⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
صلہ شہید کیا ہے تب وتاب جاودانہ
20فروری 1973ءکو میرپور کے کمسن سپوتوں نے 90 ہزار پاکستانی جنگی قیدیوں کی رہائی کیلئے انڈین ہائی کمیشن لندن میں جام شہادت نوش کیا
1971ءکی پاک بھارت جنگ کے نتیجہ میں قیام پاکستان کو دل سے آج تک قبول نہ کرنے والے پاکستان کے ازلی دشمن ملک بھارت نے 90 ہزار سے زائدپاکستانیوں کو جنگی قیدی بنالیا اور ڈیڑھ سال سے ہند و بنیئے کی قید میں پاکستانی قیدی مسلسل بھارتی سامراج کی سفا کی کا شکار ہوتے چلے آرہے تھے ۔جنیواکنونشن اور اخلاقی وبین الاقوامی قانونی ضوابط بھی ان بے گناہوں کی رہائی کا مطالبہ کررہے تھے جبکہ بین الاقوامی ریڈ کراس بھی کئی مرتبہ ان کی رہائی کا مطالبہ کر چکا تھا مگر بھارت اپنی روایتی ہٹ دھرمی پر مسلسل قائم رہا یہاں تک کہ سقوط ڈھاکہ کے وقت بھارتی فوج کی مشرقی کمان کے سربراہ جنرل اروڑا کی طرف سے جنیوا کنونشن کی پابندی کرنے اور تمام قیدیوں کو باعزت رہا کرنے کی یقین دہانی اور بالخصوص 3 جولائی 1972ءکو شملہ میں بھارتی وزیر اعظم مسنر اندراگاندھی کی طرف سے صدر پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کو برصغیر میں امن قائم رکھنے اور قیدیوں کا معاملہ جلد حل کرنے کی واضح یقین دہانی کے باوجود مشرقی پاکستان کی آبرو کو بھارتی درندوں کے ہاتھوں لٹنے سے بچانے کی جدوجہد میں قید ہو کر بھارتی جنگی کیمپوں میں صعوبتیں برداشت کرنے والے پاکستانیوں پر ظلم و بربر یت کی سیاہ راتیں طویل ہوتی چلی گئیں حالانکہ دنیا کے مختلف ممالک کے مابین جنگیںہوتی آئی ہیں مگر عالمی تاریخ میں کبھی بھی جنگی قیدیوں کو اتنے طویل عرصے کے لیے نظربند کر کے ان پر شدید مصائب نہیں ڈھائے گئے۔ریاست جموں و کشمیر کے آزاد علاقے آزاد کشمیر کے سب سے بڑے شہر میر پور کو پاکستان کے دل لاہور کی طرح مرکزی حیثیت حاصل ہے ۔میرپور کے باسیوں کی ایک بڑی تعداد برطانیہ میں آباد ہے جو سالانہ اربوں روپے کا زرمبادلہ ملک میںبھیج کر پاکستان کی ترقی اور معیشت کی مضبوطی میں کلیدی کردار ہی نہیں ادا کر رہی بلکہ مشکل کی ہر گھڑی میں پاکستان سے محبت اور عقیدت کے اظہار کے لیے جذبہ حب الوطنی کے تحت لاکھوں پاﺅنڈ امدادی رقوم بھی بھیجتے ہیں جبکہ پاکستان کی خوشحالی اور روشن مستقبل کے لیے میر پور کے عوام نے اپنے آباﺅ اجداد کی قبروں ،زمینوں اور ہنستے بستے شہر پرانے میر پور پر منگلا ڈیم بنا کر قربانی اور پاکستان سے محبت کا لازوال ثبوت فراہم کیا ہے اورمیرپور کے متاثرین منگلاڈیم اور تارکین وطن کی دوسری نسل نے اب منگلاڈیم توسیع منصوبہ کی شکل میں پاکستان کے روشن مستقبل کے لےے ایک بار پھر قربانی کی عظیم مثال قائم کی ہے حالانکہ پاکستان کے بہتر مستقبل اورترقی وخوشحالی کے لیے آج پاکستانی عوام اپنی ہی سر زمین پر کالاباغ ڈیم کی تعمیر کی راہ میں عرصہ سے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں اور پاکستان کی تین اسمبلیاںاس عظیم تر منصبوبے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کیخلاف قراردادیں پاس کر چکی ہےں۔جو کہ ایک لمحہءفکریہ ہے بہر حال تذکرہ ہو رہا تھا پاکستان کے 90 ہزار جنگی قیدیوں کا تواس سلسلہ میں بھی میرپور کے ہی برطانیہ میں آباد2 مایہ ناز کم سن سپوتوں محمد حنیف اور بشارت حسین نے 20فروری 1973ءکو صبح ہوتے ہی اپنے تیسرے ساتھی دلاور حسین غازی کے ہمراہ برطانوی دارا لحکومت لندن میں بھارتی ہائی کمیشن میں کھلونا پستول کے ہمراہ داخل ہو کر سفار تخانے کے عملے سے90 ہزار پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا مگر جذبہ حب الوطنی سے سرشار اور نتائج سے بے خبر یہ کمسن تھوڑی ہی دیر بعدپاکستانی جنگی قیدیوں کی رہائی اور عالمی ضمیر کو بیدار کرنے کے لیے انڈین ہائی کمیشن کی عمارت میں سکاٹ لینڈ یارڈ برطانیہ کے”نیلے ناگ”نامی پٹرول گروپ کے ماہر نشانہ بازوں کی گولیوں کی زد میں آ کر بھارتی ہائی کمیشن کی درودیوار کو اپنے پاکیزہ خون سے سرخ کرکے جام شہادت نوش کر گئے اور تاریخ عالم میں ہمیشہ کے لیے زندہ جاوید ہو کر کشمیریوں اور میرپور کا نام روشن کر گئے اس وقت شہید ہونے والے کمسن بشارت کی عمر18 سال اور محمد حنیف کی عمر19 سال تھی جبکہ ان کے تیسرے ساتھی دلاور غازی کی عمر 14 سال تھی ۔مگر وہ اپنے دیگر دو ساتھیوں کے ہمراہ بے پناہ جوش ایمانی اور قومی غیرت کے جذبات سے مغلوب ہو کر بھیڑیوں کی آما جگاہ میں گھس کر انہیں للکارنے لگا۔مگر شہادت کارتبہ تو نہ حاصل کر سکا لیکن برطانوی پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہو کر غازی قرار پایا ۔بشارت حسین شہید ضلع میر پور کے گاﺅں پلاک میں مارچ 1955ءمیں پیدا ہوا اور پلاک سکول سے پانچویں جماعت پاس کرنے کے بعد اپنے والد چودھری خوشی محمد کے پاس برطانیہ چلا گیا جہاں وکٹوریہ سیکنڈری سکول بریڈ فورڈ میں داخل ہوا اور دوران تعلیم انگریزی زبان پر عبور بھی حاصل کرلیا اور جب 1971ءمیں وہ مختصر عرصہ کے لیے برطانیہ سے اپنے گاﺅ ں پلاک ضلع میرپور آ یا تو برطانیہ جیسے آزاد معاشرے میں رہنے کے باوجود اس کے خیالات میں ایک طوفان برپا تھا اور وہ اپنے ہم جولیوں سے اکثر کہتا کہ ”ہمارے جو دشمن ہم میں نفرت کے بیج بوتے ہیں ہمیں ان سے جینے کا قرینہ سیکھنا چاہیے “اور پھر کئی دوستوں سے اس نے یہ بھی کہا کہ ”کبھی تم ضرور سنو گے کہ میں نے عالم اسلام کے لیے اپنا فرض اداکیا ہے“پھر جب بشارت جون 1971ءکو برطانیہ واپس گیا تو دسمبر 1971ءکی پاک بھارت جنگ میں90 ہزارسے زائد پاکستانی جنگی قیدی بھارت کے ہاتھ لگنے کے واقعات نے اس کے حساس ذہن اور درد مندول پر گہرے اثرات مرتب کئے اورپھر جب ایک دن وہ لندن میں اپنے گھر میں والد کے ہمراہ ٹی وی دیکھ رہاتھا تو سقوط ڈھاکہ کی فلم نشر ہونے پر فلم میں گرفتار ی کے وقت پاک فوج کے جانباز سپاہیوں کی بے حرمتی اور ریس کورس گراﺅنڈ ڈھاکہ میں پاکستانی سبز ہلالی پرچم سرنگوں ہونے کے منظر دیکھ کر بشارت حسین سے سسکیاں ضبط نہ ہو سکیں اور جب روس کے کندھوں پر سوار ہو کر مشرقی پاکستان کی سرزمین میں داخل ہونے والے بزدل بھارتی فوج اور مکتی باہنی کے کرائے کے کسی غدار نے جنرل نیازی کو جوتی مارنے کا منظر دیکھا ،توپھر بشارت کے جذبہ حب الوطنی نے جوش مارا تو صبر کاپیمانہ لبریز ہو گیا وہ غم وغصے سے کانپتا ہو ا چیخنے لگا ، ”ابا جی !خدا کی قسم یہ ناقابل برداشت ہے میں بدلہ لوں گا اور ضرور بدلہ لوں گا اباجی اب کی بار میں پاکستان جاﺅں گا توبرٹش پاسپورٹ جلا کرپاکستان آرمی میں شامل ہوجاﺅں گا اور زندگی میں اس بے حرمتی کاانتقام ضرور لوں گا “اور ایک مرتبہ پھر جب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر والڈھیم کی راولپنڈی آمد پر جنگی قیدیوں کی رشتہ دار خواتین نے سراپا مظلومیت بن کر انتہائی پریشانی کے عالم میں ائیر پورٹ پران سے جنگی قیدیوں کی رہائی کے لیے اپنا اثرو رسوخ استعمال کرنے کامطالبہ کیاتو بشارت کو یہ بات انتہائی ناگوار گزری اور اخبار میں اس رقت آمیز منظر کی تصویر دیکھ کر وہ کڑھتے ہوئے کہنے لگا کہ” کیاہم مرگئے ہیں جوہماری معزز ماﺅں ،بہنوں کو یوں دنیا کے سامنے فریادی بننا پڑا ۔ یہ تو ہمارا قومی بے حسی کاسب سے بڑا طعنہ ہے لے دے کے ایک غیرت رہ گئی تھی سو وہ بھی رخصت ہورہی ہے“ بشارت نہ جانے کیاکچھ کہتارہا مگر کسی نے بھی اس کی طرف خاص توجہ نہ دی اور پھر ایک دن جب ٹی وی پر ویت نام کے جنگی قیدی بھی جنگ ختم ہوتے ہی اپنے اپنے گھروں کو واپس جاتے دکھائے گئے تو اس نے پھر کڑھتے ہوئے کہا کہ ”کتنے ظلم کی بات ہے کہ پاکستانی جنگی قیدیوں کی رہائی کا مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہو ااور دنیا کا ضمیر اس معاملے کو سلجھانے کی بجائے سویا ہواہے۔“شہید محمد حنیف کا تعلق ضلع میر پور کے گاﺅ ں چک دیہاڑاں سے تھا ۔اور ان کے والدین اور خاندان کے دیگر لوگ1968میں منگلا ڈیم کی تعمیر کے نتیجہ میںمیرپور شہر کے سیکٹر بی فور میںآکر آباد ہوئے۔محمد حنیف 1954ءمیں چک دیہاڑاں میں ہی پیداہوا۔ابتدائی تعلیم سیاکھ ہائی سکول ضلع میرپور سے حاصل کی اور اپنی والدہ کی وفات کے بعد1966ءمیں اپنے والد حاجی محمد حسین کے ہمراہ برطانیہ چلا گیا جہاں وکٹوریہ سیکنڈری سکول بریڈ فورڈ میں داخل ہواوہیں اس کی دوستی بشارت حسین سے ہو گئی ۔ پھر تینوں نے تعلیم سے فراغت کے بعد بریڈفورڈ کی ایک فیکٹری میں ملازمت اختیار کرلی مگر تھوڑے ہی عرصے بعد لندن کی ایک پلائی ووڈ کی فیکٹری میں ملازم ہوگئے ۔محمدحنیف بھی برطانیہ جیسے آزادخیال معاشرے میں رہنے کے باوجود بشارت کی طرح صوم وصلوٰة کا بڑا پابند مصم ارادے کامالک انتہائی نڈر اور جذبہ حب الوطنی سے سرشار تھاوہ اکثر اوقات بھارتی فوج کے مقبوضہ کشمیرپر قبضہ کے خلاف باتیںکرتااور برطانیہ میں ہونے والے بھارت کے خلاف جلسے جلوسوں میں شرکت کرکے پر جوش نعرے لگاتا اور 1971ءپا ک بھارت جنگ اور جنگی قیدیوں کی رہائی کے تذکرے پر اکثر جذباتی ہوجاتا۔ محمد حنیف کے بھائی شیخ محمد نواز نے اپنے شہید بھائی کے بارے میں بتایا کہ اس کی معصوم زندگی کا کوئی پہلو او جھل نہیں ہے ۔ لندن میں اس کی انڈین ہائی کمیشن میں انگریز پولیس کی گولیوں کی بھینٹ چڑھ کر جام شہادت نوش کرنے کے بعد گھر میں اس کے کمرے سے تصویروں کا جوالبم برآمد ہوا اس میں زیادہ تر تصویریں پاکستانی فوج کے شہیدوں، غازیوں اور کشمیر ی وفسلطینی حریت پسندوں کی تھیں۔ شہدائے لند ن کے دونوں کمسن شہید اءکی میتیں پاکستان اور آزادکشمیر کے پرچموں میں لپٹی ہوئیں جب اسلام آباد ائیر پورٹ پر پہنچیں تووزیر اعظم (وقت)ذوالفقا علی بھٹو کی ہدایت پر حکومت پاکستان کی نمائندگی وفاقی وزراءمولانا کو ثر نیازی اورخورشید حسن میر، آزادکشمیر کی نمائندگی سردار عبدالقیوم خان ،سردار محمد ابراہیم خان، ممتازحسین راٹھور اورعبدالخالق انصاری ایڈووکیٹ سمیت تما م سیاسی مذہبی جماعتوں کے سرکردہ راہنماﺅں نے کی جب کہ عوام کی ایک بہت بڑی تعداد بھی ائیر پورٹ پر شہیدوں کے استقبال کے لیے امڈآئی تھی پھر جب گاڑیوں کے ایک بہت بڑے جلوس کی شکل میں ان شہداءکی میتیں میرپور پہنچائی گئیں تو تقسیم ہند سے قبل کے اس واقعہ کی یاد تاز ہ ہو گئی جب کشمیر کے فرزند غازی علم دین کو عشق رسول کے جرم میں سزا ئے موت دی گئی تھی گوکہ لوگوں کا ایک سیلاب امڈآیاتھا ہر آنکھ اشک بار تھی جوان بوڑھے وبچے اور عورتیں سبھی برطانوی پولیس کی وحشیانہ کارروائی اوربھارت کی پاکستان دشمنی کے خلاف سراپا احتجاج تھے۔ اور جب میرپور میں مرکزی عیدگاہ سے ملحقہ رقبے
میں پولیس کی سلامی کے ساتھ محمد حنیف شہید اور پلاک ضلع میرپور میں برلب سڑک بشارت حسین کوپورے اعزاز واحترام کے ساتھ لحد میں اتارا گیا تواس رقت آمیز منظر کاہر لمحہ عالمی ضمیر کو جھنجوڑ رہاتھا۔ شہدائے لندن کی قربانی کو53سال بیت گئے ہیں مگر آج بھی بھارت نے مقبوضہ کشمیر پراپنا جابرانہ تسلط قائم رکھتے ہوئے طویل کرفیو اور لاک ڈاﺅن کے ذریعے نہتے کشمیر ی مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کرکے ظلم وجبر کے پہاڑتوڑ نے کی پالیسی اپنا رکھی ہے اس لئے جہاں عالمی امن کے ٹھیکیداروں کو احساس کرتے ہوئے کشمیریوںکو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا حق خودار ادیت دلانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے وہاں ہمارے اپنے مسلمانوں کا ضمیر بھی جاگنا چاہئے جو دشمن کے پروپیگنڈے سے متاثرہو کر بیساکھیوں کاسہارا ڈھونڈنے لگے ہیں اور پھر شہدائے لندن بھی کھلونا پستول لے کر جنگی قیدیوں کی رہائی اور عالمی ضمیر کو بیدار کرنے کی غرض سے دنیا کی بزعم خود چو تھی بڑی طاقت کے بھرے ہوئے بارونق انڈین ہائی کمیشن میںدن کے اجالے میں کمسن شہدائے لندن نے جام شہادت نوش کرکے ایک راہ متعین کرتے ہوئے پیغام دیاہے کہ
کافر ہے تو شمشیرپہ کرتاہے بھروسہ
مومن ہے توبے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
شہدائے لندن میں سے حنیف شہید کی قربانی کے پیش نظراور نوجوان نسل کے لیے ان کے کارنامے اورقربانی کو زندہ رکھنے کی خاطر تمام ترکوششوں کے باوجود ماضی میں میرپور شہرکے حلقہ سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم کی حکومت بھی گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کلیال میرپور کانام حنیف شہید کے نام سے منسوب نہ کرسکی اور 1973سے 2015تک کی حکومتیں بھی یہ اہم کام سرانجام نہیں سکیںاور بالا ٓخر ضلع میرپور سے تعلق رکھنے والے سابق وزیراعظم آزادکشمیر چوہدری عبدالمجید نے گورنمنٹ گرلز ہائی سکو ل کلیال میرپور کو محمد حنیف کے نام سے منسوب کرنے کا اہم کام سرانجام دے کر تاریخ میں اپنا نام لکھوالیا جس سے نوجوان نسل کو رہتی دنیا تک یقینا جذبہ حب الوطنی کی یاد دلاتا رہے گا گوکہ بشارت شہید کے نام پر سالہاسال پہلے ہی پلاک ہائی سکول کانام نہ صرف منسوب ہوچکاہے بلکہ چکسواری میں بشارت حسین کے نام کے ساتھ وہاں کی صحافتی براداری نے پریس کلب کو بھی منسوب کردیا ہوا ہے اس لیے سابق وزیراعظم چوہدری عبدالمجید نے جس طرح اپنے تعلیمی ویژن کے مطابق عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے آزادخطہ میں یونیوسٹیوں میڈیکل کالجز اور تعلیم اداروں کا جال پھیلا کر اسٹیٹ کو ایجوکیشن سٹی میں تبدیل کرنے کی کاوشیںکی ہےں اسی طرح اگر موجودہ حکومت کے نوجوان وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور بھی سکول کی سطح پر شہدا ئے لند ن اور دیگر کئی شہداءکی قربانی اورجذبہ حب الوطنی کو نصاب کاحصہ بنانے کے عملی اقدمات بھی اٹھا ئیں تو یقینا ان کا نام بھی تاریخ میں سنہری حروف میں ہمیشہ زندہ و تابندہ رہے گا اسی طرح 20 فروری کو شہدائے لند ن کی برسی کے دن کو سرکاری طور پر منانے کے ساتھ ساتھ عام سرکاری تعطیل کا اعلان بھی کر دیا جائے تو اس سے بھی نوجوان نسل ان کی قربانی اور جذبہ حب الوطنی سے نہ صرف آگاہ ہوگی بلکہ ان کے لےے اسے مشعل راہ بنانے میں بھی انھیں بڑی مدد ملے گی ۔
یہ کالم / تحریر محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔
انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
