یہ دسمبر کی آخری ساعت ہے
اور یہ سال
میرے سامنے
استاد کی طرح کھڑا ہے
اس نے جو سبق پڑھایا
وہ کسی کتاب میں نہ تھا
جسے عمر بھر
کوئی اور نہ سکھا سکا
میں نے جن پر
جن پر آنکھیں بند کر کے
بھروسا کر لیا تھا
وہی ثابت ہوئے
کہ بھروسے کے قابل ہی نہیں
اس سال نے
میری آنکھوں سے
خوش فہمی کے پردے ہٹا دیے
اور سچ
بغیر اجازت ہی
میرے اندر سرایت گیا
میں نے جانا
محبت ہمیشہ وعدوں میں پوشیدہ نہیں ہوتی
اور اعتبار
ہر مسکراتے چہرے کا حق نہیں ہوتا
اس برس نے
میرے سوچنے کا زاویہ بدل دیا
زندگی کو دیکھنے کا
انداز بدل دیا
میں وہ نہیں رہی
جو پچھلے سالوں میں تھی
میرے اندر
کچھ ٹوٹا بھی ہے
کچھ بنا بھی ہے
اب میں کم معصوم
مگر زیادہ مضبوط ہوں
دسمبر کی اس آخری ساعت میں
میں اعتراف کرتی ہوں
میں بدل چکی ہوں
میرا اندر بدل چکا ہے
وہ جنہوں نے میرے اعتماد کی
دھجیاں بکھیر دیں
ان کی خاطر
میں اب وفاشعارنہں رہی
میں زندگی کی آخری ساعت تک
بے وفا رہوں گی
اور شاید یہ راز کوئی جان نہ پائے گا
کہ اس برس نے مجھے
بہترین اداکارہ بنا ڈالا ہے
کیونکہ میں جان گئی ہوں
دنیا لبادوں میں لپٹی
عجب گورکھ دھندہ ہے
اور مجھے اس دنیا کے جیسا بننا ہی پڑے گا
یہی سب سے بڑا سبق تھا
جو اس برس نے مجھے عنایت کیا
-
سعید فاطمہ ایک شاعرہ، کالم نگار اور افسانہ نگار ہیں۔ ایم فل زوالوجی اور ایم ایڈ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئیں۔ آپ کی تخلیقات روزنامہ پاکستان، ماہنامہ انسانیت اور دیگر اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکی ہیں۔
افسانہ نویسی کے مقابلوں میں آپ نے ضلعی سطح پر پہلی پوزیشن اور صوبائی سطح پر دوسری پوزیشن حاصل کی۔
شاعری، کالم اور افسانہ—تینوں میدانوں میں آپ کی تحریریں محبت، سماج اور زندگی کی حقیقتوں کو اجاگر کرتی ہیں۔
ان کی مزید تحاریر پڑھیں
