زخموں سے خوشبو آئے


زخموں سے خوشبو آئے

گھر کے صحن میں ایک پرانا نیم کا درخت کھڑا تھا۔ اس کی شاخوں پر ہوا سرسراہتی تو یوں لگتا جیسے وہ بھی اس گھر کے دکھوں کی گواہی دے رہا ہو۔ ثمرین اکثر اس کے نیچے بیٹھ کر زمین کو تکتے ہوئے کچھ سوچتی رہتی۔ یہ وہی گھر تھا جہاں کبھی ہنسی کی آوازیں گونجتی تھیں،لیکن اب اس کے کمروں میں خاموشی کا بسیرا تھا. ایسی خاموشی جو چیخوں کے بعد چھا جاتی ہے۔
ثمرین تین بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی۔ ایک بھائی, عارف، جو معصوم، حساس اور نیک دل تھا. اور ایک چھوٹی بہن, سحر، جو اب بھی بچپن اور خوف کے درمیان جھولتی تھی۔
ان کے والد منظور صاحب ایک سخت مزاج، مذہبی اور اصول پسند انسان تھے۔ وہ اپنے بچوں سے محبت تو کرتے تھے، مگر محبت کے اظہار کا طریقہ نہیں جانتے تھے۔ ان کے نزدیک تربیت کا مطلب سختی، اور راہِ راست پر چلانا صرف ڈانٹ سے ممکن تھا۔ وہ اپنے زمانے کے والدوں کی طرح تھے- جو سمجھتے تھے کہ نرمی کمزوری ہے اور سختی ہی کردار بناتی ہے۔
مگر وہ یہ نہ جان سکے کہ محبت کے بغیر تربیت، روح کو زخمی کر دیتی ہے۔ عارف اگر نماز پڑھتے ہوئے کوئی لفظ بھول جاتا، یا وضو میں معمولی سی چوک ہو جاتی، تو باپ کے غصے کا طوفان ٹوٹ پڑتا۔ دروازہ بند، چیخیں گونجتیں، اور پھر ایک خاموشی پھیل جاتی. ایسی خاموشی جو روح کو چیر کر رکھ دے۔ ماں کی آنکھوں میں آنسو تیرتے مگر لب بند رہتے۔
“اگر بولی تو تم بھی سزا پاؤ گی…”
یہ جملہ اس گھر کے ماتھے پر کندہ ہو گیا تھا.
وہ ننھا عارف، جو ابھی دنیا کی مہربانیوں سے ناواقف تھا،آہستہ آہستہ خاموش ہو گیا۔ وہ ہنسی بھول گیا، بات کرنا بھول گیا. اس کی آنکھوں میں ڈر کی دھند چھا گئی۔ ماں کا دل رو رو کر تھک گیا، مگر باپ کے دل تک اس کی آواز نہ پہنچی۔
پھر ایک دن وہ ہوا جس کا کسی نے تصور بھی نہ کیا تھا۔ عارف، جو اب جوانی کے دہانے پر تھا، باپ کی معمولی سی ڈانٹ برداشت نہ کر سکا۔ اس نے زہر پی لیا۔
ایک لمحے میں سب ختم ہو گیا.
سانسیں، آوازیں، امیدیں۔…
ماں زمین پر گر گئی، سحر بے ہوش ہو گئی،اور منظور صاحب پتھر بن گئے۔اس کے بعد وہ کبھی سیدھے نہیں ہو پائے۔ ان کے ہاتھوں میں لرز، آنکھوں میں پچھتاوا اور دل میں ایک ناقابلِ تلافی گناہ کا بوجھ رہ گیا۔ وہ دن رات روتے، سجدوں میں گرتے،اور خود سے کہتے، “میں اسے سیدھی راہ دکھانا چاہتا تھا، مگر میں نے اسے کھو دیا…”
ثمرین نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ بھائی کی موت، ماں کی خاموش دیوانگی،بہن کی ٹوٹی ہوئی ہنسی… سب کچھ اس کے دل میں اتر گیا۔لیکن وہ خود کو ٹوٹنے نہیں دینا چاہتی تھی۔
اس نے خود سے عہد کیا:
“میں باپ کا بیٹا بنوں گی،ماں کا سہارا،بہن کی امید,میں اپنے زخموں کو کمزوری نہیں بننے دوں گی۔”

وقت گزرتا گیا۔ منظور صاحب کو کینسر ہو گیا۔اب وہ وہی شخص تھے جو کبھی غصے سے لرزتے تھے،مگر اب اپنی ندامت سے کانپتے تھے. ثمرین ان کے لیے دوائیں لاتی،ان کے ماتھے پر ٹھنڈا کپڑا رکھتی،اور خاموشی سے خدمت کرتی رہتی۔ ایک رات وہ روتے ہوئے بولے:
“بیٹی، میں برا انسان نہیں تھا…
میں بس محبت کا طریقہ نہیں جانتا تھا۔مجھے لگا سختی سے ہی اصلاح ہوتی ہے،مگر میں غلط تھا…”
ثمرین کی آنکھوں سے آنسو بہے، مگر چہرے پر سکون تھا۔…
“ابا، میں جانتی ہوں۔ اللہ معاف کرنے والا ہے۔ اور میں بھی آپ کو معاف کرتی ہوں۔”
چند دن بعد وہ خاموشی سے دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ثمرین نے ان کے چہرے پر ہاتھ رکھا اور دھیرے سے کہا: “ابا، اب آپ کے زخموں سے بھی خوشبو آئے گی…”
لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔

بھائی کی موت، ماں کے دکھ، اور باپ کے بچھڑنے کا درد…
یہ سب ثمرین کے اندر اتر گیا۔وہ بھی نفسیاتی طور پر ٹوٹنے لگی۔
راتوں کو نیند غائب،ذہن میں آوازیں، دل میں بے چینی۔
مگر اس نے خود کو سنبھالا۔اس نے ماہرِ نفسیات سے علاج کروایا،اپنے ذہن کے بھنور کو سمجھنا سیکھا،اور آہستہ آہستہ خود کو مضبوط کیا۔اس نے تعلیم مکمل کی،سکول میں پڑھانا شروع کیا،پھر کالج،اور آخرکار اپنی اکیڈمی کھول لی۔وہ اتنی مصروف ہو گئی کہ دکھوں کو یاد کرنے کا وقت ہی نہ بچا۔
اب وہ اپنے دن دوسروں کو پڑھانے،
اور راتیں اپنے رب سے بات کرنے میں گزارتی۔
جب اس کی شادی ہوئی تو اس نے دل میں ایک نیا عہد کیا:
“میں اپنے بچوں کو محبت دینا سیکھاؤں گی…خوف نہیں۔ …میں وہ ماں بنوں گی جو سننے، سمجھنے، اور معاف کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔”
اس نے پیرنٹنگ کے اصول سیکھے،
نفسیاتی تربیت کے کورس کیے،
اور پھر اخبار میں کالم لکھنے لگی. “محبت کے انداز” کے عنوان سے۔ وہ لکھتی:
“سزا سے نہیں، سمجھ سے تربیت ہوتی ہے۔ ڈانٹ سے نہیں، دل سے راستے بنتے ہیں۔ زخم اگر صبر سے سہے جائیں،تو ان سے خوشبو آتی ہے…”
آج بھی اس کے گھر کے باہر وہی نیم کا درخت کھڑا ہے۔ مگر اب اس کی چھاؤں میں خوف نہیں، بلکہ اطمینان ہے۔ ثمرین اب مسکراتی ہے، اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر کہانیاں سناتی ہے،اور ہر کہانی کے آخر میں کہتی ہے:
“محبت دکھانے سے کم نہیں ہوتی،
چھپانے سے ختم ہو جاتی ہے۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *