اعتبار
اعتبار
ایک چھوٹا سا لفظ،
مگر کندھوں پر
پہاڑ جیسا بوجھ رکھتا ہے۔
یہ رشتوں کی بنیاد ہوتا ہے،
مگر نظر نہیں آتا۔
جیسے ہوا،
جیسے دعا،
یا جیسے وہ خاموشی
جو سب کچھ کہہ دیتی ہے۔
ہم دوست بناتے ہیں،
ایک کپ چائے پر،
دو باتوں پر ۔۔۔
اور دل دے بیٹھتے ہیں
صرف اس امید پر
کہ سامنے والا
ہمیں ویسا ہی سمجھے گا
جیسے ہم خود کو جانتے ہیں۔
ماں باپ پر
بچپن میں جو اعتبار ہوتا ہے،
وہ وقت کے ساتھ
کبھی پختہ ہو جاتا ہے،
کبھی بکھر جاتا ہے ۔۔۔
کسی ناتمام مکالمے میں۔
کبھی ہم وقت پر بھروسہ کرتے ہیں،
کہ زخم بھر جائیں گے،
کہ انصاف ہو جائے گا،
کہ حالات بدلیں گے…
مگر وقت؟
وہ سب سے خاموش غدار ہوتا ہے۔
وقت کے ساتھ
سب بدلتا ہے۔۔۔
راز رکھنے والے ،رازداں نہیں رہتے۔
جن پر اعتبار کر کے
اپنی حدود توڑی ہوں،
وہی حدود متعارف کرواتے ہیں
پھر انسان تھک جاتا ہے،
اور سوچتا ہے۔۔
کیا اعتبار کرنا کمزوری ہے؟
یا یہ وہ ہمت ہے
جو ہم ہر شکست کے بعد
پھر سے پیدا کرتے ہیں؟
کبھی اعتبار
کسی مسکراہٹ سے بندھ جاتا ہے،
کبھی برسوں کی قربت میں بھی
نہیں اُگتا۔
کچھ لوگ لفظوں سے اعتماد جیتتے ہیں،
اور کچھ ۔۔
خاموشی سے چھین لیتے ہیں۔
اعتبار
آئینے کی طرح ہوتا ہے،
ایک بار دراڑ پڑ جائے
تو عکس تو رہتا ہے…
مگر خود کو دیکھنے کا حوصلہ
کھو جاتا ہے۔
ہم سیکھتے ہیں
کہ لوگوں پر نہیں،
باتوں پر نہیں۔۔۔
اپنے دل پر
اعتبار کرنا سیکھیں۔
وہ دل
جو ہر بار ٹوٹ کر بھی
کسی نئے چہرے میں
امید ڈھونڈ لیتا ہے۔
اور تب ۔۔
زندگی یہ سبق دیتی ہے:
کہ اعتبار کمزوری نہیں،
بس وہ روشنی ہے
جو اندھیروں میں
کبھی کبھار
خود ہم سے بھی سوال کرتی ہے ۔۔
“کیا اب بھی چراغ جلانا ہے؟”
