⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔
پہچان کی پیاس
زندگی کے سو رنگ ہوتے ہیں خوشی، غم، وفا، بےوفائی، امید، بےبسی سب کچھ مگر ان رنگوں میں ایک ایسا خاکستری رنگ بھی ہے جو ہمیشہ عورت کے حصے میں آتا ہے ایک ایسا بےنام سایہ، جو ہر عورت کے ساتھ ہوتا ہے، مگر وہ اس کا نام نہیں لے سکتی اور وہ نام ہے: “اپنا گھر”
ہم اکثر سنتے ہیں، بولتے ہیں، اور روزمرہ کی زبان میں دہراتے ہیں: “میں امی کے گھر جا رہی ہوں””میں بہن کے ہاں جا رہی ہوں”
“پھپھو کے گھر ہوں، خالہ کے ہاں ہوں، سسرال جا رہی ہوں”
مگر کیا کبھی رک کر سوچا کہ ان میں سے کون سا گھر “اس عورت” کا ہوتا ہے؟
جو یہ سب کہہ رہی ہے؟
نہ امی کا گھر اس کا ہے وہ باپ کے نام پر ہے،نہ بہن کا، کیونکہ وہ بھی کسی شوہر کی چھت تلے ہے،نہ خالہ کا، کیونکہ وہ بھی بیٹوں کی چھت پر جیتی ہے،نہ سسرال، کیونکہ وہاں اس کا نام نہیں ہوتا صرف رشتہ ہوتا ہےاور پھر سچائی آہستہ آہستہ چیخ بن جاتی ہے “عورت کا اپنا کوئی گھر نہیں ہوتا، سوائے قبر کے”
یہ جملہ بظاہر ایک فلسفہ ہے، مگر حقیقت میں ایک ایسا فسانہ ہے جو ہر عورت کی زندگی کا آخری باب ہوتا ہے۔
ہماری بیٹیاں، بہنیں، بیویاں وہ سب عمر گزار دیتی ہیں ایک چھت کی تلاش میں، ایک در پر اپنا نام لکھوانے کی خواہش میں، مگر اکثر وہ تختی صرف قبر پر لگتی ہےلیکن کیا یہ مقدر ہے؟کیا عورت کا یہی نصیب ہے کہ وہ کبھی “مالک” نہ بنے، صرف “مہمان” رہے؟نہیں۔یہ سچ ہے کہ عورت اپنے حق سے بہت دور کر دی گئی ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اسے حاصل نہیں کر سکتی۔ہمیں اپنی بیٹیوں کو اتنا مضبوط، خوددار اور باہمت بنانا ہوگا کہ وہ صرف کسی کی بیوی، بیٹی، بہن یا ماں نہ ہو بلکہ ایک مکمل وجود ہو، جو اپنے نام سے ایک چھت بنا سکے۔ہمیں چاہیے کہ ہم ان کے ہاتھ میں صرف جہیز نہ رکھیں بلکہ قلم، ہنر، اختیار اور اعتماد بھی رکھیں۔ہمیں بیٹیوں کو صرف تحفظ نہیں، مواقع بھی دینے ہوں گے۔
بیویوں کو صرف پیار نہیں، برابر کی عزت دینی ہوگی۔بہنوں کو صرف پردہ نہیں، خودمختاری کی فضا بھی دینی ہوگی۔
ماں کو صرف خدمت کا رتبہ نہیں، اپنا فیصلہ کرنے کا حق بھی دینا ہوگا۔یہ کوئی نیا خواب نہیں ہے، یہ تو چودہ سو سال پرانی روشن مثال ہے۔کیا ہم بھول گئے ہیں کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اسلام کی پہلی خاتون، رسول اللہ ﷺ کی زوجہ، اور ایمان کی سب سے پہلی روشنی ایک خودمختار تاجرہ تھیں۔ ان کے قافلے چلتے تھے، ان کے فیصلے ہوتے تھے، ان کی کمائی تھی، ان کی پہچان تھی اور یہی سب کچھ عزت و وقار کے ساتھ تھا۔
انہوں نے نہ صرف اپنا کاروبار خود سنبھالا، بلکہ نبی کریم ﷺ کو بھی اپنی تجارت میں شریک کیا۔ان کی کمائی، ان کی فراست، ان کی سوچ سب کچھ اسلام کے ابتدائی دنوں میں روشنی کا ذریعہ بنی
تو جب حضرت خدیجہؓ ایک تاجرہ ہو سکتی ہیں تو آج کی بیٹی کیوں نہیں؟
اگر وہ اپنے نام پر اپنا مکان، اپنا دفتر، اپنی شناخت چاہے تو یہ نہ فتنہ ہے، نہ مغرب زدگی یہ عین سنت کی روشنی میں عورت کا حق ہے۔ کیا ہم اتنا بھی نہیں کر سکتے کہ اپنی بیٹی کو اتنا سکھائیں کہ وہ کبھی دربدر نہ ہو؟کیا ہم اپنی بہن کو یہ حق نہیں دے سکتے کہ وہ زندگی کی چند سانسیں اپنی چھت کے نیچے سکون سے لے سکے؟کیا ہم بیوی کو صرف خادمہ بننے سے نکال کر ایک شریکِ حیات، ایک ساتھ کھڑی انسان نہیں سمجھ سکتے؟
عورت کے لیے “قبر” ہی کیوں پہلا اور آخری اپنا گھر ہو؟کیوں نہ وہ بھی فخر سے کہے:”یہ میرا گھر ہے میری محنت کا، میری کمائی کا، میرے اختیار کا۔”اس تختی پر اس کا نام ہو بغیر کسی رشتے کے سائے میں چھپے بس اس کی پہچان، اس کی خودی، اس کی سانسوں کا سکون لیکن یہ سب عورت خود سے نہیں کر سکتی۔
یہ سفر اکیلا نہیں ہوتا اسے سہارا دینا ہوگا اور یہ سہارا وہ دے سکتے ہیں جو اس کے “محرم” ہیں باپ، بھائی، شوہر، بیٹا محبت صرف زبانی نہیں ہوتی۔محبت یہ ہے کہ اس کا ہاتھ پکڑ کر دنیا کو دکھاؤ کہ یہ عورت کمزور نہیں۔ میری طاقت ہے اور اسے بھی اپنا مقام حاصل کرنے کا حق ہے۔
تنقید سے بچنے کے لیے دلیل کافی ہے اور دلیل یہی ہے کہ اسلام عورت کو کبھی کمزور نہیں بناتا، معاشرہ بناتا ہے۔لہٰذا تربیت ایسی ہو کہ عورت جب اپنے گھر کی دہلیز پار کرے تو سر جھکا ہوا نہ ہو
بلکہ فخر سے بلند ہو کہ وہ اپنے ہونے کی قیمت خود چکاتی ہےاپنی عزت خود سنبھالتی ہےاور اپنا “گھر” خود بناتی ہے جائز طریقے سے، اپنی کمائی سے، اپنی شناخت کرواتی ہے ۔یہ تحریر کسی کی تنقید نہیں ہے یہ ایک فریاد ہے، ایک فلسفہ ہے، ایک سچ ہے جو ہم سب کو سننا ہوگاسمجھنا ہوگا،اور اپنی بیٹیوں کو محض رشتوں کے سہارے نہیں صلاحیتوں کے سہارے جینے دینا ہوگاتاکہ کل جب وہ قبر کی طرف رخصت ہو تو صرف وہی پہلی جگہ نہ ہو جس پر اس کا نام لکھا گیا ہوبلکہ وہ اپنی زندگی میں اپنے نام سے پہچانی گئی ہو۔
“میرا گھر، میرا نام، میری پہچان میری محنت سے”
پہچان ہر انسان کا حق ہے چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔ عزت، رتبہ اور کامیابی مقدر نہیں، محنت سے حاصل کی جاتی ہےاور ہر انسان کو یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ اپنی پہچان خود لکھے، خود سنوارے، اور فخر سے جیئے ۔
