دستورِ دنیا
کوئی بھی عمر بھر کسی کے لیے مکمل نہیں رہتا
رہے جو ساتھ، وہ بھی پہلے سا کبھی نہیں رہتا
جنہیں ہم نے دیا دل میں بہت ہی خاص اک ٹھکانا
وہیں رہ کر بھی وہ عادت کی طرح بھی نہیں رہتا
جسے ہم نے ہر اک لمحہ شدّتِ الفت سے چاہا
وہی خاموشیوں میں ایک پل کو بھی نہیں رہتا
یہی دستورِ دنیا ہے کہ آخر کون کس کا ہوتا ہے
اگر محبوب ہو بھی، ربط بھی مستقل نہیں رہتا
یہاں حاصل و لاحاصل کی رہتی ہے ہمیشہ جنگ
جو مل جائے وہی آخر میں کچھ قابل نہیں رہتا
