آندھیِ غم

آندھیِ غم

آندھیاں غم کی یوں چلی کہ باغ اجڑ کر رہ گئے
خوشبو کے دیس سے سب خواب اور رنگ چھن کر رہ گئے

وہ جو کبھی ہنستا تھا، اب صدا میں خاموشی ہے
دل کی وادیوں میں بس درد کی ندی بہہ کر رہ گئی

پرندے جو گنگناتے تھے، گیتِ محبت کے سارے
آج بے آواز ہیں، خزاں کی سرکار ہے

ہر پھول کی کلی میں چھپا تھا ایک چراغ روشن
آندھی نے بجھا دئیے، روشنی کے نشان

آنکھوں سے بہتے ہیں موتی، سمندر سے گہری
دھند میں چھپ گیا وہ چہرہ جو کبھی پیارا تھا بہت

دھوپ تھی، چھاؤں تھی، پھر بھی تھا ایک بہار کا سماں
آندھی نے سب کچھ لے لیا چھوڑ دیا صرف فسانہ

اب تو سنسان ہے ہر راہ، اور سناٹا ہے ہر گلی
یادوں کے دیے جلاتے ہیں، اور دعا کرتے ہیں

کہ کبھی لوٹے وہ خوشی، کبھی ملے سکون کا سایہ
باغ میں پھر کھلیں گے پھول، پھر سے ہو محبت کی نرگس صدا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *