چاہتوں کے موسم میں ہم بھی مسکراۓ ہیں

​چاہتوں کے موسم میں ہم بھی مسکرائے ہیں

تیری یاد کے تارے دل میں جگمگائے ہیں

​ہجر کی تپش اب کے رت بدل کے آئی ہے

ہم نے وصل کے بادل آنکھوں میں چھپائے ہیں

​وقت کی لکیروں پر عکسِ یار باقی ہے

خواب کی حویلی میں نقش ہم نے پائے ہیں

​زندگی کی راہوں میں دھوپ کا سفر بھی تھا
سایۂ تمنا میں دن کئی بتائے ہیں

​لکھ رہی ہے اب رشناؔ داستاں محبت کی

لفظ کے گلستاں میں پھول ہم نے لگاۓ ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *