کریپٹو کرنسی –نفع یا نقصان
دنیا تیزی سے ڈیجیٹل دور کی طرف بڑھ رہی ہے۔ جہاں ایک طرف آن لائن بینکنگ اور ای۔کامرس نے زندگی آسان بنا دی ہے، وہیں دوسری جانب ایک نئی مالی دنیا نے جنم لیا ہے جسے ہم کریپٹو کرنسی کے نام سے جانتے ہیں۔جب سے کرپٹو کو لے کر مشہور ٹک ٹاکرز کی گرفتاریاں ہوئی ہیں،تب سے ہی بہت سے لوگ مجھ سے اس کے بارے میں پوچھ رہے تھے تو سوچا چلو ایک آرٹیکل کرپٹو کے نام لیکن کرپٹو جیسے پیچیده موضوع کے لیے ایک آرٹیکل کافی نہیں ہے اس کے لیے تو آرٹیکلز کی ایک سیریز لکھنی پڑے گی تو چلوتعارف سے آغاز کرتے ہیں۔
کریپٹو کرنسی دراصل ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جس کی کوئی کاغذی یا سکّے کی شکل نہیں ہوتی۔یعنی کہ ہم اس کو چھو نہیں سکتے ، اپنے پرس میں نہیں رکھ سکتے نہ ہی دستاویزات کی شکل میں رکھ سکتے ہیں، یہ کرنسی صرف انٹرنیٹ سافٹ وئیرز پر موجود ہے اور اسے خاص کمپیوٹر نیٹ ورک، یعنی بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے محفوظ رکھا جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ہر لین دین شفاف طور پر درج ہوتا ہے اور اس میں رد و بدل ممکن نہیں۔
سب سے پہلی اور سب سے مشہور کریپٹو کرنسی بٹ کوائن ہے جسے 2009 میں متعارف کرایا گیا۔ اس کے بعد ایتھیریم، لائٹ کوائن اور درجنوں دیگر کرنسیاں سامنے آئیں۔ آج دنیا بھر میں لاکھوں لوگ انہیں خرید اور بیچ رہے ہیں، جبکہ کئی سرمایہ کار انہیں مستقبل کی معیشت کا حصہ سمجھ کر بڑی تعداد میں ذخیرہ کر رہے ہیں۔
کریپٹو کرنسی کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ غیر مرکزی (Decentralized) ہے، یعنی اسے کوئی حکومت یا بینک کنٹرول نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ اسے آزادی اور مالی خود مختاری کی علامت سمجھتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف، یہی خصوصیت اسے خطرناک بھی بنا دیتی ہے کیونکہ اگر کوئی فراڈ ہو جائے یا قیمت اچانک گر جائے تو قانونی طور پر تحفظ حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔منظم اور غیر منظم تنظیمیں کرپٹو کے ذریعے رقم بآسانی سسٹم کی نظر میں آئے بغیر پوری دنیا میں کہیں بھی ٹرانسفر کر سکتی ہیں،یہ چیز اس کو مشکوک بنا دیتی ہے۔ کریپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری سے بڑے منافع بھی حاصل ہو سکتے ہیں اور بڑا نقصان بھی۔ اس کی قیمت دنوں میں کئی گنا بڑھ جاتی ہے اور اتنی ہی تیزی سے گر بھی جاتی ہے۔ اسی لیے بعض لوگ اسے “ڈیجیٹل سونا” کہتے ہیں تو بعض اسے “خطرناک جوا” قرار دیتے ہیں۔پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں ابھی تک کریپٹو کرنسی کو مکمل طور پر قانونی حیثیت نہیں ملی۔ کچھ جگہوں پر اس پر پابندی ہے اور کچھ ممالک اسے اپنانے پر غور کر رہے ہیں۔
پاکستان میں کریپٹو کرنسی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس کے نام پر کئی جعلی کمپنیاں اور اسکیمیں بھی کھولی گئیں۔ ہزاروں افراد کو “تیز منافع” کا لالچ دے کر ان سے کروڑوں روپے بٹورے گئے۔ چونکہ یہ نظام غیر ریگولیٹڈ ہے، اس لیے متاثرہ لوگوں کا اپنے پیسے واپس لینا تقریباً ناممکن ہے ۔
عام انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس میں قدم رکھنے سے پہلے مکمل معلومات حاصل کرے اور صرف اتنی ہی سرمایہ کاری کرے جتنی کھونے کی ہمت رکھتا ہو۔
