⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
بےروزگاری اور نوجوان کا مستقبل
نوجوانی زندگی کا وہ روشن دور ہے جب انسان کے دل میں خواب، آنکھوں میں چمک اور قدموں میں آگے بڑھنے کی جستجو ہوتی ہے۔ یہ عمر صرف خواہشوں کی نہیں ، بلکہ ارادوں کی ہوتی ہے، جس میں انسان اپنے لیے کچھ بننے، خاندان کو سہارا دینے اور ملک کی خدمت کرنے کا جذبہ رکھتا ہے۔ مگر جب یہی نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار کی تلاش میں ہر طرف دروازے بند پاتا ہے، تو اُس کے اندر کی روشنی ماند پڑنے لگتی ہے۔ آج ہمارے ملک کا المیہ یہی ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوان روزگار کی کمی، نظام کی ناانصافی اور مواقع کی غیر منصفانہ تقسیم کا شکار ہیں۔ لاکھوں نوجوان ڈگریوں سمیت نوکری کے سوال پر صرف خاموش رہ جاتے ہیں اور یہ خاموشی ٹوٹے خوابوں کی کہانی سناتی ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں میرٹ کی جگہ سفارش اور قابلیت کی جگہ تعلقات نے لے لی ہے۔ ایک عام محنتی نوجوان کے لیے یہ نظام بند گلی بن چکا ہے، جہاں ہر موڑ پر مایوسی کھڑی ہے۔ اگر کہیں موقع ملے بھی تو وہاں ایسے ہنر کا تقاضا ہوتا ہے جو ہمارے تعلیمی ادارے سکھاتے ہی نہیں۔ طالب علم کچھ اور سیکھتے ہیں اور عملی میدان میں اُن سے کچھ اور مانگا جاتا ہے۔ تعلیم اور روزگار کے درمیان یہ خلا نوجوانوں کو الجھن، پریشانی اور ذہنی دباؤ میں مبتلا کر رہا ہے۔ وہ نہ صرف معاشی طور پر پیچھے رہ جاتے ہیں، بلکہ خوداعتمادی سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کئی نوجوان مایوسی کا شکار ہو کر اپنے خوابوں سے منہ موڑ لیتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا نوجوانوں کےلیے ہر دروازہ بند ہے؟ ہرگز نہیں! اگر حالات مشکل ہیں تو نوجوانوں میں حوصلہ بھی موجود ہے۔ اب صرف نوکری کے انتظار کی بجائے خود روزگار کی طرف قدم بڑھانا ہوگا۔ انٹرنیٹ، فری لانسنگ، آن لائن بزنس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور دیگر شعبے اُن نوجوانوں کے لیے نئے دروازے کھول رہے ہیں جو سیکھنے اور محنت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ آج کا نوجوان اگر ہنر سیکھے اور خود پر یقین رکھے تو کسی پر انحصار کیے بغیر کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ حکومت اور ادارے صرف وعدے نہ کریں، بلکہ عملی سہارا دیں۔ آسان شرائط پر قرضے، ہنر سکھانے کے ادارے اور رہنمائی کے پلیٹ فارم نوجوانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر سکتے ہیں۔
میں آخر میں صرف یہ کہنا چاہوں گا کہ اگر ہم نے اُنہیں ہنر، اعتماد اور موقع دیا تو یہی نوجوان ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں، لیکن اگر ہم نے اُنہیں نظرانداز کیا تو مایوسی صرف ایک فرد کی نہیں، بلکہ پوری قوم کی شکست بن جائے گی۔ نوجوانوں کو سنوارنا صرف حکومتی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہم سب کا فرض ہے۔ ہمیں اُنہیں یہ یقین دلانا ہوگا کہ وہ تنہا نہیں اور اُن کے خواب صرف اُن کے نہیں، بلکہ اس ملک کا مستقبل ہیں۔
