قلم کی قیمت اور مقامی صحافت کا قرض

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

قلم کی قیمت اور مقامی صحافت کا قرض



گلگت بلتستان کی سرزمین پہاڑوں کے بیچ پلنے والے لوگ خاموش ضرور ہیں مگر ان کے دلوں میں ایسا درد اور شعور چھپا ہے جو کاغذ پر اتر کر ہر قاری کو چونکا سکتا ہے۔ یہی وہ اہلِ قلم ہیں جو اس خطے کے اصل نمائندے ہیں۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کے قلم کی قیمت آج تک نہ پہچانی گئی، نہ ہی ان کی محنت کو وہ مقام دیا گیا جو انہیں ملنا چاہیے۔
یہ ایک تلخ مگر ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان کے کئی اخبارات جو روزانہ لاکھوں روپے کماتے ہیں، اپنے ہی علاقے کے لکھاریوں کو چند ہزار روپے کا معاوضہ دینے سے کتراتے ہیں۔ کچھ تحقیقات اور انکشاف کے مطابق گلگت بلتستان کا ایک اخبار اوسطاً مہینے کا تیس سے چالیس لاکھ روپے کماتا ہے۔ یہ سن کر ذہن میں سوال اٹھتا ہے کہ جب ایک اخبار اتنی بڑی کمائی کر رہا ہے تو مقامی رائٹر کو کم از کم تیس ہزار روپے ماہانہ دینا کون سا ناممکن کام ہے؟ اصل میں یہ محض غفلت نہیں بلکہ مقامی صحافت کے ساتھ ناانصافی ہے، جسے بدلنے کی ضرورت ہے۔
اخبارات کسی بھی معاشرے کی آنکھ اور زبان ہوتے ہیں۔ ان کا اصل مقصد لوگوں کے مسائل کو اجاگر کرنا اور سچائی کو قاری تک پہنچانا ہے۔ لیکن اگر مقامی اخبارات مقامی مسائل اور مقامی لکھاریوں سے روگردانی کریں تو ان کا وجود محض کمرشل کاروبار بن کر رہ جاتا ہے۔ گلگت بلتستان کے اخباروں کے صفحات پر جب کسی دوسرے شہر یا ملک میں بیٹھے لکھاری کے کالم چھپتے ہیں تو وہ نہ تو اس خطے کے اصل دکھ درد سے واقف ہوتا ہے اور نہ ہی وہ مقامی جذبات کی ترجمانی کر سکتا ہے۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر اخبار میں شائع ہونے والے اداریے اور کالم زیادہ سے زیادہ مقامی لکھاریوں سے لکھوائے جائیں۔
اگر ہر صحافی اور کالم نگار کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے علاقے کے مسائل، معیشت، معاشرت، ماحولیات اور مقامی ترقی کے موضوعات پر لکھے تو اخبارات کو اصل لوکل ایشوز پر مبنی معیاری تحریریں میسر آئیں گی اور قارئین کو بھی اپنی زمین سے جڑی سچائی تک رسائی ہوگی۔ یہ صرف اخبارات کے لیے فائدہ نہیں بلکہ عوامی شعور کے لیے بھی ایک روشن راستہ ہوگا۔ اس مقصد کے لیے اخبارات یونین اور رائٹرز ایسوسی ایشن گلگت بلتستان کے درمیان باقاعدہ معاہدہ (MoU) وقت کی ضرورت ہے۔ ایسا معاہدہ نہ صرف مقامی لکھاری کی محنت کا حق دلائے گا بلکہ صحافت کے اس بنیادی اصول کو بھی مضبوط کرے گا کہ خبروں اور تجزیوں کا تعلق اسی زمین سے ہونا چاہیے جس کے باسیوں کے لیے وہ لکھے جا رہے ہیں۔
گلگت بلتستان کے یہی لکھاری صرف مقامی سطح تک محدود نہیں بلکہ نیشنل اور انٹرنیشنل پلیٹ فارمز پر بھی اپنی شناخت بنا چکے ہیں۔ یہ اہلِ قلم پاکستان کے بڑے مسائل، عالمی سیاست، ماحولیاتی تبدیلیوں، معیشت اور سماجی ارتقا جیسے حساس موضوعات پر گہری تحقیق کے ساتھ لکھتے ہیں۔ ان میں کئی نام ایسے ہیں جنہوں نے بین الاقوامی جرائد میں اپنی تحقیق اور کالمز کے ذریعے پاکستان کا مقدمہ دنیا کے سامنے رکھا۔ ہماری انٹرنیشنل رائٹرز ایسوسی ایشن اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ گلگت بلتستان کے لکھاری کسی بھی بڑے فورم پر اپنی صلاحیت منوانے کی بھرپور اہلیت رکھتے ہیں۔ اس ایسوسی ایشن میں شامل لکھاریوں کی فہرست خود اس خطے کے علمی تنوع کا آئینہ دار ہے۔
یہاں سیاسی کالم لکھنے والے ہیں جو ملکی اور علاقائی سیاست پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔ معاشی اور معاشرتی موضوعات پر لکھنے والے اہلِ قلم ہیں جو معیشت کے نشیب و فراز اور سماج کی بدلتی قدروں کا تجزیہ کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے مصنف موجود ہیں جو افسانے اور ناول کے ذریعے انسانی جذبات اور معاشرتی مسائل کو ادبی انداز میں پیش کرتے ہیں۔ فلمی اسکرپٹ لکھنے والے، فیچر رائٹرز، تحقیقی مقالہ نگار اور تخلیقی کہانی کار بھی اس کمیونٹی کا حصہ ہیں۔ یہ سب لوگ اپنی تحریروں کے ذریعے نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر گلگت بلتستان کے نام کو روشن کر رہے ہیں۔
ایسے میں یہ سوال اور زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ جب ہمارے پاس اتنی بڑی فکری طاقت موجود ہے تو مقامی اخبارات باہر کے کالم نگاروں پر انحصار کیوں کرتے ہیں؟ یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ گلگت بلتستان کے کئی اخبارات اپنے صفحات کو بھرنے کے لیے جنگ، دنیا، اوصاف، ایکسپریس اور ڈیلی کے ٹو جیسے قومی اخبارات کے شائع شدہ کالم دوبارہ چھاپتے ہیں۔ اس عمل سے مقامی صحافت کے وجود پر سوالیہ نشان لگتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف اہلِ قلم کی توہین ہے بلکہ قاری کے ساتھ بھی زیادتی ہے، کیونکہ قاری اپنے علاقے کی اصل کہانی پڑھنے آتا ہے، نہ کہ باہر کے شہروں کے خیالات۔
گلگت بلتستان کے اخبارات اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں۔ وہ صرف کمرشل منافع کو مقصد نہ بنائیں بلکہ اپنی اصل روح یعنی مقامی عوام کی آواز بننے کی ذمہ داری نبھائیں۔ مقامی لکھاریوں کو ترجیح دیں، ان کی تحریر کی قیمت ادا کریں اور کم از کم تیس ہزار روپے ماہانہ معاوضہ مقرر کریں۔ یہ رقم اخبارات کی کمائی کے مقابلے میں بہت معمولی ہے مگر اس سے اہلِ قلم کی زندگی بدل سکتی ہے۔ اسی طرح قومی اخبارات کو بھی چاہیے کہ وہ گلگت بلتستان کے لکھاریوں کی محنت، تحقیق اور حقائق پر مبنی کالمز کو اہمیت دیں تاکہ یہ خطہ قومی دھارے میں فکری طور پر بھی شامل ہو۔
یہ قدم نہ صرف صحافت کی ساکھ کو بلند کرے گا بلکہ گلگت بلتستان کے عوام کی اصل آواز ہر گھر تک پہنچائے گا۔ وہ لکھاری جو آج خاک چھان کر دن گزارتا ہے، اس کی تحریر کا وزن اور وقار بحال ہوگا۔ یہ اقدام نہ صرف مقامی صحافت کے معیار کو بہتر بنائے گا بلکہ نئے لکھنے والوں کے لیے بھی حوصلہ افزائی کا باعث بنے گا۔ جب نوجوان دیکھیں گے کہ قلم کو عزت اور قیمت ملتی ہے تو وہ بھی اس راستے پر آئیں گے، اور یوں ایک نیا فکری انقلاب جنم لے گا۔
ایک ایسا معاشرہ ہی دنیا میں عزت پاتا ہے جو اپنے اہلِ قلم کا وقار پہچانتا ہے اور ان کے لفظوں کی حرمت قائم رکھتا ہے۔ گلگت بلتستان کے اخبارات اگر واقعی اپنے خطے کی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ اس فکری خزانے کو ضائع نہ ہونے دیں۔ مقامی لکھاری کی ہر تحریر ایک چراغ ہے جو اندھیروں کو کم کر سکتا ہے۔ قلم کی یہ روشنی ہی اس علاقے کی اصل طاقت ہے، اور یہ طاقت تبھی محفوظ رہ سکتی ہے جب اسے وہ مقام اور وہ قیمت دی جائے جس کی وہ حقیقی معنوں میں مستحق ہے۔
یہ صرف اخبارات کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرتی بیداری کی تحریک بھی ہے۔ جب ہم سب مل کر اس مطالبے کی حمایت کریں گے کہ مقامی لکھاری کو کم از کم تیس ہزار روپے ماہانہ معاوضہ دیا جائے، تو یہ نہ صرف ایک تحریری فیصلہ ہوگا بلکہ ایک تاریخی قدم بھی۔ یہ اقدام آنے والی نسلوں کے لیے یہ پیغام بنے گا کہ گلگت بلتستان میں قلم کی حرمت پہچانی گئی، اس کی قدر کی گئی اور اسے وہ عزت دی گئی جس کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔
یہی وقت ہے کہ ہم اپنے اہلِ قلم کے حق میں آواز بلند کریں اور مقامی صحافت کو اس کے اصل راستے پر لے کر آئیں۔ کیونکہ جب قلم کو عزت ملتی ہے تو سچائی کو راستہ ملتا ہے، اور جب سچائی عام ہوتی ہے تو معاشرہ خودبخود ترقی کی طرف بڑھتا ہے۔ گلگت بلتستان کے لکھاری اس روشنی کے علمبردار ہیں—انہیں پہچاننا، انہیں عزت دینا اور ان کی محنت کا معاوضہ دینا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ یہی راستہ اس خطے کے فکری اور تہذیبی مستقبل کو روشن کرے گا۔

  • یاسر دانیال صابری گلگت بلتستان کے معروف افسانہ نگار، شاعر اور صحافی ہیں۔ کئی برسوں سے قومی اور بین الاقوامی اخبارات میں لکھتے ہوئے آپ نے نہ صرف مقامی عوام کے مسائل اور سماجی حقائق کو اجاگر کیا بلکہ اپنی تخلیقی تحریروں کے ذریعے گلگت بلتستان کی ثقافت اور احساسات کو ایک نئی پہچان دی۔ بطور شاعر آپ کے اشعار محبتِ انسانیت، فطرت اور امن کا پیغام دیتے ہیں، اور بطور افسانہ نگار آپ کی کہانیوں میں معاشرتی سچائی اور جذبات کی گہرائی جھلکتی ہے۔ آپ کا یہ معروف شعر— "جو دوسروں کو پیار دیتا ہے، رب بھی اس کو نکھار دیتا ہے" —آپ کی فکر اور شخصیت کی مکمل عکاسی کرتا ہے۔ یاسر دانیال صابری آج کے عہد میں ادب، صحافت اور افسانہ نگاری کا معتبر نام ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *