دو دن سے کوہالہ پل پر بکوٹ والوں کا احتجاج

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

دو دن سے کوہالہ پل پر بکوٹ والوں کا احتجاج جاری ہے مگر اس سے پاکستان حکومت پر کوئی دباؤ نہیں بنتا اصل تکلیف تو کشمیری عوام کو مل رہی ہے جن کا مرکزی راستہ دو دن سے بند ہے مریض اسپتال نہیں پہنچ پا رہے طلبہ کی تعلیم متاثر ہے اور روزگار رک چکا ہے ہم کشمیری جب احتجاج کرتے ہیں تو پوری ڈویژن جام کرتے ہیں، وہ بھی اُس وقت جب مطالبات مظفرآباد سے منوانے ہوں کوہالہ تب بند کیا جاتا ہے جب فیصلہ ساز مظفرآباد میں ہوں نہ کہ اسلام آباد میں بکوٹ والوں کے راستہ بند کرنے سے نہ اسلام آباد ہلتا ہے نہ پالیسی بدلتی ہے صرف کشمیریوں کی مشکلات بڑھتی ہیں۔
ہم کشمیری آپ کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ نے اپنی سمت غلط چنی ہے۔ آپ اپنے مطالبات کے لیے اپنے ہی ضلع کو کھول کر بیٹھے ہیں اور کشمیریوں کا مرکزی راستہ بند کر رکھا ہے۔ یہ طریقہ احتجاج نہیں، اگر واقعی مطالبات اسلام آباد سے منوانے ہیں تو رُخ بھی اسلام آباد کی طرف کریں۔ طاقت تب اثر دکھاتی ہے جب اسے صحیح جگہ استعمال کیا جائے، نہ کہ وہاں جہاں پہلے سے ہی محروم لوگ مزید تکلیف میں ڈالے جائیں۔

یہ کالم / تحریر محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔
انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *