تیری یاد کے گلاب
تو اس قدر شامل ہے میرے خیالوں کی فضا میں
ہر دھڑکن تیری یاد کے گلاب میں کھلتی ہو جیسے
چاہے کتنی بھی محفلیں، کتنی بھی خوشیوں کا ہجوم
میری نگاہیں بس تیری ایک نظر کی طلب میں رہتی ہیں
تیری ہنسی ذہن میں اُترے تو سب راستے روشن ہوں
میری دنیا تیرے پیار کی روشنی سے سنور جاتی ہے
تیری باتوں کی مٹھاس دل کی ہر دھڑکن میں بس جائے
اور ہر لمحہ تجھے سوچنا خاموشی میں گنگنائے
مل نہیں سکتے، مگر خیالوں میں جاناں
تری آہٹ سے مرے دل کے کئی موسم مہکتے ہیں
