تیری فطرت میں ہے ہر وقت میسر رہنا
میرے حصے میں لکھا کیوں ہے مسافر رہنا
تو جو ہر شخص کی محفل کا بنے گا رونق
پھر تو لازم ہے مرا خود میں محاصر رہنا
ہم نے سیکھا ہے صدف بن کے تلاطم سہنا
موجِ دریا میں بھی پیاسے کی ہی خاطر رہنا
دشتِ وحشت میں کسی سائے کی صورت پیارے
تھک کے ہارے ہوئے راہی کا مقدر رہنا
ایک ہم ہیں کہ بھلا بیٹھے ہیں اپنی ہستی
ایک تو ہے کہ جسے یاد ہے ظاہر رہنا
شوقِ منزل میں کٹے پاؤں تو یہ سیکھ لیا
راہبر بن کے کڑی دھوپ میں باہر رہنا
تیرے آنے کی خبر لائے گی شاید کوئی
کام ٹھہرا ہے مرا شام سے در پر رہنا
زہرِ تنہائی رگ و پے میں اتر جائے گا
کب تلک خواب کی دنیا میں معطر رہنا
لوگ ملتے ہیں یہاں مقصد دل کی خاطر
تم مگر سیکھو مروت میں بھی ماہر رہنا
-
رشنا اختر ایک بہترین لکھاری ہیں ۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کی سوشل میڈیا انچارج اور مظفر گڑھ سے صدر ہیں ۔ گاہے بگاہے لکھتی رہتی ہیں اور انٹرویوز بھی کرتی ہیں۔
ان کی مزید تحاریر پڑھیں
