قصہ مختصر

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

قصہ مختصر

زندگی ایک طویل سفر ہے۔ یا شاید ایک لمحہ۔ کبھی لگتا ہے کہ صدیوں پر محیط ہے، اور کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پلک جھپکتے ہی سب کچھ بیت گیا ہو۔ ہم سب اس زندگی کے مسافر ہیں، جنہیں یہ بھی علم نہیں کہ ہم کہاں سے آئے، اور کدھر جانا ہے۔ بس، چلتے جا رہے ہیں۔ اور اس چلنے کا کوئی واضح نقشہ نہیں، کوئی منزل متعین نہیں۔ ہاں، کچھ خواب ہیں، کچھ خواہشیں، کچھ مجبوریوں کا بوجھ، اور کچھ تعلقات کے دھاگے جو ہمیں تھامے رکھتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب ہم بچپن میں تھے، معصوم اور بے فکر۔ نہ دنیا کی فکریں، نہ دل کے دُکھ۔ پھر جوانی آئی اُمیدوں کے ساتھ، جذبوں کے ساتھ، شور کے ساتھ۔ ہم نے سوچا کہ ہم دنیا بدل ڈالیں گے، مگر دنیا نے ہمیں بدل ڈالا۔ تعلقات کی حقیقت کھلی، چہروں کے پیچھے چھپے چہرے نظر آئے، اور سمجھ آیا کہ ہر مسکراہٹ کے پیچھے کوئی درد چھپا ہوتا ہے۔ ہم نے محبت کی، بے لوث، بےحد، اور شاید بے وقوفی سے بھی۔ مگر محبت ہمیشہ ویسی نہیں لوٹتی جیسی دی جائے۔ اکثر یہ یکطرفہ رہتی ہے، اور اگر دوطرفہ بھی ہو جائے، تو وقت اسے ماند کر دیتا ہے۔ قصہ مختصر، محبت ایک خوبصورت فریب ہے جو جینے کا حوصلہ تو دیتا ہے، مگر اکثر دل توڑ کر چلا جاتا ہے۔ دوستی بھی کی، خلوص سے، خندہ پیشانی سے۔ کچھ دوست زندگی بھر ساتھ رہے، کچھ وقت کے ساتھ چھوٹ گئے۔ کچھ نے پیٹھ پیچھے وار کیا، اور کچھ نے وقت پڑنے پر کندھا دیا۔ سچ پوچھو تو وقت ہی اصل دوست ہے جو ہمیشہ ساتھ رہتا ہے، چاہے خوشی ہو یا غم۔ اور وقت ہی سب سے بڑا دشمن بھی ہے جو سب کچھ لے جاتا ہے، آہستہ آہستہ۔ خاندان، رشتے، ذمہ داریاں یہ سب زندگی کا حصہ ہیں۔ مگر ہم اکثر ان کی قدر تب کرتے ہیں جب وہ ہم سے چھننے لگتے ہیں۔ والدین کی محبت، بہن بھائیوں کی ناراضگی، بچوں کی معصومیت سب کچھ دھیرے دھیرے گزرتا ہے، اور ایک دن ایسا آتا ہے جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں، اور صرف یادیں باقی رہ جاتی ہیں۔
کامیابی کے پیچھے دوڑے، خوابوں کو حقیقت بنانے کی جدو جہد کی۔ نیندیں قربان کیں، دل کی آواز دبائی، اور سماج کے اصولوں کے تحت جینے لگے۔ اور جب تھوڑا بہت حاصل ہو گیا، تو احساس ہوا کہ اصل خوشی شاید اُن لمحوں میں تھی جنہیں ہم نے کھو دیا۔ جن لمحوں میں ہم سچے تھے، اپنے آپ سے۔ پھر ایک دن بیٹھ کر سوچتے ہیں کیا حاصل کیا؟ کیا کھویا؟ کیا سیکھا؟ اور جواب میں صرف ایک ہی جملہ آتا ہے:
“قصہ مختصر، زندگی جتنی بڑی لگتی ہے، اتنی ہوتی نہیں۔”
یہ سب لمحے، سب تعلقات، سب خواب، سب حقیقتیں سب عارضی ہیں۔ ہم بس ایک مختصر سی کہانی ہیں، جو دنیا کے بڑے ناول میں ایک باب کی طرح لکھی گئی ہے۔ کل کوئی اور آئے گا، کوئی اور قصہ ہو گا۔ ہم بھول جائیں گے، یا شاید یاد رہ جائیں گے، لیکن صرف ایک نشان کی صورت۔ لہٰذا، اگر زندگی ایک قصہ ہے تو اسے خوبصورت بناؤ۔ معاف کر دو، محبت کر لو، ہنس لو، رو لو، لیکن جی لو۔ کیونکہ!
قصہ مختصر: زندگی بار بار نہیں آتی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *