داستاں اپنی شروع اک شوق کے اقرار سے

داستاں اپنی شروع اک شوق کے اقرار سے

ختم لیکن ہو رہی ہے بر ملا انکار سے

ہم نے تو سونپی تھی خوشبو کے حوالے زندگی

پھر بھی دامن بھر گیا کیوں وقت کے اس خار سے

تھا یقیں جس پر ہمیں اپنی محبت سے سوا

وہ ملا ہے اجنبی بن کر بڑے پندار سے

تیرگی کے اس سفر میں ہم بھی ٹھہرے بے خبر

لو جلا بیٹھے تھے ہم تو سایۂ دیوار سے

اب پشیماں ہیں بہت اپنی انا کے سامنے

ہار مانی ہے ہم ہی نے جیت کے معیار سے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *