آخری گھنٹی کی صدا
. اسکول میں علم کی خوشبو تھی . اسمبلی کی گھنٹی بجی، خواب بستوں میں سرسرائے، بچوں نے مستقبل کو ہتھیلیوں میں رکھا، انجان مستقبل، مگر امید میں بندھا روشن مستقبل۔ عائشہ کھڑکی کے پاس بیٹھی، پنسل سے کاغذ پر پرندہ بناتی رہی، جیسے پرواز کا یقین لکھ رہی ہو۔ پھر یکایک وہ ہوا جس نے علم کی سانس کاٹ دی۔خوف نے ماحول کو جکڑ لیا لیکن یقین کامل نے چراغ جلائے۔ ننھے لبوں سے آیات ٹپکیں جن کو زمین نے سنا، آسمان نے تھام لیا۔ ایک اور گھنٹی بجی، لوہے کی نہیں بلکہ دل کی۔ اس کی صدا خون میں نہائی ہوئی تابندگی کی سی تھی۔ظلمت نے عمارت کو کفن اوڑھا دیا۔ فرش پر گرے ہوئے بستے تاریخ کی کتاب بن گئے۔ خون نے سبق لکھا: “علم کو ڈرایا جا سکتا ہے، مارا نہیں۔”
بچے ابدی نیند سو گئے، مگر ان کی آواز وقت میں جاگتی رہی۔ ہر روشن ضمیر، ہر چراغ نے گواہی دی۔ یہ آخری گھنٹی نہ تھی، یہ عہد، کی بیداری، اور مزاحمت کا اعلان تھی۔کہانی نے عہد باندھا کہ روشنی اندھیرے کے سامنے ہمیشہ ڈٹی رہے گی، اس استاد کی طرح جو بندوق کے سامنے سینہ سپر ہو کر تاریخ میں امر ہو گئی۔
-
سعید فاطمہ ایک شاعرہ، کالم نگار اور افسانہ نگار ہیں۔ ایم فل زوالوجی اور ایم ایڈ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئیں۔ آپ کی تخلیقات روزنامہ پاکستان، ماہنامہ انسانیت اور دیگر اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکی ہیں۔
افسانہ نویسی کے مقابلوں میں آپ نے ضلعی سطح پر پہلی پوزیشن اور صوبائی سطح پر دوسری پوزیشن حاصل کی۔
شاعری، کالم اور افسانہ—تینوں میدانوں میں آپ کی تحریریں محبت، سماج اور زندگی کی حقیقتوں کو اجاگر کرتی ہیں۔
ان کی مزید تحاریر پڑھیں
