احساسات بولتے ہیں
احساسات بولتے ہیں، مگر سننے والا چاہیے
یہ دل کی سرگوشیاں ہیں، انہیں سمجھنے والا چاہیے
کبھی ہنسی میں چھپے ہیں، آنسوؤں کے استعارے،
کبھی خامشی کہہ گئی، دل کے سارے نظارے
یہ لفظوں سے نہیں، نگاہوں سے بات کرتے ہیں،
یہ جذبے ہیں، جو چھو کر ثبات کرتے ہیں
کبھی یاد بن کے جھانکتے ہیں ماضی کے دریچوں سے،
کبھی خواب بن کے اترتے ہیں پلکوں کے سائبانوں سے
کبھی خوشبو بن کے بہک جاتے ہیں صحنِ دل میں،
کبھی درد بن کے برستے ہیں خاموشی کی سلگن میں
ان کی کوئی زبان نہیں، مگر اثر بےمثال ہے،
یہی تو روحِ محبت، یہی تو زندگی کا حال ہے
لفظوں کے شور میں اکثر یہ کھو جاتے ہیں،
مگر جو دل سے سنتے ہیں، وہ سنبھل جاتے ہیں
احساسات بولتے ہیں، اگر دل جاگتا ہو،
یہی تو رازِ ہستی ہے، جو دل آگاہ کرتا ہو
اور جب کوئی سن لے، یہ بولتے نہیں، رُلا دیتے ہیں،
یہی احساسات تو انسان کو انسان بنا دیتے ہیں
-
عرفانیہ تبسّم ایک کالم نگار اور شاعرہ ہے آپکا تعلق جہلم سے ہے۔ آپ کی شاعری اور کالم مختلف اخبارات اور رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔
ان کی مزید تحاریر پڑھیں
Recent Posts
