پانی بہہ گیا، مگر زخم رہ گئے: سیلاب اور نفسیاتی المیہ

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

پانی بہہ گیا، مگر زخم رہ گئے: سیلاب اور نفسیاتی المیہ


گزشتہ دنوں ملک کے مختلف علاقوں میں آئے سیلاب نے نہ صرف زمین اور فصلوں کو تباہ کیا بلکہ لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو بھی جکڑ لیا ہے۔ جہاں کہیں بھی پانی نے راج کیا، وہاں کے خواب، امیدیں، یادیں اور زندگی کے تمام تقاضے بہہ گئے۔ ایسے میں صرف ایک خبر نہیں بلکہ ایک انسان کی داستان ہے، جو ہر گھر، ہر گاؤں، ہر دل میں دہرا درد چھوڑ گئی ہے۔کہنے کو تو سیلاب کے ریلے کے بارے میں خبریں آتی رہتی ہیں، مگر کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ یہ پانی کتنے خواب، کتنی قربانیوں، کتنے سالوں کی محنت کو اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے؟
جب گاؤں میں سیلابی ریلے کا اعلان ہوتا ہے، تو وہاں کے لوگ اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ مائیں اپنے بچوں کی تعلیم کے سرٹیفیکیٹس کو ہاتھوں میں اٹھاتی ہیں، جو سالوں کی محنت کی گواہی دیتے ہیں۔ وہ مائیں جو بیٹیوں کے جہیز کے سامان کو ایک لکڑی کے صندوق میں سنبھال کر رکھتی تھیں، اسے چھوڑ کر جانا ان کے لیے ناگزیر مگر انتہائی تکلیف دہ عمل ہوتا ہے۔گھر کے کمرے، کپڑے، برتن، اور وہ سونا چاندی کی انگوٹھی جو بیٹی کے لیے رکھی گئی تھی، سب کچھ پانی کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ یادوں کے یہ قیمتی سامان اور آنسوؤں کے ساتھی بے دست و پا ہو جاتے ہیں۔ سیلاب کی تباہ کاری کے درمیان غریب خاندان خاص طور پر دوہری پریشانی کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ ان کے پاس دوبارہ سب کچھ حاصل کرنے کی سکت بہت کم ہوتی ہے۔
سیلاب کی تباہ کاری صرف مادی نقصان نہیں بلکہ جذباتی اور نفسیاتی زخم بھی چھوڑتی ہے۔ ایک عام ماں کی نظر جب اپنے گھر کو خالی کرتے ہوئے اپنے بچے کی تعلیم کی سند، بیٹی کے جہیز کا صندوق، اور گھر کے چند جانوروں کو چھوڑ کر جانے پر رک جاتی ہے، تو یہ لمحہ صبر و استقامت کی انتہا ہوتا ہے۔
وہ گائے جو دودھ دیتی ہے اور گھر کا چولہا گرم رکھتی ہے، وہ دانوں کا بھڑولہ جس میں فصل کی محنت سے حاصل شدہ اناج رکھا ہوتا ہے، یہ سب چیزیں ان کے روزمرہ کے سہارا ہیں۔ ان چیزوں کو چھوڑنا ایسے ہے جیسے زندگی کی ایک اہم کڑی ٹوٹ جائے.
سیلاب صرف پانی کا زور نہیں بلکہ ایک قوم کے خوابوں، امیدوں اور یادوں کا بہاؤ ہے۔ جہاں متاثرہ خاندانوں کی کہانیاں سن کر دل دہل جاتا ہے۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہم مستقبل میں ایسی آفات سے کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ یہ کام صرف حکومت کا نہیں، بلکہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ ماحول کا تحفظ کرے، قدرتی وسائل کی حفاظت کرے، اور اپنے علاقے کی صفائی کا خیال رکھے۔اسی طرح، ہمیں متاثرین کے ساتھ ہمدردی کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا، تاکہ وہ مایوسی کے اندھیروں سے نکل کر ایک نیا سورج دیکھ سکیں۔ یاد رکھیں، ہر چھوٹا قدم ایک بڑی تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
سیلاب کے بعد نفسیاتی مسائل اکثر نظر انداز ہو جاتے ہیں، حالانکہ یہ متاثرین کی زندگی پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں، جو مادی نقصان سے بھی زیادہ دیرپا ہو سکتے ہیں۔سیلاب سے متاثرہ افراد، خاص طور پر بچے، خواتین اور بزرگ، ایک طویل عرصے تک خوف اور غیر یقینی کی کیفیت کا شکار رہتے ہیں۔سیلاب ختم ہو جاتا ہے، پانی واپس چلا جاتا ہے، لیکن جو زخم دل و دماغ پر لگتے ہیں، وہ سالوں تک رہ جاتے ہیں۔اگر ہم صرف متاثرین کے جسمانی مسائل کو دیکھیں اور ذہنی مسائل کو نظرانداز کریں، تو ہم بحالی کا صرف آدھا کام کر رہے ہیں۔صرف راشن، کپڑے، اور خیمے دینے کو مدد سمجھتے ہیں، مگر متاثرہ افراد کی ذہنی صحت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔جب کوئی شخص اچانک اپنے گھر، مال مویشی، جمع پونجی اور تحفظ کھو دے، تو اس کے ذہن پر جو اثر پڑتا ہے وہ شدید ہوتا ہے۔ متاثرین اکثر کہتے ہیں:
پانی تو چلا گیا، مگر ہمیں رات کو نیند نہیں آتی ، لگتا ہے دوبارہ کچھ چھن جائے گا۔”
سیلاب زدہ علاقوں کے بچے اکثر احساسِ محرومی، ذہنی خوف، تعلیمی خلا، اور جذباتی بے یقینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ کھیلنا، سیکھنا اور خوش ہونا بھول جاتے ہیں۔ ایسے بچوں کو بحال کرنا صرف جسمانی صحت نہیں بلکہ ذہنی تربیت کا بھی تقاضا کرتا ہے۔
خواتین پر سیلاب کے بعد کا اثر دوہرا ہوتا ہے۔ ایک طرف وہ گھر، بچوں اور سامان کے نقصان پر غمگین ہوتی ہیں، دوسری طرف عزت، تحفظ اور صحت کے مسائل سے دوچار ہو جاتی ہیں۔بزرگ افراد، جن کی پوری زندگی ایک گھر اور زمین سے جڑی ہوتی ہے، ان کے لیے اس سب کچھ کا کھو دینا جذباتی موت جیسا ہوتا ہے۔
فیلڈ میں کام کرنے والی NGOs کو چاہیے کہ طبی کیمپ کے ساتھ نفسیاتی کیمپ بھی لگائیں۔متاثرہ علاقوں کے اسکولوں میں بچوں کے لیے نفسیاتی کونسلنگ کا بندوبست ہو تاکہ ان کے ذہن سے خوف نکالا جا سکے۔میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعےشعور اجاگر کیا جائے کہ ذہنی صحت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ جسمانی صحت۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *