اسلامیات… وہ بھولا ہوا سبق

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

اسلامیات… وہ بھولا ہوا سبق

“جب تعلیم کا مقصد صرف روزگار رہ جائے،
تو کردار کی روشنی ماند پڑ جاتی ہے۔”

مقامِ افسوس ہے کہ مسلمان کا لقب ماتھے پر سجا کر بھی ہم خود کو حقیقی مسلمان ثابت نہ کر سکے۔
ہمارے تعلیمی اداروں کا یہ حال ہے کہ سائنس، انگریزی اور ریاضی کے لیے تو بہترین اساتذہ مقرر کیے جاتے ہیں، باقاعدہ ٹیسٹ لیے جاتے ہیں، افسرانِ بالا کے دورے بھی انہی مضامین پر مرکوز رہتے ہیں۔
مگر افسوس! اسلامیات کے لیے اکثر ایک غیر موزوں یا غیر سنجیدہ استاد کا انتخاب کر کے ہم اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاتے ہیں۔

وہ استاد، یا تو اسلامیات کی کلاس لیتا ہی نہیں،
اور اگر کبھی لے بھی لے تو انداز کچھ یوں ہوتا ہے:
“یہاں سے یہاں تک یاد کر کے آنا۔”

ہم کیسے مسلمان ہیں کہ سائنسی مضامین کے لیے تو ساری توانائیاں صرف کر دیتے ہیں،
مگر اسلامیات کے ایک آدھ صفحے کی قرأت پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔
نہ ہمارے اندازِ بیاں میں کشش،
نہ ہماری گفتگو میں فصاحت و بلاغت۔
یوں ہم اپنے بچوں کے لیے اسلامیات کے پیریڈ کو ایک بورنگ مضمون بنا کر رکھ دیتے ہیں۔

اسلامیات کی کتابیں اگر غور سے دیکھی جائیں تو یہ صبر، برداشت، عفو و درگزر، اخوت و محبت جیسے قیمتی موضوعات سے بھری ہوئی ہیں۔
مگر ہمارے نوجوان آج اضطراب، خودکشی، بددیانتی اور اخلاقی زوال میں مبتلا ہیں۔
ہماری قوم کے نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لیے، دلوں میں اندھیرا لیے پھر رہے ہیں۔

کاش! ہم اسلامیات کو اس کا اصل مقام دے سکیں۔
ورنہ یاد رکھئے —
جو قوم اپنے اصل کو بھلا دیتی ہے،
وہ ذلیل و خوار ہو کر رہ جاتی ہے۔

اللہ ہمیں اپنی تعلیم میں دین کی روشنی شامل کرنے،
اور اسلامیات کو محض مضمون نہیں، عمل کا سبق بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *