صمود فلوٹیلا
سمندر کی لہروں پر
سفر کرتا ہوا کارواں
ہوا کی رفتار سے مسافت
طے کرتی ہوئی کشتیاں
بے گناہ، مظلوموں کے
دکھ، درد کا سماں
لیے صمود فلوٹیلا
غزہ جا رہا ہے
امت مسلمہ کو سبق
سیکھانے یہ قافلہ
ہمت کرکے نکل گیا ہے
ہائے! ان یہودیوں نے
اس قافلے پر حملہ کردیا
انسانیت کے رکھوالوں کو
اپنی قید میں ڈال لیا
اے امت مسلمہ!
آخر کب تک تم یونہی
اپنی آنکھوں سے
دیکھتے رہو گے؟
کیوں نہیں مدد کے
لیے نکلتے ہو؟
کیوں اس قافلے والوں
کا ساتھ نہیں دے رہے ہو؟
اے بے خبر حکمرانوں!
اٹھ جاؤ کہ
قیامت نزدیک ہے
ورنہ بروز محشر
ملال کے سوا کچھ
نہیں ملے گا
اے صمود فلوٹیلا!
خدا تمہاری حفاظت
ہر قدم پر کرے
تمہارے لیے لمحہ
لمحہ آسانیاں کرے
-
محترمہ کا نام عمارہ عابد ہے اور آپ صادق آباد کی رہنے والی ہیں۔ آپ ادب کی دنیا میں اپنا مقام بنانے کی جستجو کررہی ہیں۔ ابھی تک مختلف انتھالوجی کتابیں جن میں ” شعاع افگن، سلسلہ ہجر، روشن راہوں کے مسافر، کوہ نور، حی علی الفلاح، ہر کہانی ہر صفحہ، عصمت حوا، امن کی چھاؤں“ میں آپ کی تحریریں شائع ہوچکی ہیں۔ اس کے علاؤہ چند کتابیں ابھی زیر اشاعت ہیں جن میں آپ نے اپنے قلم کا ہنر دکھانے کی کوشش کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف میگزین، ڈائجسٹ، اخبارات میں آپ کا لکھا ہوا شائع ہوتا رہتا ہے۔ ادب اطفال کے لیے لکھی گئی کہانیاں بھی اشاعت کا جامہ اوڑھ چکی ہیں۔ کرن کرن میگزین اور نئے افق میں بھی آپ کی کہانی شائع ہوچکی ہے۔ آپ مقابلہ جات میں حصہ لیتی رہتی ہیں جس میں مختلف اسناد کے ساتھ انعام سے بھی نوازی جا چکی ہیں
ان کی مزید تحاریر پڑھیں
Recent Posts
