مدحتِ خیر الورٰی وردِ زباں رہنے دیا

مدحتِ خیر الورٰی وردِ زباں رہنے دیا

دل کو مَیں نے شہرِ طیبہ کا مکاں رہنے دیا

​اُن کے روضے کی سنہری جالیوں کے سامنے

حسرتوں کو مَیں نے محوِ بیاں رہنے دیا

​اُن کی چوکھٹ کے سوا اب اور جائے گی کہاں

خود کو مَیں نے بے زمیں و آسماں رہنے دیا

​ذکرِ شاہِ دو جہاں سے بزم روشن ہو گئی

مَیں نے ہر سُو رحمتوں کا اک سماں رہنے دیا

​یا نبی! رکھیے بھرم محشر میں اِس ناچیز کا

عشق کو مَیں نے متاعِ دو جہاں رہنے دیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *