⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
بے لوث خدمت کا صلہ
انسان کی فطرت بھی عجیب ہے۔ جب تک اسے کسی کی ضرورت ہو وہ آپ کی موجودگی کو نعمت سمجھتا ہےـ آپ کے وقت کو قیمتی، آپ کی قربانی کو عظیم اور آپ کی محبت کو بے مثال قرار دیتا ہے۔ مگر جیسے ہی اس کی ضرورت پوری ہوتی ہے وہی انسان آپ کو اس طرح نظرانداز کر دیتا ہے جیسے آپ کبھی اس کی زندگی کا حصہ ہی نہ رہے ہوں۔آپ کسی کے لیے دن رات ایک کر دیں، اپنی نیندیں قربان کر دیں، اپنی مصروفیات چھوڑ دیں، اپنی خواہشات کو پسِ پشت ڈال دیں، حتیٰ کہ کبھی کبھی خود کو بھی بھلا بیٹھیں، مگر اس کے باوجود ضروری نہیں کہ آپ کی نیت، خلوص اور قربانی کو سمجھا جائے۔سب سے زیادہ تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب انسان کو احساس ہوتا ہے کہ جس شخص کے لیے اس نے اپنی توانائیاں، وقت اور جذبات صرف کیے، وہ اسے ایک انسان نہیں بلکہ ایک ضرورت سمجھتا رہا۔ضرورت ختم ہوئی تو تعلق بھی ختم۔یہ رویہ بسا اوقات انسان کو اندر سے توڑ دیتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ آخر میری کمی کہاں تھی؟ میں نے تو اپنا سب کچھ دے دیا تھا۔ میں نے تو کبھی حساب نہیں مانگا۔ میں نے تو بدلے میں کچھ نہیں چاہا تھا۔ پھر میرے حصے میں بے اعتنائی کیوں آئی؟مگر شاید مسئلہ آپ کی اچھائی میں نہیں دوسروں کی عادت میں ہوتا ہے۔کچھ لوگ محبت کے عادی نہیں ہوتے صرف فائدہ اٹھانے کے عادی ہوتے ہیں۔ انہیں آپ کی قربانی اس وقت تک نظر آتی ہے جب تک وہ ان کے مطلب کی ہو۔ آپ کا خلوص ان کے لیے تب تک اہم رہتا ہے جب تک اس سے ان کی ضرورت پوری ہوتی رہے۔پھر ایک دن آپ کو ایسے کنارے کر دیا جاتا ہے جیسے استعمال شدہ ٹشو پیپر کو پھینک دیا جاتا ہے۔یہ لمحہ انسان کو ایک بہت بڑا سبق دیتا ہے ـہر کسی کے لیے خود کو ختم مت کیجیے۔خدمت کیجیے مگر اپنی ذات کی قیمت پر نہیں۔ محبت کیجیے مگر اپنی عزتِ نفس قربان کرکے نہیں۔ کسی کا سہارا بنیے مگر اتنا نہیں کہ آپ خود سہارے کے محتاج ہو جائیں۔کیونکہ جو شخص آپ کی موجودگی کو صرف اپنی ضرورت کے وقت یاد کرتا ہے وہ آپ کا مخلص نہیں آپ کی سہولت کا عادی ہے۔زندگی میں سب سے بڑی غلطی یہ نہیں کہ ہم نے کسی کے لیے بہت کچھ کیا اصل غلطی یہ ہے کہ ہم نے یہ توقع کر لی کہ سامنے والا بھی ہمارے خلوص کو اسی نظر سے دیکھے گا۔یاد رکھیے ہرر بیج کا پھل اسی زمین پر نہیں ملتا جہاں اسے بویا گیا ہو۔ کچھ نیکیاں لوگوں کے دلوں میں جگہ نہیں بناتیں مگر زندگی کے کسی اور موڑ پر سکون بن کر واپس آتی ہیں۔اس لیے اپنی نیکی کو لوگوں کے رویوں سے مت ناپیے۔اگر کسی نے آپ کی قدر نہیں کی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ بے قدر ہیں۔ اگر کسی نے آپ کے خلوص کو استعمال کیا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ خلوص ایک کمزوری ہے۔بس آئندہ اپنے خلوص کے ساتھ حدود بھی رکھیے۔ہر دروازے پر دستک دینا ضروری نہیں ہر شخص کے لیے خود کو مٹانا ضروری نہیں اور ہر رشتے کو بچانے کی ذمہ داری بھی صرف آپ کی نہیں ـکبھی کبھی خاموشی سے پیچھے ہٹ جانا ہی خود سے محبت کی پہلی علامت ہوتا ہےاور شاید زندگی کا سب سے تلخ مگر خوبصورت سبق یہی ہے ـجو لوگ آپ کو صرف استعمال کرنا جانتے ہیں انہیں اپنی زندگی سے نکالنے کے لیے نفرت کی ضرورت نہیں ـ صرف اپنی قدر پہچان لینا کافی ہے۔
بے لوث خدمت ضرور کیجیے مگر اپنی ذات کو ردی کی ٹوکری نہ بننے دیجیے۔
