⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
شہر خاموشاں
کوٹ رادھا کشن، یہ میرا شہر ہے، اور شاید آپ کا بھی۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم جس شہر میں بستے ہیں، وہ اب محض اینٹ اور پتھر کی ایک بستی نہیں رہا بلکہ ایک ایسے سانحے کا استعارہ بن چکا ہے جہاں ہر روز انسانیت لہولہان ہوتی ہے، زندگیاں بجھتی ہیں اور خواب مٹی میں مل جاتے ہیں۔ صرف گزشتہ آٹھ ماہ کی بات کر لیجیے: مین روڈ، جو لاہور کی طرف جاتا ہے، اُس پر پچاس کے قریب انسان موت کی وادی میں جا چکے ہیں۔ کوئی جوان بیٹا تھا، کوئی گھر کا کفیل، کوئی امیدوں کا سہارا۔ اور تین سو سے زائد زخمی ہیں جن کی زندگیاں ہمیشہ کے لیے معذوری اور اذیت کے سائے میں گزر رہی ہیں۔ وجہ؟ ایک سنگل روڈ جس پر بھاری ٹریفک کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ فیکٹری کی بسیں، اینٹوں کے بھاری ٹرالے، اور ملتان روڈ کی تیز رفتار گاڑیاں سب ایک ہی راستے پر دوڑ رہی ہیں۔ یہ سڑک انسانی جانوں کے لیے قبرستان بن چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت کو ان حادثات کی خبر نہیں؟ کیا ضلعی انتظامیہ نے یہ لاشیں نہیں دیکھیں؟ یا پھر ان سب کی آنکھوں پر غفلت کی پٹی بندھی ہوئی ہے؟ لیکن سچ یہ ہے کہ اصل مجرم صرف حکمران نہیں، ہم خود بھی ہیں۔ کیونکہ ہم ہیں کہ اپنی آواز بلند کرنے کو تیار نہیں۔ ہم نے اپنی بے بسی کو تقدیر کا نام دے دیا ہے اور اپنی خاموشی کو عبادت سمجھ لیا ہے۔ دوسرا بڑا زخم ریلوے پھاٹک ہے۔ ایک پھاٹک جس نے ہمارے شہر کو دو حصوں میں بانٹ دیا ہے۔ ذرا سوچیے! ایک طرف اسکول جانے والے بچے، مریض کے ساتھ بھاگتا ہوا باپ، دفتر کے لیے دیر سے نکلنے والا مزدور، سب گھنٹوں اس پھاٹک پر ذلیل و خوار کھڑے رہتے ہیں۔ کبھی آدھا گھنٹہ، کبھی پورا۔ ایک انسان کی عزت نفس کی تذلیل اس سے بڑھ کر کیا ہوگی کہ وہ اپنے ہی شہر میں قیدی بن جائے؟ یہ پھاٹک ہماری روزمرہ زندگی کا سب سے بڑا جیل ہے۔ ہم نے انڈر پاس اور فلائی اوور کا مطالبہ کئی بار کیا، کبھی کوئی احتجاج ہوا، کبھی اخباری بیان آیا۔ لیکن پھر؟ پھر کسی نمائندے نے آ کر لولی پاپ دے دیا اور سب ختم ہو گیا۔ ہم اہلِ علاقہ بھی ایسے ہیں جیسے چند لمحوں کا غبار چڑھتے ہیں، شور مچاتے ہیں اور پھر بیٹھ جاتے ہیں۔ تیسری اذیت غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ہے۔ ہر ماہ کی پندرہ تاریخ کے بعد بجلی غائب ہوجاتی ہے۔ سولہ سولہ گھنٹے کے اندھیرے ہماری زندگیوں کو نگل جاتے ہیں۔ سوچیں! ایک درزی جس کی سلائی مشین بجلی کے بغیر بند ہو جاتی ہے، ایک ویلڈر جس کا روزگار چنگاریوں پر چلتا ہے، ایک ورکشاپ مالک جس کا دھندا رک جاتا ہے، ایک دکاندار جو اپنے گاہک کھو دیتا ہے، یہ سب کہاں جائیں؟ کون اُن کے بچوں کو روٹی دے گا؟ اور کیا افسوس کی بات نہیں کہ یہ لوڈشیڈنگ دراصل واپڈا افسران کی ملی بھگت اور بدعنوانیوں کو چھپانے کے لیے کی جاتی ہے؟ وہ اپنی چوریاں اور نااہلی عوام کے سروں پر ڈال دیتے ہیں اور ہم! ہم پھر بھی خاموش رہتے ہیں۔ چوتھا زخم وہ راستہ ہے جو بیرون پھاٹک سینما موڑ کو جاتا ہے۔ یہ راستہ اب راستہ نہیں رہا، بلکہ ایک دلدل ہے۔ روز ٹرک الٹتے ہیں، رکشے پھنس جاتے ہیں، موٹر سائیکلیں پھسل کر گر جاتی ہیں، اور لوگ کیچڑ میں لت پت ہو کر نکلتے ہیں۔ مناظر ایسے لگتے ہیں جیسے یہ کوئی انسانی شہر نہیں، بلکہ جانوروں کا جنگل ہے جہاں عزتِ نفس، سہولت، اور بنیادی انسانی حق سب دفن ہیں۔ لیکن ہم؟ ہم پھر بھی چپ ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ آخر ہم کیوں چپ ہیں؟ کیا یہ سب ظلم، یہ سب ذلت، یہ سب محرومیاں ہمیں دکھ نہیں دیتیں؟ یا ہم نے واقعی اپنی قسمت کو قبول کر لیا ہے؟ ہمارے آباؤ اجداد نے بھی یہ محرومیاں سہیں، ہم بھی سہ رہے ہیں اور ہماری آنے والی نسلیں بھی اسی اندھیرے میں جنم لیں گی اگر ہم نے کچھ نہ کیا۔
یاد رکھیں! حکمران کبھی اپنے آپ سے ہمارے لیے راستے نہیں بنائیں گے۔ نہ کوئی انڈر پاس خود بخود کھڑے ہوں گے، نہ لوڈشیڈنگ ختم ہوگی، نہ سڑکیں بنیں گی۔ یہ سب ہمیں اپنے حق کے لیے آواز بلند کر کے لینا ہوگا۔ اور آواز اُس وقت سنی جاتی ہے جب وہ ایک ہو، اتحاد کی آواز، تنظیم کی آواز۔
ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا۔ کیا ہم ایسے ہی حادثات میں اپنے جوان بیٹے دفناتے رہیں گے؟ کیا ہم پھاٹک پر ذلت سہتے رہیں گے؟ کیا ہم اندھیروں میں اپنے بچوں کو روتا دیکھتے رہیں گے؟ کیا ہم دلدل میں اپنے خواب ڈبوتے رہیں گے؟ یا پھر ہم ایک ہو کر، متحد ہو کر اپنے حقوق کی جنگ لڑیں گے؟ ہماری خاموشی ہی ہمارا سب سے بڑا جرم ہے۔ اگر ہم نے آج نہ بولا، تو کل ہماری اولاد ہمیں معاف نہیں کرے گی۔
