داستاں اپنی شروع اک شوق کے اقرار سے
ختم لیکن ہو رہی ہے بر ملا انکار سے
ہم نے تو سونپی تھی خوشبو کے حوالے زندگی
پھر بھی دامن بھر گیا کیوں وقت کے اس خار سے
تھا یقیں جس پر ہمیں اپنی محبت سے سوا
وہ ملا ہے اجنبی بن کر بڑے پندار سے
تیرگی کے اس سفر میں ہم بھی ٹھہرے بے خبر
لو جلا بیٹھے تھے ہم تو سایۂ دیوار سے
اب پشیماں ہیں بہت اپنی انا کے سامنے
ہار مانی ہے ہم ہی نے جیت کے معیار سے
-
رشنا اختر ایک بہترین لکھاری ہیں ۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کی سوشل میڈیا انچارج اور مظفر گڑھ سے صدر ہیں ۔ گاہے بگاہے لکھتی رہتی ہیں اور انٹرویوز بھی کرتی ہیں۔
ان کی مزید تحاریر پڑھیں
