امید


امید

جب وقت بدلنے لگے
اور آزمائشیں
زندگی کا روپ دھار لیں
جب سحر دکھ سے جاگے
اور شام، درد کی چادر اوڑھ لے
جب ہر سو اندھیرا ہو
اور سانسیں،
تھکن کی زنجیروں میں بندھ جائیں
دوست!
خاموش ہو جائیں
اور اپنوں کی آنکھوں میں بھی
اجنبیت کے سائے اتر آئیں
جب دل تھکنے لگے
اور ذہن، سکون کی تلاش میں
ویران راستوں پر بھٹکے
تب بھی!
کہیں دل کے کونے میں
اک نرم سی، مدھم سی امید
دھڑکن بن کے زندہ رہتی ہے
جو کہتی ہے:
یہ وقت گزر جائے گا!
یہ خالی لمحے
پھر سے خوشبو بن جائیں گے
خلوص، پلٹ کر
دروازہ کھٹکھٹائے گا
آزمائشوں کے بادل چھٹ جائیں گے
اور سورج، روشنی کے گیت گائے گا
اک دن!
اک نیا سویرا ہوگا
جہاں صرف محبت کی خوشبو ہوگی
یہی اک امید ہے
جو دل میں پلتی ہے
اے زندگی!
کبھی تو خوشیوں کا بسیرا ہوگا
کبھی تو وقت میرا ہوگا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *