تیری فطرت میں ہے ہر وقت میسر رہنا

تیری فطرت میں ہے ہر وقت میسر رہنا

میرے حصے میں لکھا کیوں ہے مسافر رہنا

​تو جو ہر شخص کی محفل کا بنے گا رونق

پھر تو لازم ہے مرا خود میں محاصر رہنا

​ہم نے سیکھا ہے صدف بن کے تلاطم سہنا

موجِ دریا میں بھی پیاسے کی ہی خاطر رہنا

​دشتِ وحشت میں کسی سائے کی صورت پیارے

تھک کے ہارے ہوئے راہی کا مقدر رہنا

​ایک ہم ہیں کہ بھلا بیٹھے ہیں اپنی ہستی

ایک تو ہے کہ جسے یاد ہے ظاہر رہنا

​شوقِ منزل میں کٹے پاؤں تو یہ سیکھ لیا

راہبر بن کے کڑی دھوپ میں باہر رہنا

​تیرے آنے کی خبر لائے گی شاید کوئی

کام ٹھہرا ہے مرا شام سے در پر رہنا

​زہرِ تنہائی رگ و پے میں اتر جائے گا

کب تلک خواب کی دنیا میں معطر رہنا

لوگ ملتے ہیں یہاں مقصد دل کی خاطر

تم مگر سیکھو مروت میں بھی ماہر رہنا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *