عالمی یوم سیاحت اور آزادکشمیرمیں فروغ سیاحت کیلئے اقدامات،ایک جائزہ

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

عالمی یوم سیاحت اور آزادکشمیرمیں فروغ سیاحت کیلئے اقدامات،ایک جائزہ


بلا شبہ سیاحت دنیا میں ایک بڑی صنعت کا درجہ رکھتی ہے اور بہت سے ممالک کی معیشت کیلئے اسے بنیادی ستون کی بھی حیثیت حاصل ہے جسکی وجہ سے یہ دنیا کی انتہائی تیزی سے ترقی کرنیوالی صنعتوں کی صف میں شامل ہوچکی ہے۔ ریاست جموں وکشمیر میں سیاحت کے بے تحاشا پوٹینشل ہونے کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں 7 لاکھ سے زائد بھارتی افواج کے جابرانہ تسلط، ظلم و جبر اور بارود کی بُو کے بُرے حالات و اثرات نے سیاحت کی صنعت کو تباہی کا شکار کر رکھا ہے۔ لیکن ماضی میں ریاست کے آزاد علاقے میں 3 ڈویژن اور10 اضلاع پر مشتمل حکومت آزادکشمیر اور محکمہ سیاحت و آثار قدیمہ کے ذمہ داران کی عدم توجہی کے باعث یہ اہم صنعت بُرے حالات کا ہی شکار رہی ہے۔ حالانکہ ذرا سی توجہ سے یہ صنعت آزاد خطہ کی معاشی نشو ونما کی رفتار کو کئی گنا تیز کر کے اسے حقیقی معنوں میں ایک ماڈل اسٹیٹ میں تبدیل کر سکتی ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہوسکتیں کہ خطہئ کشمیر کو دنیا میں جنت نظیر کہا گیا ہے .
دریائے نیلم کے دونوں اطراف میں دو سو سے زائد دیہاتوں پر پھیلی یہ خوبصورت وادی نیلم سطح سمندر سے2500 فٹ سے 20000 فٹ تک فلک بوس قیمتی جنگلات اور معدنیات کے خزانے اپنے اندر سموئے ہوئے پہاڑوں پر مشتمل 248 کلو میٹر علاقے کی وادی میں وادی لیسوا، جاگراں، سرُگن، لوات اور وادی گریس مشہور و سحر انگیز ہیں۔اور سیاحوں کی توجہ اپنی طر ف کھینچتی ہیں۔ نیلم ویلی میں آسمان سے باتیں کرتے سرسبز و شاداب پہاڑ اور ان میں چھُپی قیمتی معدنیات کے ذخائر قیمتی جڑی بوٹیاں، پن بجلی کے شفاف نالوں‘ میٹھے پانیوں کے چشموں، پہاڑوں اور گلیشئیرز سے بننے والی خوبصورت آبشاروں، دل موہ لینے والی جھیلوں، دریائے نیلم کے گنگناتے ٹھنڈے پانی اور دیودار، کائل، چیڑ، اخروٹ اور دیار کے قیمتی درختوں سمیت موسمی فروٹ سے لدے قیمتی درختوں کے جھرمٹ دنیا کی اس جنت نظیر وادی کا خاصہ ہیں جبکہ بر صغیر پاک و ہند کے معروف اولیائ کرام کے مزارات مقدسہ کے علاوہ بدھ مت اور ہندو مت کے مذہبی مقامات شاردا پیٹھ اور ہزاروں سال قبل ریاست میں شاردا یونیورسٹی کے آثار قدیمہ بھی دنیا بھر کے سیاحوں کیلئے دلچسپی کا باعث ہیں۔ ریاست میں ”للتادیتیہ” دور کی تاریخی شاردا یونیورسٹی کے آثار قدیمہ بھی دنیا بھر کے سیاحوں کیلئے دلچسپی کا باعث ہیں۔یقینی طور پر وادی نیلم دنیا میں قدرت کا ایک حسین شاہکار ہے اس کے قدرتی طور پر انتہائی خوبصورت، دلفریب اور دلکش نظارے دیکھ کر انسان محو حیرت رہ جاتا ہے کہ وہ جاگتی آنکھوں سے حسین و جمیل نظارے دیکھ رہا ہے،
حکومت آزادکشمیر نے 2019ئ کو سیاحت کا سال قرار دیکر پہلی کشمیر آرکیالوجی کانفرنس میرپور میں منعقد کرتے ہوئے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا اور پاکستان بھر سے آثار قدیمہ کے معروف ماہرین کو کانفرنس میں بلا کر عملی طور پر آگے بڑھنے کے مشن گو فاسٹ ٹریک پر ڈال دیا ہے۔ راقم سمیت سابق صدر ڈسٹرکٹ بار میرپور محمد ریاض انقلابی کی درخواست پر فل کورٹ سماعت کے بعد سپریم کورٹ آزادجموں وکشمیر کے حکم پرآزادکشمیر بھر کے تمام اضلاع سے ایک جامع پالیسی پر عملدرآمد کرتے ہوئے تاریخی مساجد، قلعوں، مندروں، گردواروں، باولیوں اور ہزاروں سال قدیم دنیا کی معروف شاردا یونیورسٹی و شاردا پیٹھ کو محفوظ بنا کر تزئین و آرائش کرنے کی غرض سے 57 آثارہائے قدیمہ کو دریافت کر کے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہوا ہے اور مرد و خواتین سمیت 137 اہلکاروں پر مشتمل ٹورازم پولیس فورس کو ابتدائی طور پر نئی 12 گاڑیاں اور 56 موٹرسائیکل بھی فراہم کرتے ہوئے آزادکشمیر کے داخلی و سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی سہولت و رہنمائی کیلئے 1422 کی ہیلپ لائن بھی متعارف کروا دی گئی ہے۔ اور مظفرآباد ایئرپورٹ کو بھی دوبارہ اپریشنل کرنے کیلئے چیف سیکرٹری آزادکشمیر نے عملی اقدامات اٹھانا شروع کر رکھے ہیں جبکہ حکومت نے سیاحتی فروغ کیلئے فاسٹ ٹریک حکمت عملی طے کرتے ہوئے ایک جامع پالیسی ویژن کے تحت سیاحتی شعبہ میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے ون ونڈو اپریشن سمیت آزادکشمیر کابینہ سے سیاحتی پالیسی کی منظوری اور ضلع میرپور میں منگلا ڈیم اور نہر اپر جہلم پر ٹورازم ریزارٹ بنانے اور منگلا ڈیم میں واٹر سپورٹس کی منظوری کروانے کے علاوہ وزیراعظم آزادکشمیرنے گزشتہ سال سیاحت کے فروغ کیلئے 27 ستمبر کو عالمی یوم سیاحت کے موقع پر ضلع مظفرآباد میں سطح سمندر سے2924 فٹ بلند پیر چناسی کے خوبصورت مقام پر پیرا گلائیڈنگ کپ کا انٹرنیشنل ایونٹ منعقدکیا۔
مظفرآباد سے آگے وادی نیلم جاتے ہوئے راستے میں دریائے نیلم کے کنارے پہلا پڑاؤ ٹیٹوال سیکٹر میں واقع LOC پر چلہانہ کراسنگ پوائنٹ پر ہوتا ہے، دریائے نیلم کے اُس پار مقبوضہ کشمیر میں آدھے چلہانہ گاؤں کے مکینوں اور بھارتی فوجیوں کو بھی چلتے پھرتے ہوئے دیکھ کر کچھ دیر کیلئے خوف کے سائے بھی سروں پر منڈلانے لگتے ہیں اس کراسنگ پوائنٹ سمیت جموں وکشمیر کے سینے پر کھینچی گئی جبری خونی لکیر لائن آف کنٹرول کی وجہ سے منقسم کشمیری خاندانوں کے باہمی ملاپ کیلئے دیگر قدرتی راستے بھی کھول کر جب 515 بلیّن روپے کی لاگت سے زیر تکمیل نیلم جہلم پراجیکٹ آزاد کشمیر کا دوسرا پن بجلی پیداوار کا 969میگا واٹ کا منصوبہ ہے ۔ جس میں دریائے نیلم کے پانی کو بلند و بالا پہاڑوں کے نیچے سے دریائے جہلم تک لے جانے کے لیے دنیا کی چھٹی بڑی ٹنل(سرنگ) 72.3میل تعمیر کی گئی ہے۔جس سے مستقبل میں 1040میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جا سکے گی ۔
اٹھمقام سے مغرب کی جانب وادی نیلم کی سب سے بلند اور خوبصورت جگہ رتی گلی جھیل ہے جہاں پہنچنے کیلئے پیدل راستہ ذرا کٹھن ہے جبکہ فورویل ڈرائیو پرانی جیپوں کے ذریعے بھی سیاح وہاں پہنچ سکتے ہیں ۔لیکن رتی گلی جھیل کے پر کیف نظاروں سے سیاحوں کا لطف اندوز ہونا انتہائی کٹھن ہے۔ مظفر آباد سے 136 کلو میٹر دور وادی نیلم کے سب سے قدیم تاریخی مقام ہزاروں سال پرانی شاردا بدھسٹ یونیورسٹی اور LOCسے 1 کلو میٹر پہلے مشہور ٹمپل شادرا پیٹھ 4 گھنٹے کی مسافت کے بعد جب شاردا پہنچ کر دریائے نیلم میں موٹر بوٹس کے نظاروں اور قدرت کی عظیم کرشمہ سازی و خوبصورتی دیکھ کر ساری تھکن دور ہو جاتی ہے اور ساتھ ہی ایک فرلانگ فاصلے پر شاردا یونیورسٹی کا بلند قدیمی تاریخی مقام ہے جہاں دنیا کی خوبصورت ترین وادی نیلم میں ہندو دھرم کے ماننے والوں کے مقدس مقام پر شاردا دیوی کے درشن اور شادرا پیٹھ کی یاترا کیلئے دنیابھر سے ہندو زعمائ اور پیروکار ہر سال بڑی تعداد میں آتے ہیں، قدیم تاریخی اس خوبصورت وادی کو زمانہ قدیم میں کشمیر ا پورہ و وسینی اور شاردا دیش بھی کہا جاتا رہا ہے جبکہ پہلی صدی عیسوی میں ہندو مت اور بدھ مت کے بڑے بڑے لکھاریوں کی یہاں 500 کتب کی لائبریری قائم کی گئی دنیا کے مشہور فلسفیوں ادھی شکرا اوررامن اوجچرا کے مطابق اسے بدھ و ہندو مذہب کے پیروکار بڑا رامنز ودننا سوترا کا نام بھی دیا گیا جبکہ علم و دانش کی دیوی سراسوتی شاردا دیوی کے نام پرمتحدہ ریاست کشمیر میں” للتا دیتیہ” کے دورمیں ہندو مذہب کے بڑے پیروکاروں کے دباؤ پر سطح سمندر سے 11 ہزار فٹ بلندی کے اس تاریخی مقام پر شاردار بدھسٹ یونیورسٹی اور شارداپیٹھ کی بنیاد رکھی جو کہ سرینگر سے 70میل اور کپواڑہ سے 30 کلو میٹر کے فاصلے پرواقع ہے۔ جبکہ زمانہ قدیم میں مندر کے قریب مدھومتی مقدس تالاب بھی تھاجہاں یاتری اشنان کیا کرتے تھے۔ تقسیم برصغیر سے قبل کشمیری پنڈتوں سمیت پورے برصغیر سے 2 ہزار سال قبل قدیم ہندوستان کے مہاراجہ اشوک اعظم اور ہندو کمیونٹی باقاعدگی سے شاردا مندر پر حاضری دیا کرتی تھی بلکہ بدھ مت کیلئے بھی قابل احترام ہونے کے باعث یہ مقدس مقام چین، جاپان، سری لنکا، تھائی لینڈ اور کوریا اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے سیاحوں کی توجہ کا بھی مرکز تھا اور ماضی میں یہاں جشن نو روز اور بیساکھی تہوار ایک ساتھ منایا جاتا رہا ہے جس میں مذہبی تفریق سے بالا تر ہو کر تمام مذاہب کے کشمیری باشندے انتہائی جوش و خروش سے باہم ملکر موسم بہا ر کا خیر مقدم کرتے تھے جبکہ انگریز سامراج کے زیر تسلط پورا برصغیر مذہبی تناؤ کا شکار رہنے کے باوجود وادی کشمیر مذہبی ہم آہنگی اور احترام انسانیت کے زریں اصولوں پر کاربند تھی۔ مورخین کے مطابق شاردا میں ہی 9 ویں صدی میں قدیم دیوتا ناگری رسم الخط شارداتخلیق کیا گیا۔ زمانہ قدیم میں جنوبی ایشیائ وسطی ایشیائ اور چین سے علم کے پیاسے طالبعلم یہاں کا رخ کرتے تھے۔
آزاد حکومت نے مثبت اقدامات سے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ آزادکشمیر میں ہندو آبادی صفر ہونے پر بھی حکومت نے ہندوؤں کے مقدس مقام شاردا پیٹھ کی بحالی کیلئے پاکستان ہندو کونسل سے تعاون کر کے قابل تقلید مثال قائم کی ہے جس سے عنقریب شادرا پیٹھ ایک ایسا رول ماڈل مقدس مقام بن کر سامنے آئے گا جس سے عالمی برادری جان سکے گی کہ کیسے اقلیتی مقامات کی حفاظت کی جاتی ہے۔
شاردا کے پر فضا اور سحرانگیز مقام سے آگے کیل، اڑنگ کیل اور آزاد علاقے کا آخری مقام تاؤ بٹ بھی سیر و سیاحت کے شوقینوں کیلئے دلچسپی کے اہم مقامات ہیں مگر دشوار اور خراب راستے اور سڑک کی عدم تعمیر بیشتر سیاحوں کی دلی خواہش کے راستے کی دیوار بن جاتے ہیں بالخصوص فیملیز کے ساتھ جانیوالوں کی تمنائیں دل میں ہی دم توڑ جاتی ہیں، چونکہ راقم 2012ئ اور 2013ئ میں وزیراعظم آزادکشمیر کے ہمراہ بطور پریس سیکرٹری دو مرتبہ فور ویل ڈرائیو جیپوں کے ذریعے شاردا سے آگے لائن آف کنٹرول پر آخری مقام تاؤ بٹ تک سفر کر چکا ہے۔ ان علاقوں میں جنگلات خوبصورت ریسٹ ہاؤس چیئر لفٹ کی سیر سے قدرتی حسن کے دلفریب نظارے اس جنت نظیر وادی میں قیام اس ضرب المثل کواور بھی تقویت پہنچاتے ہیں۔ جبکہ تاؤ بٹ میں دنیا کی لذیز ترین مچھلی ٹراؤٹ کی بھی موجودگی قدرت کا ایک انمول خزینہ ہے، ان علاقوں کے پہاڑوں میں دیگر قیمتی معدنیات کے علاوہ دنیا کا قیمتی پتھر روبی بھی بکثرت پایا جاتا ہے جبکہ موسم سرما میں زیادہ تر پہاڑ برف کی سفید چادر اوڑھ لینے اور تمام راستے برف سے بند ہوجانے کے باعث عوام اٹھمقام کی طرف اور نیچے مظفرآباد تک منتقل ہوجاتے ہیں۔ تاؤ بٹ میں محکمہ فشریز والوں نے دنیا کی نایاب لذیر ٹراؤٹ مچھلی کی افزائش نسل کیلئے ٹراؤٹ فش فارم بھی قائم کر رکھا ہے۔ مچھلی کی اس نایاب نسل ٹراؤٹ اپنی بے پناہ لذت و طاقت کیلئے مشہور ہے۔ اور دریا کی مخالف سمت میں تیرنا اسکی خاصیت ہے علاوہ ازیں ماضی میں وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف اور مریم نواز کے دورہ کیلئے دوران قیام بطور خاص دیار کی لکڑی سے بنایا گیا ریسٹ ہاؤس بھی فن تعمیر کا ایک قابل دید نمونہ ہے، مظفرآباد سے تاؤ بٹ تک 203 کلو میٹر سڑک کی تعمیر سے سفر میں آمد و رفت میں لاکھوں سیاحوں سمیت پاکستان کے اقلیتی یاتریوںاورسیاحوں کو بھی جدید سفری سہولیات میسر آئیں گی۔ وادی نیلم میں کیرن وہ واحد مقام ہے جہاں دریا کی چوڑائی بہت کم ہوجاتی ہے اور کیرن گاؤں کی مسلمان آبادی تقسیم برصغیر کے دوران دو حصوں میں بٹ کر رہ گئی اور حالات کی ستم ظریفی کہیے یا بھارتی جبرو تسلط کے اثرات کی سنگینی کہ کیرن گاؤں کے آر پارخوشی و غمی کے موقع پر وہ باہم مل کر مشترکہ طور پر اپنے جذبات و احساسات کا اظہار تو نہیں کر سکتے البتہ وہ دریائے نیلم کنارے کھڑے ہو کر باآواز بلند اپنے جذبات کا اظہار کرلیتے ہیں اور اس کے دوران بھی بھارتی درندے کئی بار انہیں اپنی گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے خاموش کرانے کی کوشش میں رہتے ہیں اور یہ بڑا انسانی المیہ ہے۔ ضلع میرپور کے مندروں، گردواروں اور قلعوں کے بارے بالخصوص منگلا ڈیم کنارے قلعہ رام کوٹ، پرانے میرپور میں زیر آب آنے والے رگو ناتھ مندر اور گوردوارہ علی بیگ کی حالت زار کے بھی قابل رحم ہے۔
اس میں شک نہیں کہ وادی نیلم جنت نظیر کشمیر کا ایک اہم ٹکڑا ہے جسے سیاحوں کے لئے دنیا پر جنت کہا جاتاہے لیکن سیاحوں کو مزید سہولیات دینے اور زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو آزادکشمیر بھر میں 57 سیاحتی مقامات کی تزئین و آرائش اور بہتری و ترقی دینے کے منصوبہ جات پر جلد سے عملدرآمد کو یقینی بنا کر سپریم کورٹ آزادکشمیر کے فل بنچ کے حکم کی تعمیل میں اقلیتوں کے مذہبی مقدس مقامات سمیت قلعوں، مساجد اور دیگر آثار ہائے قدیمہ کی مزید دریافتگی کیلئے بھی اقدامات اٹھانے کے لیے حکومت آزاد کشمیر اور محکمہ سیاحت و آثار قدیمہ نے جو تاریخی اقدامات اٹھائے ہیں اس کے لیے یقینا سابق چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر مسٹر جسٹس چوہدری محمد ابراہیم ضیاء اور موجودہ چیف چیف جسٹس مسٹر جسٹس راجہ محمد سعید اکرم بھی مبارک باد کے مستحق ہیں جن کے احکامات پر محکمہ سیاحت اور آثارِ قدیمہ نے قدیم تاریخی آثار ہائے قدیمہ سے قبضہ مافیا کے قبضوں کو واگزار کرانے کے علاوہ سیاحوں کے قیام و طعام کے دوران انہیں خود ساختہ مہنگائی مافیا سے نجات دلانے اور زیادہ سے زیادہ معیاری ہوٹلز موٹلز کا اہتمام کرنے میں کچھ حد تک پیش رفت کی ہے اور ابھی مزید عملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔کیونکہ وادی نیلم میں ٹمبر مافیا اور قبضہ مافیا نے بھی اپنے پنجے گاڑھ رکھے ہیں جو جنت نظیر خطہ کو جنگل کاٹ کاٹ کر ’’جہنم زار‘‘ بنانے میں مصروف عمل ہیں جبکہ بیوروکریسی کے بعض کل پُرزوں نے بھی لینڈ مافیا میں شامل ہو کر ’’بہتی گنگا میں خوب اشنان‘‘کیا ہے جس کے پیش نظر حکومت کو اپنی سیاحتی پالیسی کی کامیابی کیلئے ان اہم امور کی طرف بھی بھرپور توجہ دینی چاہیے۔کیونکہ سیاحت کے فروغ سے حکومت کو اربوں کی آمدن ہوسکتی ہے اور سیاحتی مقامات والے علاقوں میں اردگرد کے رہنے والے ریاستی عوام کو بھی اس کے ثمرات میں شامل کر کے انہیں بھی خوشحال زندگی بسر کرنے کے قابل بناکر آزاد خطہ کو ایک رول ماڈل بنانے کا خواب پورا کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح جنگلات کے بے دریغ کٹاؤ کو روکنے کیلئے حکومت کو فوری طور پر پابندی عائد کرنی چاہیے اور آئے روز جنگلات کو آگ کی نذر ہونے سے بچانے کیلئے مناسب اقدامات اٹھانے چاہیں۔ کیونکہ آزادکشمیر قدرتی دولت سے مالا مال اور بے شمار قدیم تاریخی مقامات ہونے کے باوجود یہاں سیاحت کی صنعت کی شرح نمو مایوس کن حد تک کم ہے حالانکہ یہ صنعت معیشت کو سالانہ اربوں روپے دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں ہر سال روایتی تہوار منائے جاتے ہیں مثلاً سپین کے شہر میڈرڈ میں ہر سال بیلوں کی دوڑ، چین ملائیشیا، تھائی لینڈ اور دیگر کئی ممالک میں ہر سال کائٹ فیسٹیول، بھارتی راجھستان میں اونٹوں کاسالانہ میلہ اور دیگر کئی ممالک میں بھی سیاحت کے فروغ سے ملکی ترقی و خوشحالی کے معاملات کو خوش اسلوبی سے چلایا جارہا ہے کیونکہ سیر و سیاحت دنیا کی سب سے زیادہ ترقی کرنیوالی صنعت ہے اور بیشتر
ممالک میں بین الاقوامی سیر و سیاحت سب سے زیادہ زر مبادلہ کمانے اور ادائیگیوں کو توازن میں لانے کا ایک اہم عنصر ہے۔اس لیئے اس اہم صنعت پر خصوصی توجہ دے کر حکومت مالی طور پر خود کفیل ہو کر سیاحت کے فروغ کے ساتھ ساتھ عام عوام کو بھی اپنے پاؤں پر کھڑا کر سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *