مقابلہ خطوط نویسی ( درجہ دوم)

صنف:- مکتوب نویسی
خط بنام امی جان
لاہور
از قلم:- نبیلہ اکبر
بروز منگل
31 مارچ 2026ء
پیاری امی جی!
السلام علیکم
آپ جہاں ہے اللّٰہ تعالیٰ کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے آمین ہم نے ہی ایک دن آپ کے پاس آنا ہے۔ زندگی میں تو کبھی خط لکھنے کی ضرورت پیش نہیں آئی ڈیجیٹل دور تھا اور تھی بھی کبھی بھی وقت اور حالات آڑے نہیں آئے کہ مجھے آپ سے ملنے سے روک سکے۔ دنیا جہان کی خواہشات پوری کیں ناز و نخرے میں پالا زندگی میں آپ کے ساتھ سے خوشیوں سے مالامال تھی ایسی خوشیاں جو نا ختم ہونے والی لگتا تھا یہ خوشگوار دن کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ لاڈ پیار اور دوستی اتنی کبھی ضد اور بحث کرنے کی نوبت نہیں آئی۔ پھر ایک وقت ایسا آیا ہمارے ہنستے بستے گھر کو نظر ہی لگ گئی آپ ایک جان لیوا بیماری میں مبتلا ہو گئیں بہت کوشش کی ماں کو بچا لیتی لیکن نا میری دعائیں قبول ہوئیں اور نا تدبیریں کام آئیں آپ سات فروری 2017ء کی یخ بستہ رات مجھے دنیا میں اکیلا چھوڑ گئیں۔ امی وہ بہت درد ناک رات تھی آپ کی سانسیں ختم ہوتے ہی زندگی کی حقیقتیں آشکار ہونا شروع ہو گئی میں اور میری بیٹی اکیلی ایمبولینس میں آپ کا جسد خاکی گھر لائیں وہ گھر جو آپ نے بہت محبت سے بنایا ہمارا خوشیوں گہوارہ کاٹ کھانے کو دوڑ رہا تھا۔ دلاسہ دینے والا کوئی نہیں تھا صرف ایک معذور بھائی اور چند ایک ہمسائے ایمبولینس کی آواز سن کر آئے رات کے پچھلے پہر آتے ہی ماں کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے بہن کو فون کیا اور چند قریبی رشتے داروں کو۔ امی آپ پاس ہوتی تو بتاتی میں وہ قیامت خیز رات کتنی مشکل تھی۔ اسی دن اندازہ ہو گیا سب رشتے کتنے مطلبی تھے سب صبح مہمانوں کی طرح آئے۔ میں خود اکیلی جا کر قبر کشائی کا آرڈر دے کر آئی تو گورکن بھی حیران تھا بی بی گھر میں کوئی مرد نہیں تھا جو تم قبر کھودنے کے لیے آئی ہو میں نے کہا نہیں یہ میرا معذور بھائی ہی ہے مرد امی اگر آپ ہوتی تو میں اپنے یہ دکھ یہ قرب بیان کرتی آپ سے امی جی میں نے آپ کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے ابو اور بھائی کو فون کیے لیکن وہ نہیں آئے کاش ہمارے پاس جائیداد نا ہوتی تو ہم سب الگ نہیں ہوتے۔ ہم سب بہن بھائی آپ کو اچھے سے سنبھال لیتے ہمارے بہن بھائیوں کے درمیان دنیاوی مال و دولت آڑے آئی جو ہمارے خونی رشتے پر بھاری پڑی۔ امی جی اب بھی میں نے صبر و شکر کر سب کو اکھٹا کرنے کی کوشش کر رہی اور بڑی بہن بننے کی بھرپور کوشش کر رہی ہوں امی جی میں نے یہ خط آپ سے معافی مانگنے کے لیے لکھا ہے آپ مجھے بہت یاد آتی ہیں آپ کو یاد کرتے ساری نصف صدی کی یادیں اور باتیں یاد آتی ہیں کیونکہ آپ کی زندگی میں کبھی ضرورت نہیں پڑی آپ سے معافی مانگنے کی اور نا دوری رہی ہر وقت کا ساتھ تھا۔ اللّٰہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے آمین اور آپ کی بیٹی کو آپ کی ذات کے صدقہ جاریہ بننے کی توفیق دے آمین۔

والسلام
آپ کی کی بیلا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *