میرے پیارے بابا،
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آج بھی وہ دن میری یادوں میں اسی طرح تازہ ہے جیسے کل کی بات ہو۔ اسپتال کا وہ کمرہ، مشینوں کی مدھم آوازیں، سفید دیواریں اور آپ کا کمزور سا وجود سب کچھ میری آنکھوں کے سامنے ٹھہرا ہوا ہے۔ میں آپ کے پاس کھڑی تھی، بہت کچھ کہنا چاہتی تھی، مگر الفاظ جیسے میرے ہونٹوں تک آ کر رک گئے تھے۔ دل میں طوفان تھا، آنکھوں میں آنسو، مگر زبان خاموش رہی۔ آج سوچتی ہوں تو لگتا ہے کاش اُس دن میں ہمت کر کے آپ سے کہہ دیتی کہ میں آپ سے کتنی محبت کرتی ہوں، آپ ہمارے لیے کتنے قیمتی ہیں اور آپ کے بغیر زندگی کا تصور بھی کتنا خوفناک ہے۔ آپ کی آنکھیں نیم وا تھیں، مگر ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے آپ سب کچھ سمجھ رہے ہوں۔ میں نے آپ کا ہاتھ تھاما تھا وہی ہاتھ جو ہمیشہ ہمیں سہارا دیتا تھا، جو بچپن میں ہمیں چلنا سکھاتا تھا، جو ہر مشکل میں ہمارے سر پر سایہ بن کر رہتا تھا۔ اُس دن پہلی بار وہ ہاتھ بے بس سا لگا، اور شاید پہلی بار میں نے خود کو واقعی تنہا محسوس کیا۔ میں نے دل ہی دل میں آپ سے بہت سی باتیں کیں۔ آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہا کہ آپ نے ہمیں اتنی محبت دی، اتنی مضبوط تربیت دی۔ کہنا چاہتی تھی کہ آپ جیسا باپ ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا۔ مگر بابا، یہ سب صرف میرے دل میں ہی رہ گیا، میری زبان تک نہ پہنچ سکا۔ جب میں اُس کمرے سے باہر نکلی تو دل عجیب سی گھبراہٹ سے بھر گیا تھا، جیسے کوئی قیمتی چیز ہاتھوں سے پھسل رہی ہو۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ وہ آپ کو دیکھنے کا آخری موقع ہے، کہ اس کے بعد میں چاہ کر بھی آپ سے کبھی بات نہیں کر سکوں گی۔ آج جب آپ اس دنیا میں نہیں ہیں تو وہی ان کہی باتیں میرے دل پر بوجھ بن کر رہتی ہیں۔ اکثر سوچتی ہوں کہ اگر انسان کو پہلے سے معلوم ہو جائے کہ کون سا لمحہ آخری ہے تو وہ کبھی خاموش نہ رہے، کبھی محبت کے اظہار میں دیر نہ کرے۔
بابا، میں آج یہ خط لکھ کر وہ سب کچھ کہہ رہی ہوں جو اُس دن نہ کہہ سکی۔ میں آپ سے بے حد محبت کرتی ہوں۔ آپ ہماری زندگی کا سب سے خوبصورت سہارا تھے۔ آپ کے بغیر زندگی تو گزر رہی ہے، مگر وہ سکون، وہ اعتماد اور وہ مکمل پن کبھی واپس نہیں آیا۔ مجھے یقین ہے کہ آپ جہاں بھی ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی رحمت کے سائے میں رکھا ہوگا۔ میں ہر دعا میں آپ کو یاد کرتی ہوں اور اللہ سے یہی مانگتی ہوں کہ وہ آپ کی مغفرت فرمائے اور آپ کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے۔ اگر وقت کبھی پلٹ سکتا، تو میں دوبارہ اُس اسپتال کے کمرے میں جانا چاہتی صرف اس لیے کہ اس بار میں خاموش نہ رہوں، اس بار میں آپ کو بتا سکوں کہ آپ میری زندگی کی سب سے بڑی نعمت تھے۔

ہمیشہ آپ کو یاد کرنے والی،
آپ کی بیٹی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *