ٹیکستان

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔


ٹیکستان

ٹیکس وہ رقم ہے جو ریاست یا حکومت ورکروں کی آمدنی ، کاروباری منافع، اشیاء و خدمات کی خرید وفروخت اور لین دین پر وصول کرتی ہے ۔ ایک دوسری تعریف میں ٹیکس وہ معاوضہ ہے جو ریاست کی طرف سے دی جانے والی سہولیات کے عوض عوام سے وصول کیا جاتا ہے ۔ ٹیکس کیا ہے یہ تو ہم نے مختصراً جان لیا اب یہ جاننا ضروری ہے کہ ریاست ٹیکس کیوں اکٹھا کرتی ہے؟ کسی بھی حکومت کو اپنے ریاستی آمور کو چلانے کے لیے پیسے کی ضرورت ہوتی ہے جو ٹیکس کی وصولی سے ہی ممکن ہے ۔ کسی بھی ملک میں ریاستی آمور کو چلانے کے لیے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف ادارے قائم کیے جاتے ہیں اور اداروں کے مالی معاملات کا سارا دارومدار ریاست کے سر ہوتا ہے اور ریاست ہر ادارے کی مالی ضروریات کو ٹیکس کے پیسوں سے ہی پایہ تکمیل تک پہنچاتی ہے۔ اس لیے اگر کسی بھی ریاست کا ٹیکس کا نظام منظم و مربوط نہیں ہوگا تو ریاست کا اپنے مالی آمور چلانا بھی ممکن نہیں ہوگا اور ریاست کی سالمیت کو برقرار رکھنا بھی ممکن نہیں ہوگا۔ کسی بھی ریاست کے وجود کے لیے ٹیکسز آکسیجن کی اہمیت رکھتے ہیں لیکن دوسری طرف یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ٹیکسز کے استعمال میں ریاست کی کیا ترجیحات ہیں۔ کیا ٹیکسز کی مد میں جمع ہونے والی رقم لوگوں کی فلاح و بہبود اور ان کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہے یا اس کا مصرف صرف ایک خاص طبقہ جس میں حکومتی ارکان ، بیوروکریسی ، اسٹیبلشمنٹ، ججز ، جاگیردار اور سرمایہ کار شامل ہیں ۔
ٹیکس کی دو اقسام ہیں بلواسطہ ٹیکس اور بلا واسطہ ٹیکس ۔ بلواسطہ ٹیکس ایسا ٹیکس ہے جو جس فرد یا اینٹیٹی پہ لگایا جائے وہی اسے ادا کرتا ہے جیسے کہ آمدنی ٹیکس ، پراپرٹی ٹیکس ، اثاثہ جات ٹیکس وغیرہ ۔ جبکہ بلا واسطہ ٹیکس وہ ٹیکس ہے جو کہ پیداکار کی بجائے حتمی استعمال کنندہ کو ادا کرنا پڑتا ہے جیسے کہ سیلز ٹیکس (اشیاء و خدمات کی خرید وفروخت پر) ، کسٹم ڈیوٹی وغیرہ ۔ ہم ایک سوئی خریدنے سے لے کر ہوائی جہاز کا سفر کرنے تک ایک ایک چیز اور خدمت پر بلاواسطہ ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ ترقی یافتہ اور بہترین ٹیکس کا نظام رکھنے والے ممالک میں بلواسطہ ٹیکس زیادہ اکٹھا کیا جاتا ہے کیونکہ یہ سیدھا لوگوں کی آمدنی، پراپرٹی یا اثاثہ جات پر لگتا ہے تو جیسے ان لوگوں کی دولت میں اِضافہ ہوتا ہے ٹیکس میں بھی اِضافہ ہوتا ہے جس سے ریاست کو فائدہ پہنچتا ہے ۔ جبکہ دوسری طرف بلا واسطہ ٹیکس جو کہ استعمال کنندہ سے وصول کیا جاتا ہے جس وجہ سے عام لوگوں پر مہنگی اشیاء و خدمات کا بوجھ بڑھ جاتا ہے جس کے نتیجے میں گھریلو استعمال کی اشیاء عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جاتی ہیں ۔ جب ریاست بلواسطہ ٹیکس اکٹھا کرنے کی بجائے ان کا رجحان صرف بلا واسطہ ٹیکس جمع کرنے کی طرف ہو جائے تو وہی مہنگائی و بدامنی کا ماحول بنتا ہے جو اس وقت پاکستان (ٹیکستان) میں بنا ہوا ہے۔
یہاں آپ کو وطن عزیز پر مسلط بھیڑیوں کی ایک نہ اہلی اور بدعنوانی کا انکشاف کرتا چلوں۔ پاکستان میں ٹیکس اکٹھا کرنے کے لیے جو ادارہ قائم ہے اس کا نام فیڈرل بورڈ آف ریونیو ہے۔ پاکستان میں اکٹھا ہونے والے ٹیکس کا اٹھ فیصد بلواسطہ ٹیکس ہے جبکہ بانوے فیصد بلاواسط ٹیکس ہے۔ اس ادارے کا کام بلواسطہ ٹیکس اکٹھا کرنا ہے جبکہ بلا واسطہ ٹیکس تو خود بخود سیلز ٹیکس کی صورت میں اکٹھا ہو جاتا ہے ۔ لیکن آپ یہ جان کر حیران ہونگے کہ آٹھ فیصد ٹیکس اکٹھا کرنے والا فیڈرل بورڈ آف ریونیو کل ٹیکس کا بیس فیصد تنخواہوں اور مراعات کی صورت میں لے اڑتا ہے۔ اس سے بڑا سفید ہاتھی کیا ہوگا عوام کے لیے ۔
ہم عام لوگ سوئی، ماچس، بلیڈ، صابن، شیمپو، ٹوتھ پیسٹ ، کاسمیٹکس، مسالہ جات ، چینی گھی ، بجلی کے بل، پٹرولیم مصنوعات ، ہوم اپلائنسز ، حکومتی فیسیں ، چلان، ادویات اور بیکری کی چیزیں سب پر اتنا ہی ٹیکس ادا کر رہے ہیں جتنا کہ اسلام آباد ، کراچی اور لاہور میں بیٹھے ہوئے لوگ کرتے ہیں ۔ لیکن اگر سہولیات کی بات کی جائے تو کیا ہمارے لیے بھی وہی سب کچھ ہے جو ان کے لیے ہے۔
ہم نے شروع میں بات کی ٹیکس وہ معاوضہ ہے جو ریاستی خدمات کے عوض عوام حکومت کو ادا کرتی ہے۔ اگر ہم اس بات کو حقیقت کے ساتھ پرکھیں تو اس بات کا حقیقت کے ساتھ دور دور کا بھی واسطہ نہیں ۔ سب سے پہلے تو ہم دیکھتے ہیں کہ کیا ریاست ہمیں بنیادی ضروریات کو ہماری دہلیز تک پہنچا رہی ہے۔ بنیادی ضروریات میں روٹی ، کپڑا ، مکان ، تعلیم ، صحت اور عزتِ نفس ۔ کیا اس ٹیکس کہ عوض جو کہ ایک سڑک پر سونے والے اور جھونپڑی والے سے بھی لیا جا رہا ہے کیا ان کو سستی روٹی ، پہننے کو کپڑے اور سر ڈھانپنے کے لیے مکان یا چھت مہیا کی ہے۔ کیا اس ٹیکس کے عوض مفت معیاری تعلیم مہیا کی جا رہی ہے ۔ کیا ایسے ماڈل تعلیمی ادارے قائم کیے گئے ہیں جہاں سے بچے نکل کر ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکیں۔ کیا اس ٹیکس سے ایسے طبی ادارے قائم کیے جہاں سے عام لوگوں کو صحت وتندرستی کی تمام سہولیات مہیا کی جا رہی ہوں ۔ کیا اس ٹیکس سے ایسے ادارے قائم کیے جو لوگوں کی عزت و آبرو کے تحفظ کا کام کرتے ہوں۔ جب ایسا کچھ بھی نہیں تو ٹیکس یا یہ معاوضہ کس بات کا ۔ فرض کریں ہم میں سے کوئی بازار سے ایک جوسر مشین لے کر آتا ہے جب اسے گھر میں لا کر چلایا جاتا ہے تو وہ کام نہیں کرتی تو ہم اسی وقت دوکاندار کے پاس جاتے ہیں کہ بھیا اپنی مشین پاس رکھو یہ چلتی نہیں ہمارے کس کام کی۔ معاوضہ بھی واپس لیا جاتا ہے کہ اگر یہ چلتی نہیں تو معاوضہ کس بات کا ۔ بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر ہمارے ٹیکس کے بدلے ہمیں کوئی چیز یا سہولت نہیں دی جا رہی تو ٹیکس کس بات کا ؟
کیا ٹیکس اس لیے دیتے ہیں کہ ایک آٹے کے تھیلے کے لیے سارا سارا دن قطاروں میں لگے رہے ، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے پیسوں کے لیے دھکے کھائیں ، لنگر خانوں میں جا کر کھائیں ، چینی لائنوں میں ، گھی لائنوں میں اور ہماری عزتیں بھی لائنوں میں ۔
بجٹ 2024 میں دفاع پر بائیس سو ارب مختص کیے گئے جبکہ جہاں صحیح معنوں میں ضرورت ہے وہاں بے معنی سی رقوم مختص کی گئی ہیں ۔ پاکستان میں پچھلے پانچ سالہ ڈیٹا کے مطابق اوسط بارہ سے تیرہ ہزار لوگ سڑکوں پر مختلف حادثات میں جان کی بازی ہار جاتے ہیں جو کہ سرحدی علاقوں میں یا ملک کے اندر شہید ہونے والے فوجیوں سے کہیں زیادہ ہے ۔ مختلف مہلک بیماریوں سے مرنے والوں کی تعداد حادثات سے مرنے والوں سے بھی زیادہ ہے ۔ کیا اس ٹیکس سے لوگوں کو حادثات سے بچانے کے لیے لائحہ عمل تیار نہیں ہونا چاہیے کوئی ایسا ادارہ بننا چاہیے جو لوگوں کو سڑکوں پر سفر کرنے کے اصولوں کی تعلیم دے، جس سے لوگوں کی زندگیوں کو محفوظ کیا جا سکے۔ کوٹ رادھا کشن تا رائیونڈ روڈ پر روزانہ کوئی نہ کوئی جان لیوا حادثہ ہوتا ہے وجہ صرف سنگل روڈ ہے کیا کوٹ رادھا کشن کے لوگ اتنا بھی ٹیکس نہیں دیتے کہ بیس کلومیٹر کی سڑک کو ڈبل کر دیا جائے ۔ کیا اس ٹیکس سے ہر یونین کونسل میں ایک ہسپتال نہیں بننا چاہیے جو لوگوں کو مقامی سطح پر علاج کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے میں کردار ادا کرے۔
کیا اس ٹیکس سے ہمارے گلی محلے میں صفائی ستھرائی نہیں ہونی چاہیے؟ کیا اس ٹیکس سے ہماری گلیاں اور بازار پکے نہیں ہونے چاہئیں ؟ کیا اس ٹیکس سے ہمیں صاف پانی نہیں ملنا چاہیے ؟ کیا اس ٹیکس سے ہمیں گیس نہیں ملنی چاہیے ؟ کیا اس ٹیکس سے ہمیں سستی بجلی نہیں ملنی چاہیے ؟ کیا اس ٹیکس سے ہمیں معیاری تعلیم نہیں ملنی چاہیے ؟ کیا اس ٹیکس سے ہمیں صحت کی سہولیات نہیں ملنی چاہیے ؟ کیا اس ٹیکس سے ہمیں سیکیورٹی نہیں ملنی چاہیے ؟ کیا اس ٹیکس سے ہمیں باعزت شہری کا درجہ نہیں ملنا چاہیے ؟ کیا اس ٹیکس سے ہمیں ضروریات زندگی کی بنیادی سہولیات نہیں ملنی چاہیے ؟
اگر ہمیں یہ سب کچھ چاہیے تو پھر ایک گاہک کی طرح سوال کرنا ہوگا جو چیز صحیح نہ ملنے پر دوکاندار سے کرتا ہے ۔ ہم بھی پیسے پورے دے رہے ہیں لیکن ہمیں چیز ٹھیک نہیں دی جا رہی تو اب ہمیں بھی ریاست سے یہ سب سوال کرنے کا حق ہے۔
آخر میں وہی بات پھر سے، ٹیکس ریاست کی طرف سے عوام کو دی گئی سہولیات کا معاوضہ ہے۔جس کو یہ لگتا ہے کہ ریاست ماں کی طرح ہم سے برتاؤ کر رہی ہے اور ہم سے صحیح معاوضہ لے رہی ہے وہ چپ رہیں اور جن کو لگتا ہے کہ ریاست ایک ڈائن کی طرح لوگوں کا خون چوس رہی ہے وہ سوال کریں۔

  • قصور کی تحصیل کوٹ رادھا کشن کے نواحی گاؤں بوہڑ سے تعلق رکھنے والے نادر علی شاہ ان لوگوں میں شامل ہیں جنہیں حالات نے محدود کیا لیکن جنہوں نے اپنے جذبے اور محنت سے انہی حالات کو شکست دی۔ نادر علی شاہ نے اپنی ابتدائی تعلیم گاؤں اور پھر کوٹ رادھا کشن سے مکمل کی، اور آئی کام، بی کام، اور ایم کام کے ذریعے کاروباری تعلیم حاصل کی۔ 2017 میں تدریس کے شعبے میں قدم رکھا اور تب سے یہ سفر جاری ہے۔ لیکن صرف یہی نہیں، انہوں نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ایم اے ایجوکیشن، فلسفہ، اور سیاسیات کی ڈگریاں بھی حاصل کیں، اور آج کل ایل ایل بی کر رہے ہیں۔ پچھلے دس سال سے لکھنے کو بطورِ شوق ساتھ لے کر چل رہیں ہیں لیکن عرصہ تین سال سے انہوں نے اپنی لکھنے کی صلاحیت پر بھرپور توجہ دی ہے۔ آج کل وہ دو کتابیں لکھ رہے ہیں جنہیں جلد پبلش کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ آپ باقاعدہ کالم نگار اور افسانہ نگار ہیں۔ ان کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو ان کی علم دوستی، فکری گہرائی اور سیاسی شعور ہے۔ انہیں صرف پڑھانے کا شوق نہیں بلکہ خود سیکھنے اور سکھانے کا جذبہ بھی ہے۔ ویڈیو ایڈیٹنگ، نیوز اینکرنگ اور ایکٹنگ جیسے فنون میں مہارت حاصل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنی ذات کو ہر زاویے سے نکھارنے کے خواہاں ہیں۔ ان کا شوق محض مطالعہ تک محدود نہیں، بلکہ وہ تاریخ، سیاست، فلسفہ اور تعلیم جیسے اہم موضوعات پر مستقل طور پر لکھتے ہیں۔ ان کی تحریریں اور افسانے نہ صرف فکری بالیدگی کا مظہر ہیں بلکہ عوامی شعور اجاگر کرنے کا ذریعہ بھی ہیں۔ مقامی اخبارات میں ان کے مضامین اور افسانے شائع ہوتے ہیں اور ایک نئے سیاسی، معاشرتی، طبقاتی، تعلیمی، فلسفیانہ اور فکری بیانیے کو جنم دیتے ہیں۔ نادر علی شاہ کا خواب ایک ایسا باشعور معاشرہ ہے جہاں عوام کو اپنے حقوق کا علم ہو اور وہ ان کے لیے آواز بلند کر سکیں۔ ان کے بقول، "اگر ہم نے اپنے نوجوانوں میں سیاسی، سماجی اور قانونی شعور نہ بیدار کیا تو ہم آنے والے وقتوں میں بھی محض بھیڑ بنے رہیں گے۔" ان کی زندگی، ان کی جدوجہد، ان کے افسانے اور ان کی تحریریں ایک ایسے راستے کی طرف اشارہ کرتی ہیں جہاں سے امید، شعور، طبقات کا خاتمہ اور تبدیلی کی روشنی پھوٹتی ہے۔

One thought on “ٹیکستان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *