پاکستانی کسان ہمارا مان

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

پاکستانی کسان ہمارا مان

پاکستان ایک زرعی ملک ہے، جہاں کی مٹی اپنی زرخیزی اور حسنِ قدرت کی بنا پر دنیا بھر میں پہچانی جاتی ہے۔ اس دھرتی کو اگر کسی نے آباد رکھا ہے تو وہ ہمارے کسان ہیں۔ کسان صرف کھیتوں میں ہل چلانے والے نہیں بلکہ ملک و قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ان کی محنت، پسینہ اور قربانیاں ہی ہیں جو پاکستان کی معیشت کو سہارا دیتی ہیں۔
کسان کی صبح طلوعِ آفتاب سے پہلے ہوتی ہے۔ وہ کھیتوں میں جا کر بیج بوتا ہے، زمین کو سیراب کرتا ہے اور اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر موسمی سختیوں کا مقابلہ کرتا ہے۔ کبھی جھلساتی دھوپ میں پسینہ بہاتا ہے، کبھی کڑاکے کی سردی میں کھیت سنبھالتا ہے۔ اس کی محنت کے نتیجے میں ہمارے دسترخوان پر اناج، سبزیاں، پھل اور دیگر غذائیں سجتی ہیں۔ اگر کسان نہ ہو تو ہم بھوک اور افلاس کا شکار ہو جائیں۔

؎ پسینہ اُس کا زمین کو زرخیز بناتا ہے
؎ جو خود بھوکا رہے، قوم کو نوالہ کھلاتا ہے

ہمارے کسان آج بھی بے شمار مشکلات کا شکار ہیں۔ مہنگے بیج، کھاد اور زرعی ادویات، بڑھتی ہوئی لاگت اور مارکیٹ میں مناسب قیمت نہ ملنا ان کی کمر توڑ رہا ہے۔ اکثر اوقات کسان اپنی محنت کا پورا پھل حاصل نہیں کر پاتے۔ ان مسائل کے حل کے بغیر ہم زرعی ترقی کے خواب کو شرمندۂ تعبیر نہیں کر سکتے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ارباب بست وکشاد کسانوں کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح بنائیں۔ جدید ٹیکنالوجی، سستی کھاد اور اعلیٰ معیار کے بیج کسان تک پہنچانے چاہئیں۔ زرعی قرضے آسان شرائط پر مہیا کیے جائیں تاکہ کسان مالی دباؤ سے نکل سکے۔ مارکیٹ میں کسان کی اجناس کو مناسب قیمت دلوانے کے لیے پالیسی سازی ناگزیر ہے۔
پاکستان کا کسان ہمارا فخر ہے، ہمارا مان ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہی کسان ہے جو اپنی محنت سے ملک کو غذائی خودکفالت کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ اگر ہم نے کسان کو خوشحال بنا دیا تو پاکستان کا ہر فرد خوشحال ہو گا۔

؎ یہی کسان ہے جو دھرتی کو سنوارتا ہے
؎ یہی کسان ہے جو پاکستان کو سنبھالتا ہے
اے اللہ! ہمارے کسان کی محنت کو برکت عطا فرما، اس کی فصلوں کو ہریالی بخش، اس کی محنت کا صلہ اسے پورا اور ڈھیروں عطا کر اور ہمارے وطن کی زرخیز زمین کو ہمیشہ آباد و شاد رکھ۔ آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *