غزل

تیری خوشبو،ہوا نہیں ملتی
سانس بھی ہر جگہ نہیں ملتی

شہر کا شہر چھان مارا ہے
تیرے دکھ کی دوا نہیں ملتی

آستانوں کی خاک چھانی ہے
ماں کے جیسی دعا نہیں ملتی

کیسے چھوڑوں گی اپنے گاؤں کو
شہروں میں یہ فضا نہیں ملتی

ٹوٹ کر میں نے یہ بھی جان لیا
ٹوٹے دل کی دوا نہیں ملتی

تو نے مجھ کو بھکاری سمجھا ہے؟
میں بھی نمرہ ہوں جا۔۔نہیں ملتی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *