شانگلہ اور بونیر پکار رہے ہیں

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

وقت آزمائش کا ہے، صبر کا ہے، اور قوم کے اصل چہرے کے نقاب ہونے کا ہے۔ ہمارا پیارا وطن، جس کی وادیوں میں کبھی امن کی ہوائیں بہا کرتی تھیں، آج قدرتی آفات کے ہاتھوں لرزاں ہے۔ شانگلہ، بونیر، بٹگرام اور گرد و نواح کے عوام اِک قیامت خیز دور سے گزر رہے ہیں۔ آسمان سے برستی بارش گویا آنسو بن کر زمین پر گری ہے، اور زمین کی آغوش نے اپنے ہی باسیوں کو نگلنا شروع کر دیا ہے۔ جو کچھ ان علاقوں میں ہوا ہے، وہ صرف “خبر” نہیں، ایک “نداء” ہے — ایک بے زبان فریاد، جو ہرصاحبِ ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہے۔ سیکڑوں گھر، ہزاروں خواب، اور نجانے کتنے مستقبل کی امیدیں پانی کی بے رحم موجوں کی نذر ہو چکی ہیں۔ ان مظلوموں کی چیخیں، سسکیاں اور آہیں اب فطرت کے دامن سے ہو کر ہماری اجتماعی غیرت کو للکار رہی ہیں۔ ایسے میں جہاں اکثر ریاستی ادارے یا تو خوابِ غفلت میں ہیں یا مصلحتوں کے قیدی بنے بیٹھے ہیں، وہاں چند چراغ ایسے بھی ہیں جو اندھیرے سے نبرد آزما ہیں۔ انہی میں سے ایک معتبر اور باوقار نام انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کا ہے، جس نے روایتِ خیر کو برقرار رکھتے ہوئے ایک بار پھر انسانیت کی خدمت کا پرچم بلند کیا ہے۔یونین کے رضاکار نہ صرف الفاظ سے مرہم رکھ رہے ہیں بلکہ عملی اقدامات سے بھی دنیا کو بتا رہے ہیں کہ جب کوئی علاقہ پکارے، تو اہلِ قلم خاموش نہیں رہتے۔ بونیر میں ابتدائی امدادی کارروائیوں کے بعد اب شانگلہ، بٹگرام، کوهستان اور دیگر متاثرہ علاقوں کی طرف اگلا قدم بڑھایا جا رہا ہے۔ یونین کی دوسری بڑی امدادی کھیپ — جس میں ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد مالیت کی ادویات، ضروری اشیائے خور و نوش، طبی سامان، اور دیگرلوازمات شامل ہیں…31 اگست کو روانہ ہو رہی ہے۔ یہ محض امدادی قافلہ نہیں، یہ عزم کا قافلہ ہے، یہ احساس کا کارواں ہے، جس کی قیادت خود تنظیم کے چیئرمین، صدر، جنرل سیکرٹری اور مرکزی قائدین کر رہے ہیں۔ ساتھ میں پیرا میڈیکل اسٹاف اور رضاکار بھی شامل ہیں، جو نہ صرف جسموں کا بلکہ دلوں کا علاج کرنا جانتے ہیں۔ یہ کام نہ شہرت کے لیے ہے، نہ فوٹو سیشن کے لیے، اور نہ وقتی داد کے لیے — بلکہ یہ ایک مقدس فریضہ ہے، ایک ایمانی ذمہ داری ہے، جو صرف “خدمتِ خلق” کے جذبے سے سرشار ہے۔ ہم آج اس پلیٹ فارم سے قوم کے ہر ذی شعور فرد، ہر صاحبِ دل، اور ہر صاحبِ حیثیت پاکستانی سے مؤدبانہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس مشن کا حصہ بنیں۔آئیے!..لفظوں کو ہتھیار بنائیں، ایسا ہتھیار جو دلوں کو فتح کرے، زخموں پر مرہم رکھے،آئیے!.سیاست سے بالاتر ہو کر انسانیت کے سائے میں کھڑے ہو جائیں….آئیے! مل کر ان مظلوموں کو وہاں لے چلیں، جہاں وہ اس قیامت سے پہلےکھڑے تھے… عزت، امن اور خوش حالی کے مقام پر… یہ وقت نعرے لگانے کا نہیں، یہ وقت اٹھ کھڑے ہونے کا ہے۔ یہ وقت ہے ان ننھی جانوں کی آنکھوں سے آنسو پونچھنے کا، ان ماؤں کے سینوں کو قرار دینے کا، اور ان بزرگوں کے لرزتے ہاتھوں میں سہارا دینے کا۔ اگر ہم نے آج ان کی پکار پر لبیک نہ کہا، تو تاریخ ہمارا محاسبہ کرے گی، اور اگلی نسلیں ہم سے سوال کریں گی، کہ جب شانگلہ اور بونیر پکار رہے تھے — تو ہم کہاں تھے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *