⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
چورن اور زندگی
یہ کونسی کیفیت ہے جب آپکے پاس خیالات کا انبار ہو کاغذ قلم سامنے موجود ہو وقت بھی میسر ہو دل بھی کہتا ہے لکھا جائے جسمانی قوت بھی کچھ کرنے کو بے قرار ہو, انگلیاں قلم کو تھامے 360 کی سپیڈ سے دوڑنے کی سکت رکھتی ہوں مگر ایک دماغ ہے اپنا ڈھکوسلہ لیے سبھی کے آڑے آ جاتا ہے یہ گستاخ جمہوریت اسقدر بدتمیز ہے اقلیت میں ہونے کے باوجود اکثریت کا فیصلہ ماننے سے انکاری ہے اس فرد واحد نے پورے ہاؤس کو یرغمال بنایا ہوا ہے میں نے یہ سارا منظر اپنی اندھی آنکھوں سے دیکھا بہرے کانوں سے سنا اپنے زنجیر میں قید ہاتھوں سے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی اک بے معنی سی کوشش کی مگر میں کچھ بھی نہیں کر پایا روندھے ہوئے گلے سے خشکی کے مارے لہجے میں ہمت کر لی آخرکار اسکے قریب جا کر اسکے اطراف کا جائزہ لیا وہ اپنے سینے پر ماتم اور سر میں خاک ڈال رہا ہے اسی اثناء باہر سے کچھ شور سنائی دیا میں نے اپنے کانوں کا رخ اس طرف موڑا تو, مارو مارو کافر کافر,
غدار کی سزا سر تن سے جدا کے فلک شگاف نعرے میرے کانوں میں داخل ہو کر تپتے ہوئے سیسے کی طرح محسوس ہو رہے تھے, پیٹ میں بھوک سے چوہے ناچنے کی بجائے میرا منہ نوچ رہے تھے کوئی پتھر سے ادھر سے تو کوئی اینٹ کا روڑا کدھر سے مجھے آ کر لگا ابھی ان سے بچ بچا کر ہی رہا تھا منہ نیچے کی طرف کیا تو پانی میں ڈبکی محسوس ہوئی سانس نکل جاتی تو بھلا ہوتا مگر بدبخت تھی کہ گلے میں اٹکی ہوئی تھی,
باہر سے اخبار والے آواز آئی آ گیا آج کا تازہ شمارہ ” ضمیر کی عدالت ” جلدی سے بیدار ہوا, دروازے پر پہنچا اخبار خریدا واپس اندر آیا, ناشتہ کیا, اخبار پڑھنے لگا, اخبار کی پیشانی کے درمیان اور عدالت کے ترازو کے عین نیچے تین کالمی خبر لگی تھی عاشقوں نے بدبخت گستاخ کو نشان عبرت بنا کر اپنی آخرت سنوار لی
