⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
شبِ معراج
سبحان الذي أسرى بعبده ليلًا من المسجد الحرام إلى المسجد الأقصى
سورہ الاسراء، آیت 1۔
ترجمہ:
“پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے محبوب بندے کو رات کی خاموش چادر میں مسجد حرام سے مسجد اقصی تک کی سیر کرائی۔”
یہ آیت محض بیان نہیں بلکہ ایک نورانی دھارا ہے جو شبِ معراج کے اسرار کی تہہ تک روشنی ڈالتی ہے۔ یہ وہ شب تھی جس میں فاصلے، وقت اور انسانی عقل کی حدود تحلیل ہو گئیں، اور بشریت نے قربِ الہی کی وہ جھلک محسوس کی جو تاریخ میں بے نظیر اور بے مثال ہے۔ ہر ستارہ جیسے اس مقدس سفر کی گواہی دے رہا ہو، اور ہر ہوا کی سرسراہٹ میں معراج کے اسرار کا جادو بکھرا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
ماہ رجب کی ستائیسویں شب کس قدر پرکیف رات ہے۔ مطلع بالکل صاف ہے ، فضاؤں میں عجیب سی کیفیت طاری ہے۔ رات آہستہ آہستہ کیف و نشاط کی مستی میں مست ہوتی جارہی ہے۔ ستارے پوری آب و تاب کے ساتھ جھلملا رہے ہیں۔ پوری دنیا پر سکوت کا عالم طاری ہے۔ نصف شب گزرنے کو ہے کہ یکا یک آسمانی دنیا کا دروازہ کھلتا ہے۔ انوار و تجلیات کے جلوے سمیٹے حضرت جبرائیل علیہ السلام نورانی مخلوق کے جھرمٹ میں جنتی براق لئے آسمان کی بلندیوں سے اتر کر حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لاتے ہیں۔ جہاں ماہ نبوت حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم محو خواب ہیں۔ آنکھیں بند کئے، دل بیدار لئے آرام فرمارہے ہیں۔ حضرت جبرائیل امین ہاتھ باندھ کر کھڑے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ اگر آواز دے کر جگایا گیا تو بے ادبی ہوجائے گی۔ فکر مند ہیں کہ معراج کے دولہا کو کیسے بیدار کیا جائے؟ اسی وقت حکم ربی ہوتا ہے: “یاجبریل قبل قدمیہ۔”
اے جبریل! میرے محبوب کے قدموں کو چوم لے تاکہ تیرے لبوں کی ٹھنڈک سے میرے محبوب کی آنکھ کھل جائے۔ اسی دن کے واسطے میں نے تجھے کافور سے پیدا کیا تھا۔ حکم سنتے ہی جبرائیل امین علیہ السلام آگے بڑھے اور اپنے کافوری ہونٹ محبوب دو عالم حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پائے ناز سے مس کردیئے۔
یہ منظر بھی کس قدر حسین ہوگا جب جبریل امین علیہ السلام نے فخر کائنات حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں کو بوسہ دیا۔ حضرت جبرائیل امین علیہ السلام کے ہونٹوں کی ٹھنڈک پاکر حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوتے ہیں اور دریافت کرتے ہیں: “اے جبرائیل! کیسے آنا ہوا؟”
عرض کرتے ہیں: “یارسول اللہ! ( صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدائے بزرگ و برتر کی طرف سے بلاوے کا پروانہ لے کر حاضر ہوا ہوں۔”
“ان الله اشتاق الی لقائک يارسول الله.”
’’یارسول اللہ ( صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اللہ تعالیٰ آپ کی ملاقات کا مشتاق ہے۔‘‘
حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے چلئے زمین سے لے کر آسمانوں تک ساری گزر گاہوں پر مشتاق دید کا ہجوم ہاتھ باندھے کھڑا ہے۔ (معراج النبوۃ)
چنانچہ آپ نے سفر کی تیاری شروع کی۔
شبِ معراج ایک محض تاریخی واقعہ نہیں بلکہ روح کی بلندی، قلب کی اُٹھان اور جان کی روشنی ہے، جو دلوں کو نایاب سکون، ایمان کو تازگی اور روح کو اعلیٰ مقام عطا کرتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے مسجد حرام سے مسجد اقصی کا سفر فرمایا، جہاں آپ ﷺ نے تمام انبیاء کی امامت فرمائی۔ پھر آسمانوں کی وسعتوں کی جانب بڑھ کر اللہ کے قرب کی وہ سرحد دیکھی، جسے بیان کرنے کے لیے انسانی الفاظ عاجز اور زبان خاموش ہو جاتی ہے۔
معراج کے اس نورانی سفر میں جس سواری کا ذکر آتا ہے، وہ براق ہے۔ براق محض جسمانی وسیلہ نہیں بلکہ رفتار، نور اور لمحاتی عبور کی علامت ہے۔ عربی میں برق روشنی اور چمک کا مفہوم رکھتا ہے، اور جدید سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ روشنی کائنات کی سب سے تیز رفتار ہے۔ وہ فاصلے جنہیں انسان برسوں میں طے کرتا ہے، پل بھر میں عبور کر لیتی ہے۔ گویا براق وہ وسعت ہے جو انسانی ادراک سے آگے بڑھ کر نبی ﷺ کے لیے یہ عالمِ بالا کا سفر ممکن بناتا ہے۔
اس سفر میں ایک ایسا منظر بھی پیش آیا جو کائناتی ادب اور غیبی حقیقت کا حسین امتزاج ہے۔ جب رسول ﷺ اور حضرت جبرائیلؑ نے پہلے آسمان کی طرف قدم بڑھایا تو دروازہ بند تھا۔ ہر آسمان پر پہنچنے سے قبل دربان حاضر ہوتا اور پوچھتا: “کون ہے؟” حضرت جبرائیلؑ نے جواب دیا، اور جب پوچھا گیا کہ ان کے ساتھ کون ہے، کہا گیا: محمد ﷺ، جنہیں اللہ نے بلا کر بھیجا ہے۔ اسی نورانی اعلان کے ساتھ دروازے کھل گئے، اور نبی ﷺ ہر آسمان میں داخل ہو کر وہاں موجود انبیاءؑ سے ملاقات فرماتے، جیسے حضرت آدم، حضرت یحییٰ و حضرت عیسیٰ، حضرت یوسف، حضرت ادریس، حضرت ہارون، حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام۔ ہر ملاقات روحانی عظمت، معرفت اور اخوتِ انبیاء کی علامت تھی۔ یہ مناظر اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ آسمانوں تک پہنچنا صرف مقام کی بلندی نہیں بلکہ اللہ کی معرفت، شناختِ نبوت اور اللہ کی رضا کی دعوت ہے۔
یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ اعلیٰ مقام تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے دل و جان کو اخلاص، تقویٰ، صبر، تحمل، معافی اور تعاون کی روشنی سے منور کرے۔ جو انسان صبر کی آگ میں اپنی خواہشات کو کھرچتا ہے، تحمل کی چھاؤں میں دوسرے کے عیبوں کو برداشت کرتا ہے، معافی کے دریا میں غرور اور دکھوں کو بہا دیتا ہے، اور تقویٰ کی روشنی میں ہر قدم اللہ کی رضا کے لیے روشن کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اپنا قرب عطا فرماتے ہیں ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسانی حدود فنا ہو جاتی ہیں، اور قلبی پاکیزگی، اخلاص اور اطاعت کی کشادگی روح کو معراج کی سمت لے جاتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ہر امتحان میں صبر، بردباری، تقویٰ اور اخلاق کی انتہا دکھائی، جس کی تابندگی آج بھی ہر مومن کے لیے رہنمائی ہے۔
شبِ معراج وہ نورانی سفر ہے جس نے محبتِ الہی، علم و حکمت اور روحانی رفعت کو ایک ساتھ سمیٹ دیا۔ یہ رات اعلان کرتی ہے کہ جو بندہ اخلاص کے ساتھ سرِ نیاز جھکا دے، جو صبر و تحمل اور تقویٰ کی انتہا دکھائے، وہ نہ صرف زمین کا مسافر بلکہ آسمانِ قرب کا مسافر بھی بن جاتا ہے۔
سرِ لا مکاں سے طلب ہوئی
سوئے منتہا وہ چلے نبی ﷺ
کوئی حد ہے ان کے عروج کی
بلغ العلا بکماله
