⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
ذرائع — طاقت کا زعم یا کردار کا امتحان؟
دنیا کے ہر نظام میں ذرائع، وسائل اور تعلقات ہمیشہ سے اہم رہے ہیں۔ یہ وہ نادیدہ قوتیں ہیں جو بہت سے دروازے کھولتی ہیں، بند راستوں کو ہموار کرتی ہیں اور کبھی کبھی تقدیر کے پتے بھی بدل دیتی ہیں۔ ذرائع کا ہونا دراصل کسی انسان کی محنت، ربط، اثر اور اعتماد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ مگر افسوس، جب یہی ذرائع انسان کے اخلاقی توازن کو بگاڑ دیتے ہیں تو وہ اعزاز نہیں رہتے، وہ انسان کے ضمیر کا امتحان بن جاتے ہیں۔
ہم سب جانتے ہیں کہ زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے رابطے اور وسائل کتنے ضروری ہیں۔ مگر یہاں ایک باریک لکیر ہے، جو “استعمال” اور “استحصال” کے بیچ کھنچی ہوئی ہے۔ بعض لوگ ذرائع کو اس انداز میں استعمال کرتے ہیں کہ ان سے دوسروں کا بھی بھلا ہوتا ہے، وہ نظام کی اصلاح کا ذریعہ بنتے ہیں، انصاف کا دروازہ کھولتے ہیں۔ مگر کچھ لوگ یہی ذرائع اپنے ذاتی مفاد، ضد، یا انا کی تسکین کے لیے استعمال کرتے ہیں — اور یہی وہ مقام ہے جہاں طاقت غرور میں بدل جاتی ہے۔
ایسے لوگ اکثر اپنے عمل کو درست ثابت کرنے کے لیے ایک فخریہ جملہ بولتے ہیں:
“ہم غلط بھی کریں گے تو ٹھیک ہے، کیونکہ ہمارے ذرائع مضبوط ہیں!”
یہ جملہ صرف خود پسندی کا اظہار نہیں بلکہ معاشرتی انصاف پر طنز بھی ہے۔
ذرائع اگر انصاف کے ساتھ استعمال ہوں تو نعمت ہیں، لیکن جب وہ اصولوں کو روندنے لگیں تو زحمت بن جاتے ہیں۔ معاشرتی توازن تب بگڑتا ہے جب ہر کام، ہر کامیابی، ہر فیصلہ “ذرائع” کے ترازو میں تولنے لگتا ہے۔ محنت، میرٹ، صلاحیت اور دیانت جیسے الفاظ پھر بے معنی محسوس ہونے لگتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ذرائع کے غلط استعمال کرنے والے اکثر اپنے عمل کو “قابلیت” کا دوسرا نام دیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ان کے تعلقات، اثر و رسوخ، یا طاقت کام آ رہی ہے تو یہ بھی ایک طرح کی مہارت ہے۔ حالانکہ حقیقت میں یہ مہارت نہیں بلکہ نظام پر عدم اعتماد کی نشانی ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گرد ایک مصنوعی کامیابی کا خول بنا لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک سب کچھ حاصل کرنے کا معیار صرف “رسائی” ہے، چاہے وہ رسائی کردار سے خالی کیوں نہ ہو۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ذرائع کا ہونا کوئی جرم نہیں۔ ہر انسان کسی نہ کسی دائرے میں تعلقات رکھتا ہے، سہارے لیتا ہے۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں ذرائع انصاف پر بھاری پڑنے لگیں۔ جہاں “حق دار” محروم اور “بااثر” مستحق بن جائے۔ جہاں نظام کے دروازے عام آدمی کے لیے بند اور مخصوص طبقے کے لیے کھلے ہوں۔
ہمارے معاشرے میں اب ایک عجیب فیشن پنپ رہا ہے — لوگ نہ صرف ذرائع کا استعمال کرتے ہیں بلکہ اس پر فخر بھی محسوس کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر، دفاتر میں، حتیٰ کہ تعلیمی اداروں میں بھی یہ رویہ عام ہوتا جا رہا ہے۔ کوئی سفارش لے کر آتا ہے اور فخر سے کہتا ہے “ہماری پہنچ ہے”، جیسے کردار کی جگہ اب “کنکشن” نے لے لی ہو۔
ایسے افراد بظاہر کامیاب دکھائی دیتے ہیں مگر ان کی کامیابی کی بنیاد کھوکھلی ہوتی ہے۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ ہر شارٹ کٹ راستہ منزل نہیں دیتا۔ کچھ راستے وقتی فائدہ ضرور دیتے ہیں مگر انجام میں عزت، اعتماد اور ساکھ سب کچھ چھین لیتے ہیں۔
یہ تحریر کسی نفی پر نہیں بلکہ اصلاح پر مبنی ہے۔ کیونکہ یہ بھی سچ ہے کہ بعض لوگ اپنے ذرائع کو خیر کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وہ کسی کی مدد کرتے ہیں، کسی کے لیے آسانی پیدا کرتے ہیں، کسی مظلوم کو انصاف دلاتے ہیں۔ ایسے ذرائع انسانیت کا سرمایہ ہیں۔ لیکن جب وہی ذرائع محض طاقت کے مظاہرے کے لیے استعمال ہونے لگیں تو معاشرہ کمزور ہو جاتا ہے۔
طاقت ہمیشہ دو راستے دیتی ہے —
ایک راستہ خدمت کا، دوسرا شوخی کا۔
جو لوگ پہلے راستے کو چنتے ہیں، وہ معاشرے میں روشنی بانٹتے ہیں۔ اور جو دوسرا راستہ اپناتے ہیں، وہ خود اپنی روشنی کھو دیتے ہیں۔
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ذرائع کا ہونا برا نہیں، مگر اس پر گھمنڈ کرنا تباہ کن ہے۔ کیونکہ گھمنڈ ہر خوبی کو عیب میں بدل دیتا ہے۔ انسان کا اصل وقار اس کی سچائی اور نیت میں چھپا ہوتا ہے، نہ کہ اس کے تعلقات کی طاقت میں۔
آج اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ میرٹ، انصاف اور عزت پر قائم رہے تو ہمیں “ذرائع کے زعم” سے نکلنا ہوگا۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ کامیابی کا راستہ سفارش سے نہیں، صلاحیت سے بنتا ہے۔ ہمیں اداروں کو مضبوط اور انصاف کو عام کرنا ہوگا تاکہ کسی کو یہ احساس نہ ہو کہ “ذرائع کے بغیر کچھ ممکن نہیں۔”
ذرائع کا درست استعمال وہاں ہوتا ہے جہاں کسی مظلوم کو سہارا دیا جائے، کسی محروم کو موقع دیا جائے، کسی ناانصافی کو انصاف میں بدلا جائے۔ مگر اگر ذرائع کو ذاتی مفاد، غلط فیصلوں یا قانون کی خلاف ورزی کے لیے استعمال کیا جائے تو وہ دراصل نظام کے خلاف ایک چھوٹا مگر خطرناک بغاوت بن جاتی ہے۔
ہمیں ایسے لوگوں کی بھی قدر کرنی چاہیے جو اپنے ذرائع ہونے کے باوجود اصولوں پر ڈٹے رہتے ہیں۔ جو کہتے ہیں، “اگر صحیح نہیں تو ہم نہیں کریں گے۔” یہی وہ لوگ ہیں جو معاشرے میں توازن قائم رکھتے ہیں۔ کیونکہ طاقت کے باوجود انصاف کا ساتھ دینا ہی اصل انسانیت ہے۔
آخر میں، بات صرف اتنی ہے کہ ذرائع کو اپنی پہچان نہ بنائیں، بلکہ کردار کو بنائیں۔ کیونکہ ذرائع ختم ہو سکتے ہیں، مگر ساکھ ہمیشہ باقی رہتی ہے۔
طاقت کا زعم وقتی ہے، مگر اخلاق کا اثر دائمی۔
ذرائع ایک حقیقت ہیں، مگر ان کا استعمال انسان کے ظرف کا امتحان ہے۔ جو اپنے ذرائع پر نہیں بلکہ اپنے اصولوں پر فخر کرتا ہے، وہی اصل بااثر انسان ہے۔ کیونکہ اصل رسائی وہی ہے جو دلوں تک ہو، قانون تک ہو، انصاف تک ہو — نہ کہ صرف طاقتور دروازوں تک۔
نوٹ
یہ کالم / تحریر محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔
انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
