نظم

زمزمه‌ای از یک شب


(ایک رات کی سرگوشی)

او عشق را در گوشم زمزمه کرد
(اس نے میرے کانوں میں محبت کا فسوں پھونکا تھا)

سپس قسم خورد که برای همیشه با هم باشیم
(پھر سدا ساتھ رہنے کی قسم کھائی تھی)

سپس قول داد که برای همیشه دست در دست هم باشیم
(پھر سدا ہاتھ میں ہاتھ ہونے کا وعدہ کیا تھا)

من دختر خیلی زیبایی هستم.
(میں بہت حسین لڑکی!)

اما وقتی صبح شد
(لیکن جب صبح ہوئی)

او به یاد آورد
(تو اسے یاد آیا)

دست‌ها، پاها، رنگ پوست، ظاهر من،
در مقیاس محاسبه او نمی‌گنجید

(میرے ہاتھ،پیر،رنگ ،روپ،اس کے
حساب کے پیمانے میں نہیں آتے تھے)

او وعده‌های ملاقات را برای کاری مهم به تعویق انداخته بود

(ملنے کے وعدے اس نے کسی ضروری کام کی خاطر ٹال دئیے تھے)

او حسابدار بسیار خوبی بود
(وہ بڑا اچھا حساب دان تھا)

من معتقدم
(میں مانتی ہوں)

او می‌دانست چگونه همه چیز را از زمان خود تا قلبش محاسبه کند
(اسے اپنے وقت سے لے کر
دل تک
ہر چیز کی کیلکولیشن بہت اچھی طرح آتی تھی)

من، یک دختر روستایی،
(میں دیہاتی لڑکی )

در کنار کانال نشسته بودم و منتظر آب
بودم

(نہر کے کنارے پانی کا انتظار کرتے)

من در گلدان غرق شده بودم!!

(گھڑا ڈبو بیٹھی تھی)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *