⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
عنوان: عصرِ حاضر کی عورت اور معاشرتی تقاضے
ازقلم: سعید فاطمہ
عصرِ حاضر کی عورت تعلیم یافتہ، شعور یافتہ اور خودمختار نظر آتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے اردگرد معاشرتی رویے اب بھی صدیوں پرانے بوجھ کے ساتھ موجود ہیں۔ ہم ترقی کی بات کرتے ہیں، مگر عورت کو ابھی بھی پرانی سوچ کے سانچوں میں پرکھا جاتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایک عام منظر ہے: ایک بڑی عمر کی لڑکی، جو اپنے چھوٹے بھائی سے زیادہ سمجھدار ہے، اسے بھائی کے ساتھ بھیجا جاتا ہے کہ وہ “محافظ” کرے، اور وہ لڑکی اس کے پیچھے چلتی ہے۔ یہ منظر معصوم لگتا ہے، مگر اس کے پیچھے ایک خاموش پیغام چھپا ہے: لڑکی کمزور ہے جسے اپنا خیال رکھنا نہں آتا اور لڑکا برتر۔ یہ سوچ بچپن سے ہی ذہنوں میں وہ بیج بوتی ہے جو بعد میں عدم مساوات اور خود اعتمادی کی کمی کا سبب بنتا ہے۔ عصرِ حاضر کا تقاضا ہے کہ لڑکیوں میں یہ اعتماد پیدا کیا جائے کہ وہ خود اپنا خیال رکھ سکتی ہیں، فیصلے کر سکتی ہیں اور خود مختار ہو سکتی ہیں۔ لڑکوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عزت اور برتری جنس سے نہیں، کردار سے تعلق رکھتی ہے۔
مشکلات صرف بچپن تک محدود نہیں رہتیں۔ شادی اور گھریلو زندگی کے بعد دباؤ اور بڑھ جاتا ہے۔ میری ایک ساتھی اُستاذہ نے ایک دن آنکھوں میں آنسو لیے کہا: “میں اسکول سے تھکی ہوئی گھر واپس آئی، بستر پر لیٹی ہی تھی کہ ساس نے کہا: یہ رضائی سی دو۔ میرا جسم ٹوٹا ہوا تھا، دل بھاری تھا، مگر میں فوراً اٹھ گئی اور سلائی شروع کر دی۔” یہ واقعہ صرف ایک فرد کا نہیں، بلکہ لاکھوں عورتوں کی خاموش قربانی کی عکاسی کرتا ہے۔
عصرِ حاضر کی عورت کو نہ صرف تعلیم اور روزگار کے مواقع دیے جائیں، بلکہ معاشرہ اسے آرام، سہولت اور تعاون بھی فراہم کرے۔ ساتھ ہی عورت کو اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کا بھی شعور ہونا چاہیے۔ اگر خاندان اسے آزادی اور سپورٹ دے رہا ہے، تو اسے اس آزادی کا مثبت استعمال کرنا ہوگا۔ اسلام نے عورت کو جو حقوق دیے ہیں: تعلیم، ملکیت، معاشی خود کفالت، رائے دہی اور احترام، وہ کافی ہیں۔ ہمیں نہ زیادہ حقوق کی خواہش کرنی ہے اور نہ کم؛ صرف وہ حقوق جو دین نے دیے ہیں۔
عصرِ حاضر کی عورت جب تعلیم، اعتماد، شعور اور مثبت رویے کے ساتھ اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کو سمجھ کر آگے بڑھے گی، تو نہ صرف اپنی زندگی سنوارے گی بلکہ پورا معاشرہ ترقی، احترام اور توازن کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔
نوٹ
یہ کالم / تحریر محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔
انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
