چالاکی راس آئے تو


چالاکی راس آئے تو


ایک تو گرمی اوپر سےصبح اردو (اے) کا پرچہ تھا اور میری نظر کی عینک کی ایک ٹانگ ٹوٹی پڑی تھی،دل میں ڈر تھا کہ نظم کے سوال میں شاعر کا نام ٹھیک سے یاد نہ آیا تو دو نمبر گئے ، بجاۓ اور یاد کرنے کے جلدی سے اپنی بہترین سہیلی طیبہ کو فون کیا اور مسئلہ بتایا، ” اس میں کیا مسٔلہ ہے دونوں آگے پیچھے بیٹھیں گے اور کیا! میں اپنی جوابی کاپی ہلکےسے تمہارے سامنے کروں گی تُم عینک آنکھ کے سامنے رکھ کے دیکھ لینا”، وہ بھی میری پکّی سہیلی تھی اپنی طرف سے اُس نے کمال کا حل نکالا،میرے دل کو بھی تسلی ہوئی ،صبح سکول میں اِسے ملتے ہی ہم نے اپنے کمراامتحان کی طرف دوڑ لگا دی یہ جانے بغیر کہ ٹیچر نے چاک سےرولنمبرکرسیوں پر پہلے سے لکھ رکھے تھے، کمرے کے آگے لڑکیوں کا جمگھٹا لگا تھا میں اور طیبہ اپنی پسند کی جگہ حاصل کرنے کے لئے آگے کو زور لگانے لگیں، آگے سے کوئی لڑکی ہلکا سا پیچھے ہوتی تو لڑکیوں کا پورا جمگھٹا پیچھے کو جُھول جاتا نتیجتاََ پیچھے سے جوابی وار آتا تو جمگھٹا ایک قدم آگے جُھول جاتا،میرے صبر کا پیمانا لبریز ہو رہا تھا آگے والی لڑکی سے ویسے بھی میرا چھتیس کا آنکڑہ تھا، مجھے بدلہ لینے کا مناسب وقت لگا بس شیطانی سوچ کا اثر تھا کہ میں نے آگے والی لڑکی کو پورا زور لگاتے ہوئے دھکیلا،دھکم پیل میں اِس کی چوٹی میرے ہاتھ میں آگئی ، اس نے بھی بغیر کسی لحاظ کے اپنی کہنی میرے نازک سے پیٹ میں جڑ دی لیکن میرا پلان زیادہ مضبوط تھا میں نے اس کی کُہنی کے سہارے ہی اس کے اُوپر سے کمرا امتحان کی طرف چھلانگ لگا دی،پسینے سے بھرے چہرے پر جب ٹھنڈی ہوا کاجھونکا لگا ،اُف ، وہ دو پَل کی ٹھنڈک اور مسرت کا اِحساس ، درد کے ساتھ میری چیخیں تَب نکلیں جَب میں توازن برقرار نہ رکھتے ہوئے اُوندھے منہ زمین پر گِرپڑی،اور دَھڑم َدھڑم پیچھے سے لڑکیاں میرے اوپر آن پڑی،۔مِسز چوہدری کی بارعب آواز سنائی دی،”یہ کیاہو رہا ہے٫ اُٹھو سَب کی سَب یہ آٹھویں کلاس کا حال ہے!”،میرے اُوپر سے وَزن تو ہلکا ہو گیامگر مِسز چوہدری کی آواز سنتے ہی میری انگلیوں کی پوریں تک کانپنیں لگیں،انہوں نے اپنا ہاتھ اٹھا کے مجھے اٹھنے میں مدد دی اور کہا،” یہ کیا تمہاری عینک ٹوٹ گئی ہے! “،میرا دل تو جیسے گلے میں آن پرا،ایک تو میری مظلوم شکل ، اوپر سے گرمی اور ٹوٹی ہوئی عینک اور وہ بھی مِسز چوہدری کے ہاتھ میں ۔ میں نے طیبہ کو دیکھنے کی لئے نظر اٹھائی تو سفید یونیفارم اور دھندلے چہروں کے علاوہ کچھ دِکھائی نہ دیا،میری بےبسی نے مِسز چوہدری کو میرا ہمدرد بننے پہ مجبور کر دیا، وہ بے ساختہ ہی کمرے میں موجود ٹیچر کو کہنے لگیں :” مِس عذرا اِس کی کرسی اپنی کرسی کے ساتھ رکھ لیں ،میں عینک جوڑ کے بھجوا تی ہوں”۔

  • مریم ڈار سکرپٹ رائٹر ، ناول نگار، کالم و تجزیہ کار، رائٹر ، و شاعرہ ہیں

    کہانی نویس ہیں جو کرداروں کی نفسیات، پلاٹ کی ساخت اور جذباتی ربط کو گہری سمجھ کے ساتھ پیش کرتی ہیں۔ وہ تھیٹر کی بدلتی ہوئی ثقافت پر یقین رکھتی ہیں اور اس کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں۔ ان کا اسکرپٹ "نور" آ گیا ہے" ریڈنگ اسٹیج تک پہنچا اور بھرپور پذیرائی ملی۔ بعدازاں انہیں جرمن کلچرل سینٹر لاہور میں کیٹرن ملہانن کی ورکشاپ کے لیے منتخب کیا گیا، جہاں انہوں نے نیٹ فلکس کے لیے ایک تصور پر کام کیا۔

    اس کے ساتھ ساتھ وہ کہانیوں کی ایک کتاب اور ڈراموں کے سکرپٹ پر بھی کام کر رہی ہیں، جب کہ شاعری ان کے تخلیقی اظہار کا لازمی حصہ ہیں

    مریم ڈار کا تعلق لاہور سے ہے اور یہ ایک تخلیقی کہانی نویس ہیں جو کرداروں کی نفسیات، پلاٹ کی ساخت اور جذباتی ربط کو گہری سمجھ کے ساتھ پیش کرتی ہیں۔ وہ تھیٹر کی بدلتی ہوئی ثقافت پر یقین رکھتی ہیں اور اس کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں۔ ان کا اسکرپٹ "نور" آ گیا ہے" ریڈنگ اسٹیج تک پہنچا اور بھرپور پذیرائی ملی۔ بعدازاں انہیں جرمن کلچرل سینٹر لاہور میں کیٹرن ملہانن کی ورکشاپ کے لیے منتخب کیا گیا، جہاں انہوں نے نیٹ فلکس کے لیے ایک تصور پر کام کیا۔

    اس کے ساتھ ساتھ وہ کہانیوں کی ایک کتاب اور ڈراموں کے سکرپٹ پر بھی کام کر رہی ہیں، جب کہ شاعری ان کے تخلیقی اظہار کا لازمی حصہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *