غزہ
زمیں کی نبض پر لکھا ہوا ہے ایک افسانہ،
جہاں ہر اینٹ چیختی ہے، ہر دیوار ہے ویرانہ۔
مگر دلوں میں ایمان کا چراغ جل رہا ہے،
لہو سے سرخ بادلوں میں بھی سحر پل رہا ہے۔
گھروں کے ملبے تلے بھی اذانیں گونجتی ہیں،
یتیم لبوں سے بھی صبر کی صدا اٹھتی ہے۔
یہ کون ہیں؟ کہ جن کی رگ میں خونِ حمزہ دوڑتا،
یہ کون ہیں؟ کہ تیر کھا کے بھی صفوں میں کھڑا رہتا۔
اے غزہ! تیری ریت پر ہے شہادتوں کا رنگ ہے،
اے غزہ! تیری رات میں صبر کا ترنگ ہے۔
ظلم کے طوفان کب سچ کے سفینے روک پاتے؟
تیرگی کے ہاتھ کب نور کے پرچم چھین پاتے؟
وہ جانتے ہیں، کربلا کی راہ ہے یہ تیری راہ،
جہاں ہر قطرۂ لہو ہے وفا کا اک گواہ۔
جو آج خاک و خون کی وادیوں میں بولتے ہیں،
وہ کل زمانے کی کتابوں میں اصول ہوتے ہیں۔
سلام تجھ پہ غزہ، تجھ پہ لاکھوں رحمتیں ہوں،
وفا کے ہر چراغ پر تیرے صدق کے عود ہوں۔
یہ جنگ تیری نہیں، یہ حق کی لڑائی ہے،
یہ خون تیرا نہیں، یہ امت کی گواہی ہے۔
اٹھے گا صبح کا سورج تیری جیت کی نوید لے کر،
ظلم کا ہر بُت گرے گا، حق کی روشنی کی دید لے کر۔
-
عرفانیہ تبسّم ایک کالم نگار اور شاعرہ ہے آپکا تعلق جہلم سے ہے۔ آپ کی شاعری اور کالم مختلف اخبارات اور رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔
ان کی مزید تحاریر پڑھیں
Recent Posts
