کِیوُں دیر گئے گھر آۓ ہو
نہ جانے اُس آواز میں کیا تھا؟ کہ، پہلی سیڑھی پر قدم رکھتے ہی وہ اُس حسین،درد بھری جادوئ آواز کے سحر میں ڈوب گیا،قدموں کی رفتار میں بلا کی تیزی آگئ۔۔چند لمحوں کے بعد وہ ہال کے اندر موجود تھا۔۔درد و سوز میں ڈوبی آواز کے ساتھ۔۔۔۔ گانے والی کا کانچ جیسا نازک سراپا اور خوب صورت بدن تھا۔۔۔۔سرخ وسفید ملیح چہرے پر آنچل کا مکمل سایہ کۓ پوری طرح گائیکی کے سُروں میں ڈوبی ہوئی تھی۔۔۔۔
ہمیں غم ملا ہمیشہ صورت بدل بدل کے
گزری ہے عمر ساری،تنہائیوں میں جل کے
ہمیں غم ملا ہمیشہ۔ ۔ ۔ ۔
فاروق کمال مہبوت ہوکر اس کی آواز،انداز اور سراپے میں اُلجھ گیا۔۔۔۔دل چاہا کہ۔۔۔۔ اتنے دلکش سراپے،اتنی درد بھری آواز والی اس حسینہ کے سارے دُکھ مُٹھی میں پکڑ کر ہوا میں اڑا ڈالے،کیونکہ وہ خود بھی دُکھی تھا۔۔۔۔
دفعتا گائیکہ نۓ سر کے ساتھ پینترا بدل کر ایک جھٹکے سے اپنے چہرے کو دوپٹے کی قید سے آزاد کیا۔۔۔۔اور اپنی دراز پلکوں کو ہلکی سی جُنبش دے کر۔۔۔۔ اپنی کٹورا سی آنکھیں وا کیں۔۔۔۔
دِل بڑی زور سے دھڑکا تھا ،جیسے سینے کی دیواریں توڑ کر باہر آجاۓ گا۔۔۔۔تلاش ختم بھی ہوئ تو کہاں۔۔۔۔عین سامنے دشمنِ جاں،کھڑا تھا۔۔۔۔ اُس کے اداس چہرے پر اور چشمِ غزالاں میں ایک لمحے کے۔۔۔۔ لۓ مانوس سی چمک آگئ۔۔۔۔ دوسرے ہی لمحے۔۔۔۔آنکھوں میں۔۔۔۔اجنبیت اور چہرے پر بازاری مُسکراہٹ سجاۓ ۔۔۔۔وہ تیزی سے اُٹھی،کہ یہی وقت کا تقاضا تھا۔۔۔۔طبلے کی تھاپ بھی اُس کے قدموں کی دھمک کے مطابق قدرے تیز ہوگئ،ہارمونیم نے بھی پینترابدلا اور۔۔۔۔نیلم کے پیر بڑی تیزی سے حرکت میں آگۓ۔۔انگ انگ میں توانائ بھر گئ تھی۔۔فاروق کمال کی آنکھیں اس حد پھیل گئیں ،گویا حلقہ توڑ کر باہر آجائیں گی۔۔۔۔اُس نے پلکیں جھپک کر دوبارہ حیرت اور غیر یقینی انداز میں نیلم کو دیکھا۔۔۔۔دنیا ومافیا سے بے خبر وہ پاگلوں کی طرح اس کے دیکھے جارہاتھا۔۔۔۔فاروق کمال کا بس نہیں چل رہا تھا کہ، اٹھ کر نیلم کو تھپڑ مار دے۔۔۔۔جس صورتِ حال سے دوچار تھا کم و بیش یہی حال نیلم کا بھی تھا۔۔۔۔لیکن اس وقت۔۔۔۔دونوں ایک دوسرے کے لۓ گاہگ اور خریدار تھے۔۔۔۔کسی ایسے رشتے سے قطعاً دُور تھے کہ ایک دوسرے پر حق جتاتے۔۔۔۔فاروق کمال منجھے ہوۓ خریدار کی طرح والٹ سے نوٹ نکال کر اڑا رہا تھا۔۔بے شمار نوٹ ہوا کے زور سے سُرخ قالین پر ماہئ بے آب کی طرح تڑپ رہے تھے۔۔۔۔اور الماس بائ کی حریص آنکھیں کبھی فاروق کمال کو تو کبھی زمین پر بکھرے نوٹوں کو دیکھ کر لومڑی کی طرح چمک رہی تھیں۔۔ پان کے بیڑے چباتے ہوۓ پھیلی بانچھوں سے اشاروں اشاروں میں نیلم کی بلائیں لے رہی تھیں۔۔فاروق کمال کو چاندی کے ورق میں لپیٹ کر الائچی،لونگ اور گلقند سے بھرے پان کے بِیڑے پیش کررہی تھیں۔۔
کچھ اُن کی اداؤں نے لُوٹا
کُچھ اُن کی مُحبت مار گئ
ہم رازمحبت کہہ نہ سکے
چُپ رہنے کی عادت مار گئ
اچانک سر بدلے،الفاظ بدلے اور۔۔۔۔نیلم کی آنکھوں کی چمک غصے و نفرت میں بدل گئ۔۔۔۔ہزار شکوے،شکایتیں لفظوں میں سمو کر لبوں بیان کرتے کرتے حسین اور خوب صورت آنکھوں میں نمی اتر آئ۔۔۔۔فاروق کمال اُس کی ایک ایک حرکت کا جائزہ لے رہا تھا۔۔۔۔نیلم کے دُکھوں سے اچھی طرح سے واقف تھا۔۔۔۔نیلم کو اس گند تک پہنچانے میں۔۔۔۔ شاید فاروق کمال ہی ذمے دار تھا، فاروق کا دل کٹ رہا تھا۔۔۔۔کیا ستم تھا کہ۔۔۔۔اتنے پاس،اتنے قریب ہوتے ہوۓ بھی وہ۔۔۔۔ایک دُوسرے کے دُکھوں سے ناواقف تھے۔۔۔۔ایک دُوسرے سے بات نہیں کرسکتے تھے۔۔۔۔گلے شکوے،شکایت،نہیں کرسکتے تھے۔۔۔۔کیونکہ یہاں۔۔۔۔فاروق اور نیلم صرف تماش بین اور فنکار تھے۔۔۔۔سودا طے کرنے والی الماس بائ تھی جو۔۔۔۔جوہری دیکھ کر ہیرا پیش کرتی تھی۔۔۔۔دل پر منوں بوجھ اٹھاۓ ،گاتے گاتے،سروں کو سنبھالتے، وہ تھک چکی تھی۔۔ضبط جواب دینے لگا تھا۔۔اچانک۔۔۔۔وہ اُٹھی اور مُنہ پر ہاتھ رکھے بجلی کی سی تیزی سے اندر کی جانب بھاگی۔۔فاروق کا من بوجھل ہوگیا۔۔۔۔”اری۔۔او نیلم۔۔رک تو سہی۔۔کیا ہوگیا ہے؟” الماس بائ پاندان ایک طرف دھکیل کر اس کے ہیچھے دوڑی،کیونکہ ڈر تھا کہ کہیں نیا نیا گاہگ ناراض نہ ہوجاۓ اور۔۔۔۔ایساہوا تو بے حساب ہیسوں سے ہاتھ نہ دھونا پڑجاۓ گا۔۔
نیلم کے منظر سے غائب ہوتے ہی فاروق کے لۓ ہر منظر بے رنگ ہوگیا۔۔۔۔ اور ہر شے سے اُداسی ٹپکنے لگی تھی،ماحول کا سارا حُسن ،ساری رونقیں نیلم اپنے ساتھ لے گئ تھی۔۔۔۔فاروق بے دلی سے اُٹھا اور دل پر ڈھیروں بوجھ لۓ واپسی کی راہ لی۔۔۔۔کیا ستم تھا کہ سب کچھ نظروں کے حصار میں،سماعتوں اور بصارتوں کی حدوں میں ہوکر بھی براہ راست گُفتگُو سے قاصر تھے۔۔۔۔فاروق کے لۓ گھر میں بھی کوئ دل چسپی،کوئ سکون نامی چیز نہ تھی، ایک اماّں تھیں۔۔۔۔جن کی وجہ سے گھر چلا بھی جاتا۔۔۔۔ آذر بھی شہر میں نہیں تھا،وہ یونہی سڑکوں پر آوارہ گردی کرتے کرتے ذہنی اور جسمانی لحاظ سے تھک گیا تو۔۔۔۔گھر کی راہ لی۔۔۔۔
“کون کہتا ہے کہ ،مرد ظالم ہوتا ہے؟مرد خود پرست،انا کا مارا اور حاکم ہوتا ہے؟ مرد بھی کبھی تقدیر کے ہاتھوں تو کبھی رشتے ناطے،انا اور بلیک میلنگ کے بھنور میں اس بُری طرح سے پھنس جاتا ہے،اس قدر مجبُور،بےبس اور لاچار ہوجاتا ہے کہ۔۔۔۔اپنے آپ کو رشتوں کی بھینٹ چڑھادیتا ہے۔۔۔۔اس کے سامنے سواۓ خود کو برباد کردینے کے علاوہ کوئ چارہ نہیں ہوتا۔۔۔۔تو کہیں۔۔تقدیر اُس کے ساتھ ایسے کھیل کھیلتی ہے کہ۔۔۔۔وہ مشیتِ ایزدی کے آگے بے بس ہوجاتا ہے،رب کے فیصلے اُس کو ہوش و خرد سے بیگانہ کردیتے ہیں۔۔۔۔جب ہوش آتا ہے تو۔۔۔۔سب کُچھ ختم ہوجاتا ہے۔۔
” چھوٹے بابا۔۔!کھانا لگاؤں؟” دروازے پر دستک کے ساتھ ہی اماّں نے دروازے سے جھانک کر خیالات سے چونکایا۔۔
“ارے اماں۔۔!آپ جاگ رہی ہیں؟” شرمندگی کا احساس ہُوا، رات کے ڈیڑھ بج رہے تھے۔۔
“نیند کیسے آتی چھوٹے بابا؟ آپ کے گھر آنے سے پہلے” ان کے لہجے میں ممتا تھی۔۔
“اوہ۔۔آئ ایم سو سوری اماّں۔۔!آپ کو میری وجہ سے کتنی زحمت ہوتی ہے” اماّں کی مُحّبت پر آنکھیں بھیگ گئیں۔۔
“نہ بابا۔۔! ایسا نہ کہو۔۔تمہاری ماں سے ماں بن کر تمہارا خیال رکھنے کا وعدہ کیا تھا۔۔۔۔میں تُم پر احسان نہیں کر رہی بلکہ۔۔۔۔ وعدہ نبھانے والی ایک سُنت کی پیروی کررہی ہوں،آئیندہ ایسا مت کہنا،بس اتنا یاد رکھنا کہ آپ تنہا نہیں ہو”اماّں نے قریب آکر سر پر ہاتھ رکھ کر مُحبّت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔۔اتنا پیار،اتنا اپنائیت۔۔۔۔فاروق نے بے بسی سے ہونٹ کاٹے،کہنے کو الفاظ نہیں تھے۔۔۔۔اپنی کیفیت کا اظہار کرنے تیزی سے اٹھا اور۔۔۔۔اماّں کے ہاتھ تھام لۓ۔۔۔۔ ضبط جواب دے گیا اور۔۔۔۔وہ اماّں کی گود میں مُنہ چُھپا کر بچّوں کی پُھوٹ پُھوٹ کر رودیا۔۔۔۔اماّں بُری طرح گھبراگئیں۔۔
” کیا ہوا بابا؟کیا میں نے کُچھ غلط کہا؟آپ کو بُرا لگ گیا ہے؟کُچھ بولو بابا۔۔۔۔آپ کیِوں پریشان ہو؟”
“اماں۔۔اماں۔۔!مجھے آج۔۔۔۔وہ مل گئ،میری تلاش ختم ہوگئ لیکن۔۔۔۔”
“ارے۔۔بابا یہ تو خُوشی کی بات ہے۔۔۔۔آپ رو کیوں رہے ہو؟ کہیں اس نے شادی تو نہیں کرلی؟” اماّں نے خدشہ ظاہر کیا۔۔
“نہیں اماّں۔۔!وہ۔۔۔۔وہ۔۔۔۔مجھے ایک طوائف کے کوٹھے پر ملی ہے،ایک گانے اور ناچنے والی لڑکی کے روپ میں۔۔۔۔ایک گندی اور غلیظ جگہ پر۔۔۔۔نہ جانے۔۔۔۔کیسے اور کن حالات سے گزر کر وہ معصوم ،شریف اور پاکباز لڑکی اس بدبودار اور غلیظ جگہ کی رونق بنی؟” اماّں کے ہاتھ اس کے بالوں میں چلتے چلتے ایک دم رُک گۓ۔۔۔۔اُن کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئ تھیں۔۔۔۔انہوں نے دونوں ہاتھ اپنے مُنہ پر رکھ کر ہلکے سے نفی میں سر ہلایا۔۔۔۔
“بابا۔۔آپ ایک شریف اور خاندانی گھر کے ہوتے ہوۓ طوائف کے کوٹھے پر گۓ تھے؟وہ۔۔۔۔وہ لڑکی۔۔۔۔وہ لڑکی جس کی تلاش میں آپ دیوانوں کی طرح سرگرداں ہیں وہ۔۔۔۔ایک طوائف ذادی ہے؟” اماّں کے لہجے میں حقارت تھی۔۔
“نہیں اماّں” فاروق تڑپ کر بولا وہ۔۔۔۔شریف خاندان کی باحیا لڑکی ہے۔۔۔۔نہ جانے کیوں اس گندگی کے ڈھیر کی زینت بنی”
“تو اس سے پوچھتے نا کہ ایسی کون سی مجبُوری تھی جس نے یہاں تک پہنچایا؟اور جب ایک بار اس گندگی کی زینت بن چکی ہے۔۔۔۔پاؤں میں گُنھگرو باندھ لۓ تو۔۔۔۔اس کی پارسائ،شرافت اور معصومیت کا تو دیوالیہ نکل چُکا، ایک بات یاد رکھنا بابا۔۔جو عورتیں بازاروں کی رونق بن جائیں وہ گھروں کی زینت کبھی نہیں بن سکتیں، ایسی لڑکی کے لۓ اپنے آپ کو ہلکان نہ کریں۔۔۔۔اپنے اندر ہمت اور حوصلہ پیدا کریں بابا۔۔ رات بہت ہوچکی، اب آپ آرام کریں”
اماّں کا لہجہ اور تیور ایک دم بدل گۓ تھے۔۔۔۔وہ کمرے کی لائٹ بند کرکے دروازہ بند کر کے جاچُکی تھیں۔۔یعنی اس موضوع پر کوئ بات کرنا نہیں چاہتی تھیں،فاروق بچّہ نہیں تھا کہ اماں کی بات نہ سمجھتا،اگر اس کی سگی ماں زندہ ہوتیں تو۔۔۔۔شاید ان کا بھی یہی ردِ عمل ہوتا۔۔۔۔نیند تو آنکھوں سے کوسوں دور تھی،عجیب سی بے چینی و بے قراری رگ وپے میں اُتر آئ تھی،دماغ سوچ سوچ کر ماؤف ہورہا تھا کہ۔۔۔۔نیلم ظہور جیسی باحجاب،باکردار اور شریف لڑکی آخر اس جگہ تک کیسے پہنچی؟بے قراریاں حد سے بڑھیں اور ماضی کے دریچے کُھلے تو گزرے ہوۓ دن کسی فلم کی طرح ذہن کے پردے پر تسلسل سے چلنے لگے۔۔
نیلم اور فاروق کی دوستی کی ابتداء یونیورسٹی میں ہوئ تھی۔۔فاروق سینئر تھا اور نیلم نئ اسٹوڈنٹ،نیلم کا تعلق مزہبی گھرانے سے تھا والد ظہور صاحب گورنمنٹ ملازم تھے،نیلم ظہور اور سنجیدہ کی اکلوتی اور لاڈلی بیٹی تھی۔۔ابھی نیلم صرف سولہ سال کی اور فرسٹ ائر کی طالبہ تھی کہ ایک حادثے میں والدین چل بسے۔۔نیلم کی دنیا ہی ماں اور باپ کے گرد گھومتی تھی۔۔حالانکہ ایک چاچا بھی تھے لیکن آپس کے روایتی جھگڑوں کی وجہ سے چاچا ،چاچی ملتے ملاتے نہیں تھے۔۔۔۔نیلم نے ہوش سنبھالنے کے بعد اپنے آس پاس صرف ماں ،باپ کو ہی دیکھا تھا۔۔۔۔یُوں اچانک سے ایک ساتھ دونوں ہستیوں کے چلے جانے سے نیلم کی حالت پاگلوں جیسی ہوگئ تھی۔۔۔۔ذرا سا ہوش میں آئ تب۔۔۔۔احساس ہوا کہ وہ اماّں اور اباّ کے بغیراکیلی کس طرح جی پاۓ گی؟
“پاگل ہوگۓ ہوعبدالشکُور؟ہمارے ہاں کون سی جائیدادیں اور پُرکھوں کی وراثتیں پڑی ہیں کہ ایک جوان جہان،لڑکی کی نہ صرف ذمے داری سنبھالیں بلکہ۔۔۔۔اس کو پالنے کی ذمے داری بھی قبول کریں۔۔۔۔بے شمار ادارے ہیں،یتیم خانے ہیں ،اسے کہیں بھی داخل کروادو یہاں ہم خود کراۓ کے گھر میں پڑے ہیں،اوپر سے،ایک مُصیبت اور پال لیں،ہوش کے ناخن لو شکور میاں” جمیلہ شوہر کی بات پر یوں اچُھلیں جیسے کرنٹ لگ گیا ہو۔۔۔۔ساتھ ہی جُھنجھلاہٹ کا اظہار کرتے ہوۓ شوہر کی بات کی سخت لہجے میں نفی کردی۔
“ارے پاگل عورت۔۔! میں اتنا بے وقوف نہیں،جتنا تُم سمجھتی ہو، ہوش کے ناخُن ہی تو لے کر اتنی دور کی کوڑی لایا ہوں،اس میں ایک تو لوگوں میں ہماری واہ واہ ہوجاۓ گی۔۔۔۔ دُوسری اہم بات کہ۔۔۔۔اس میں بھی ہمارا ہی فائدہ ہوگا” شکُور نے جھک کر آہستگی سے کہتے ہوۓ بیگم کا ہاتھ پکڑ کر ایک آنکھ دبائ۔۔۔۔تو جمیلہ کی سمجھ میں کُچھ نہیں آیا۔۔
“مُجھ سے سیدھی اور صاف بات کرو شکُور،ایک تو پہلے ہی میرا متھا گھوما ہوا ہے،اوپر سے تُم پہیلیاں کھیل رہے ہو” جُھنھجلاہٹ دوچند ہوگئ۔۔
“جمیلہ بیگم۔۔!ظُہور بھائ کا اپنا گھر ہے،ہم نیلم کا ساتھ دینے کے بہانے،اپنا بوریا بستر سمیٹ کر یہاں آجائیں تو۔۔۔۔ہمارے مہینے کے کراۓ کی بچت ہوجاۓ گی اور نیلم پر احسان اضافی ہوگا،گھر کے سارے کاموں سے تمہیں نجات بھی مل جاۓ گی۔۔۔۔ تُم بھی۔۔۔۔آرام سے بیٹھ کر دن بھر انڈین ڈرامے دیکھتی رہنا،میں نے اتنا بڑا فیصلہ یونہی بھتیجی کی مُحبت کے مارے نہیں لیا بلکہ۔۔۔۔اپنے اور تُمہارے فائدے کے لۓ کیا ہے” شکُور شاطرلہجے میں بولا تو۔۔۔۔یکلخت جمیلہ کےچہرے کا رنگ بدل گیا۔۔۔۔شوہر کی بات دماغ میں بیٹھی تو۔۔۔۔ان کی چھوٹی چھوٹی بِلّی جیسی آنکھیں چمک اُٹھیں،چہرے پر مسکراہٹ پھیلی۔۔
“ہاۓ شکور۔۔زندگی میں پہلی بار تُم نے ڈھنگ کی بات کی ہے۔۔۔۔صدقے جاؤُں۔۔۔۔تم واقعی بہت دُور کی کوڑی لاۓ ہو،میں نے اس بارے میں سوچا ہی نہیں تھا۔۔۔۔جمیلہ نے چھوٹی چھوٹی آنکھیں گھما کر میاں کی ذہانت کی داد دی۔۔
نیلم کے لۓ سب کُچھ اتنا اچانک اور غیر یقینی تھا۔۔۔۔پھر ایک یہ بھی ستم کہ کوئ بھائ،بہن یا ہمدرد رشتے دار بھی نہ تھے۔۔چاچا ،چاچی سے کبھی بھی خونی رشتے جیسی اُنسیت اور لگاؤ تھا ہی نہیں۔۔۔۔ ماں باپ اپنے ابدی سفر پر روانہ ہوچکے تھے،نیلم مُحلّے کی کُچھ خواتین کے درمیان سر جُھکاۓ وہ زاروقطار روۓ چلی جا رہی تھی۔۔” ہاۓ ہاۓ۔۔بیچاری معصوم پھول جیسی بچی کیسی رُل گئ۔۔اس دنیا میں بھلا کِس کے سہارے زندگی گزارے گی،کوئ آگے رہا نہ پیچھے”
“سچ کہہ رہی ہو بہن اتنا خراب زمانہ،اتنی حسین اور جوان لڑکی وہ بھی تنہا “
“ہاں۔۔ہاں سچ کہہ رہی ہو خالہ۔۔ایک سے بڑھ کر ایک بُری نظر والے آکے بس گۓ ہمارے مُحلّے میں۔۔ کمبخت،منحوس مارے۔۔۔۔میں نے تو اکیلے مارکیٹ تک جانا تک چھوڑ دیا ہے،قسم سے ایسے گندی نظروں سے گُھورتے ہیں،جیسے آنکھوں کے رستے سالم ہی نگل لیں گے”
“ارے ہاں۔۔! کل میں نے خبروں میں دیکھا اللہ اللہ۔۔۔۔توبہ استغفار ایک لڑکی اکیلی رہتی تھی۔۔ڈاکو گھر میں گُھس آۓ اور۔۔۔۔اللہ معاف کرے توبہ توبہ ” جملہ ادھورا چھوڑ کر اپنے کلّے پیٹے۔۔
یہ وہ خواتین تھیں جو،اپنی موت اور اپنی بیٹیوں کو بُھول کر دُوسروں کے زخموں پر نمک پاشی کرنے کے ہنر میں ماہر تھیں۔۔۔۔نیلم کا ننھا سا دل لرز رہا تھا۔۔
“اے بہن۔۔!اگر بچّی کی دل جوئ نہیں کرسکتی ہو تو کم از کم اس دُکھ اور مُشکل وقت میں اس کو پریشان بھی مت کرو۔۔۔۔کِیوں ہولا رہی ہو بے چاری معصُوم کو۔۔؟وہ کوئ لاوارث تھوڑی ہے۔۔ اکیلی کِیوں رہے گی بھلا۔۔؟ابھی اس کے چاچا اور چاچی زندہ ہیں ہم۔۔۔۔اسے یوں تنہا تھوڑی چھوڑیں گے۔۔۔۔نہ میری بچّی روتے نہیں۔۔۔۔ہم رہیں گے تیرے ساتھ۔۔۔۔ہم تیرا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔۔۔۔ہمارا جھگڑا تُم سے نہیں ،تُمہارے ماں باپ سے تھا، ہااااۓ۔۔۔۔وہ تو چل بسے۔۔ہم نے انہیں معاف کردیا۔۔۔۔خود کو اکیلا نہ سمجھنا” جمیلہ نے آکر پہلے اُن خواتین کو لتاڑا پھر۔۔۔۔روتی ہُوئ نیلم کو سینے سے لگا کر تسلّی دیتے ہوۓ خود بھی رونے لگیں۔۔نیلم خود سوچنے سمجھنے کی پوزیشن میں نہیں تھی، لیکن اُس کو اِس وقت چاچا،چاچی کا سہارا غنیمت لگا۔۔چاچی کے سینے سے لگ کر ایک پل کو تحفّظ کا احساس ضُرور ہوا تھا۔۔ایک لمحے کو یُوں لگا جیسے تپتی دھوپ میں اچانک سر پر کوئ نرم بادل کا ٹکڑا آکر ٹہر گیا ہو۔۔
شکُور اور جمیلہ اپنے سازو سامان کے ساتھ نیلم کے گھر آگۓ۔۔عبدالشکُور کی گلی کے نکڑ پر کریانے کی چھوٹی سی دکان اور کچھ پینشن تھی جس سے گزر ہورہی تھی۔۔ظہور صاحب کے ادارے سے کچھ رقم ملی تھی جو، عبدالشکُور نے ایمان داری سے نیلم کی پڑھائ اور دیگر اخراجات کے لۓ سیو کرلی تھی۔۔کیونکہ ابھی نیلم اتنی کم عمر تھی کہ وہ کوئ فیصلہ کرنے کے قابل نہیں تھی۔۔نہ جانے کیسے چاچا کے دل میں ہمدردی آگئ تھی۔۔جو اس کے لۓ بہتر سوچ رہے تھے۔۔
سچ کہتے ہیں کہ وقت سب سے بڑا مرہم ہوتا ہے،گہرے سے گہرے گھاؤ اور بڑی سے بڑی اذیت کو آہستہ آہستہ ختم کردیتا ہے،زخم جتنے بھی بڑے ہوں وقت کا مرہم اُن کو مندمل کردیتا ہے ۔۔پھر چاچا اور چاچی کا غیر مُتوقع اور شفقت آمیز رویہ تھا جس نے۔۔۔۔بہت جلد نیلم کو زندگی سے قریب کردیا تھا۔۔ایک سال کا عرصہ پلک جھپکتے گزر گیا۔۔۔۔اس نے اچھے نمبروں سے انٹر پاس کرلیا تھا۔۔اور اب اُس کو یونیورسٹی جانے کی خواہش تھی۔۔چاچا نے کوئ اعتراض نہیں کیا۔۔نیلم فطرتاً سیدھی سادی اور معصوم تھی۔۔چاچا اور چاچی کی شُکر گزار بھی تھی۔۔چاچا اور چاچی کا رویہ بھی اچھا تھا۔۔نیلم عادت کے مطابق خود ہی گھر کے کام کاج کرتی۔۔جمیلہ بھی اس کا ہاتھ بٹاتی۔۔گو کہ آپس میں بہت ذیادہ بات چیت نہیں ہوتی لیکن۔۔۔۔تعلقات دوستانہ تھے۔۔جمیلہ نیلم کا خیال رکھتی۔۔۔۔بے شک پیسہ نیلم کا ہی ہوتا لیکن۔۔۔۔اسے کبھی کسی چیز مانگنےکی ضرورت نہیں ہوئ۔۔اس عرصے میں نیلم کو اندازہ ہوا کہ چاچا کے ساتھ ساتھ چاچی کے بھی کوئ رشتے دار نہیں ہیں،کیونکہ کوئ بھی کبھی ملنے تک نہیں آیا تھا۔۔
“چاچا۔۔!میں یونیورسٹی میں داخلہ لینا چاہتی ہوِں” انٹر کے رزلٹ کے بعد نیلم نے عبدالشکُور سے کہا تو عبدالشکور نے کوئ اعتراض نہیں کیا۔۔”دیکھو عبدالشکور۔۔!ہم نے نیلم کی ذمے داری لی ہے کہ اس کا دو تین سال بعد خیر سے بیاہ کردیں گے۔۔رشتے کی بھی فکر نہیں ہے۔۔بارہ جماعتیں تو پڑھ لی ہیں۔۔میں نے سنا ہے یونیورسٹی میں بہت آزادی اور۔۔۔۔لڑکے لڑکیوں کی دوستیاں ہوتی ہیں۔۔ نیلم سیدھی سادی لڑکی ہے۔۔اس کو آزاد ماحول اور نہ جانے کیسی کیسی صُحبتیں مل جائیں۔۔۔۔اگر ایسی ویسی مُصیبت میں پڑگئ تو۔۔”جمیلہ نے خدشہ ظاہر کیا۔۔
“ارے کُچھ نہیں ہوتا جمیلہ۔۔بچی کا شوق ہے تو پُورا کرنے دو۔۔۔۔آج ظہور بھائ زندہ ہوتے تو۔۔۔۔اس کی خواہش پوری کرتے نا؟ میں بھی اس کے باپ کی جگہ ہوں۔۔اس کی ہر بات مانوں گا۔۔۔۔ بھئ میں نے تو اس کو اپنی بیٹی ہی سمجھا ہے۔۔نہ جانے وہ مجھے کب اپنا باپ سمجھے گی؟عبدالشکُور نے دلگیر لہجے میں کہتے ہوۓ نیلم کو دیکھا۔۔
” چاچا۔۔آپ بھی میرے لۓ اباّ کی طرح ہیں،اگر آپ لوگ نہ ہوتے تو۔۔۔۔پتہ نہیں میرا کیا حال ہوتا؟”
نیلم کی آواز رندھ گئ۔۔
شاید یہ کوئ پہلے سے طے شدہ معاملہ تھا یا۔۔گزشتہ سال سے ترتیب دیا گیا ڈرامہ۔۔
“وہ سب ٹھیک ہے بیٹی لیکن۔۔۔۔ جب میں باہر نکلتی ہوں۔۔تو مُجھے لوگو ں کی باتیں سُن کر کبھی کبھی بڑی شرم آتی ہے”جمیلہ نے بے چارگی سے کہا۔۔
“تُم سچ کہہ رہی ہو جمیلہ۔۔صبح سے شام تک دُکان پر آنے والے ایک ایک آدمی اور عورت جب۔۔مُجھ طنزیہ نظروں سے دیکھتے اور مجھے زلیل کرتے ہیں تو دل کرتا ہے کہ۔۔۔۔دکان بند کرکے گھر میں بیٹھ جاؤں۔۔۔۔لیکن یہ کر نہیں سکتا کہ کل کو اور طعنے سننّے کو ملیں گے” عبدالشکُور بے بسی سے بولا۔۔
“کیا۔۔مطلب ؟آپ لوگ ایسی باتیں کِیوں کررہے ہیں؟میری سمجھ میں کُچھ نہیں آرہا ہے”دونوں کی باتیں نیلم کے سر پر سے گزر گئیں اسی لۓ اس نے حیران ہوتے ہوۓ چاچا اور چاچی کو دیکھ کر سوال کیا۔۔
” کیا کُہوں بیٹی۔۔؟سب لوگ ہمیں طعنہ مارتے ہیں کہ ہم لوگ۔۔۔۔نکمے اور بے غیرت ہیں جو بھتیجی کے گھر میں پڑے ہیں۔۔۔۔اگر یہ گھر ہمارا ہوتا اور۔۔۔۔ہم تُمہیں ساتھ رکھتے تو،ہماری واہ واہ ہوجاتی اور اب۔۔۔۔سارا زمانہ ہمیں طعنے دیتا ہے،ہمیں قدم قدم پر لوگ احساس دلاتے ہیں”عبدالشکُور کی آواز بھرّا گئ تھی۔۔”سچ کہہ رہے ہو عبدالشکُور۔۔میں بھی باہر نکلتی ہوں تو طرح طرح کی باتیں سُن کر شرم سے پانی پانی ہوجاتی ہوں”جمیلہ نے بھی سرد آہ بھری
“بھلا یہ کیا بات ہوئ چاچا؟کسی کو کیا تکلیف ہے؟ گھر کسی کا بھی ہو،ہم کسی کا دیا تو نہیں کھارہے”
“یہ دُنیا بہت بُری ہے بیٹی۔۔۔۔یہ لوگ کہاں سمجھتے ہیں۔۔ان کو تو بس اُنگلیاں اُٹھانا آتا ہے” عبدالشکُور نے ٹھنڈی سانس بھر کر کہا”
“بیٹی۔۔اگر ہم پر بھروسہ کرسکتی ہو تو ایک بات کُہوں؟جمیلہ نے عاجزی بھرے لہجے میں نیلم سے پوچھا۔۔” جی چاچی۔۔بولیں”نیلم نے کہا۔۔”پِچھلے ایک سال سے تم کو ہم سے کبھی کوئ شکایت ہوئ؟مطلب میری یا تمہارے چچا کی طرف سےروک ٹوک،کبھی ڈانٹ ڈپٹ یا کوئ پابندی،کوئ زیادتی؟ جمیلہ کے سوال پر نیلم نے حیرانی سے اسے دیکھا اور نفی میں سر ہلایا”نہیں چاچی۔۔کبھی بھی نہیں۔۔۔۔مگر آج آپ لوگ ایسی باتیں کِیوں کررہے ہیں؟نیلم اُلجھن کا شکار ہوگئ۔۔
“نیلم۔۔تم ہم پر بھروسہ تو کرتی ہو نا؟کہ ہم ہمیشہ تمہارے لۓ ہمیشہ اپنی بیٹی سمجھ کر اچھا ہی سوچیں گے۔۔۔۔ان شاء اللہ جب تک چاہوگی ہڑھائیں گے،بہت اچھی جگہ اور خوب دھوم دھام سے تمہاری شادی کریں گے۔۔۔۔چاہو تو ہم لکھ کر دینے تیار ہیں۔۔بس تم سے ایک درخواست ہے” چاچا نے کافی لمبی لیکن عاجزانہ تمہید کی۔۔
“چاچا۔۔پلیز آپ حُکم دے سکتے ہیں۔۔مجھے گنہ گار نہ کریں” نیلم جذباتی ہوگئ۔۔
“دراصل تمہارے لۓ بالا بالا دو رشتے آۓ لیکن جب ان لوگوں کو باہر والوں کی زبانی معلوم ہوا کہ یہ گھر کی مالکن تو ہو تو۔۔۔۔ان لوگوں نے جہیز میں گھر مانگ لیا۔۔بھلا یہ کیسے مُمکن ہے؟ اور اگر اسی طرح آنے والے ایسی ڈیمانڈ کریں گے تو۔۔۔۔ہمارے لۓ ان کی ڈیمانڈ پُوری کرنا ناممکن ہوگا۔۔کیونکہ اگر گھر تمہارے نام رہا تو۔۔۔۔آگے بھی مشکل پیدا ہوسکتی ہے۔۔۔۔بے شک گھر تمہارا ہی ہے۔۔تم مالک ہو اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ۔۔۔۔بات نامناسب ہے لیکن۔۔۔۔اگر یہ گھر تم اپنے چاچا کے نام کردو تو۔۔۔۔سارے مسائل حل ہوجائیں” جمیلہ نے مُحّبت و شفقت سے بھرپور لہجے میں بات مکمل کی ہی تھی کہ۔۔۔۔عبدالشکور جھٹ سے بولا”یہ زبردستی والی بات نہیں ہے نیلم۔۔۔۔تم اگر خُوشی خُوشی چاہو تو ورنہ۔۔۔۔کوئ زبردستی نہیں ہے،تُم ہر حال میں ہماری بیٹی ہی بن کر رہوگی”
ایک لمحے کے لۓ نیلم سوچ میں پڑ گئ اور اس کے دماغ میں اماّں،اباّ کی موت اور اس کے بعد کے شب و روز کُلبلانے لگے۔۔۔۔جب رب کے سوا زمین پر جینے کے لۓ کوئ آسراکوئ اُمید نہیں تھی،جب وہ خود کو بے بس،لاچار اور مجبُور سمجھ رہی تھی،اکیلی جوان اور خوب صورت لڑکی اور۔۔۔۔آس پاس انسانی روپ میں بسے بھیڑیوں کاخوف تھا۔۔کوئ راستہ،کوئ امید اور کوئ سہارا نہ تھا تب۔۔۔۔چاچا اور چاچی ہی تھے جنہوں آگے بڑھ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔۔اُس کو سینے سے لگا کر تحفّظ اور اپنائیت کا احساس دلایا تھا۔۔۔۔اُس کے نیم مُردہ وجود میں مُحبّت اور شفقت سے جان ڈالی تھی۔۔بھلا اُن کے احسانات کے آگے اس گھر کی کیاحیثیت تھی۔۔۔۔
“چاچا۔۔!آپ کاروائ کریں۔۔میں آپ کو گھر کا مالک بنانے تیار ہوں” اُس کے الفاظ نے گویا سُوکھے دھانوں پر مینہ برسادیا تھا۔۔۔۔عبدالشکُور اور جمیلہ نے اُس کی بلائیں لے لیں۔۔۔۔
“تُمہارا شُکریہ میری بچّی۔۔!کہ تُم نے مجھ پر بھروسہ کیا،مُجھے اس قابل سمجھا۔۔۔۔آج میری اپنی بیٹی ہوتی تو شاید۔۔۔۔وہ بھی اتنا بڑا دل نہیں کرتی” عبدالشکُور کی آواز بھّرا گئ تھی۔۔”دل چھوٹا نہ کرو عبدالشکُور۔۔!اگر اللہ پاک نے تُم کو اولاد نہیں دی تو کیا ہوا؟سگی اولاد سے فرمانبردار اور نیک بھیتیجی تو دے دی ہے،اس بات پر شُکر ادا کرو”جمیلہ نے آنکھوں کی نمی دوپٹے میں جذب کرتے ہوۓ کہا۔۔
اللہ کا کرنا ایسا ہُوا کہ دوسرے دن ہی عبدالشکُور غسل خانے میں گر کر ٹانگ تڑوابیٹھے اور۔۔۔۔گھر کی منتقلی کا سلسلہ فی الحال طوالت میں پڑگیا۔۔
نیلم کا یونیورسٹی میں ایڈمیشن بھی ہوگیا۔۔نیلم فطرتاً سیدھی سادی اور باحیا،باحجاب لڑکی تھی۔۔یونی میں ویسے تو بہت ساری لڑکیاں نیلم کی طرح باحیا اور صرف پڑھنے کی غرض سے آتی تھیں،جن کو صرف پڑھائ سے غرض ہوتی،غیر ضروری سرگرمیوں،چھچھوری حرکتوں،اور لڑکوں سے بے تکلّفانہ دوستی سے اُن بچّیوں کو کوئ سروکار نہ تھا۔۔
اور بیشتر لڑکیاں ایسی تھیں جن کو پڑھائ سے کوئ دلچسپی یا سروکار نہیں تھا،کُچھ جو پیسے والی فیملیز سے تعلق رکھتے تھے وہ لڑکے اور لڑکیاں صرف ٹائم پاس کرنے اور اپنی امارت کے نمُونے دِکھانے آتے،آپس میں فرینڈشپ بڑھانے ،پارٹیز اور غیر نصابی سرگرمیوں میں مُلوّث رہنے والے دل پھنیک اور آذاد خیال تھے۔۔نیلم کے آس پاس ایسی لڑکیاں اور لڑکے تھے۔۔نیلم ان سب سے الگ تھلگ رہتی،اکثر لڑکیاں اور لڑکے نیلم پر پھبتیاں کستے،اس کو مذاق کا نشانہ بناتے،کوئ اس کو پردے کی بوبو کہتا تو کوئ،ڈرامہ باز کا نام دیتا تو کسی لڑکی کے خیال میں نیلم بدشکل اور بھیانک لڑکی ہے اسی وجہ سے نقاب میں رہتی ہے،مگر نیلم کو کسی کی کوئ پروا نہیں تھی،وہ ان سب کی باتوں اگِنور کردیتی۔۔
نیلم پوائینٹ سے یونی آتی جاتی تھی۔۔اس روز شِدّت کی گرمی تھی،آخری کلاس تھوڑی دیر سے ختم ہوئ،نیلم اپنا بیگ سنبھالے جلدی جلدی باہر کی جانب بھاگی کیونکہ اس کے ایرئے کی ایک ہی پوائینٹ بس تھی جو کچھاکھچ بھری ہوتی۔۔
اکنامکس ڈیپارٹمنٹ سے پوائینٹ تک پہنچنے اچھاخاصا وقت لگ جاتا۔۔اس پر شدید اور آگ برساتی دُھوپ میں چلنا ایک امتحان ہوتا تھا۔۔پسینے سے شرابور نیلم کو اُس وقت شدید کوفت ہوئ جب اچانک۔۔۔۔چلتے چلتے اس کی سینڈل کی پٹی ٹوٹ گئ۔۔
“اُفففف” پیر سینڈل سے پِھسل کر تپتی سڑک پر کا لگا اور بے ساختہ نیلم کے لبوں سے سِسکی نکلی۔۔ایک لمحے کو یُوں لگا جیسے جلتے توے پر پاؤں رکھ دیا ہو۔۔۔۔ایک قدم آگے بڑھانا ناممکن تھا۔۔۔۔اپنی بے چارگی پر رونا آگیا۔۔نہ کوئ سایہ نہ ہی بیٹھنے کی مناسب جگہ۔۔۔۔اوپر سے ننگے پاؤُں ایک لمحہ بھی کھڑی نہیں ہوسکتی تھی۔۔نم نم پلکیں اُٹھا کر اِدھر اُدھر دیکھا۔۔تب ہی پیچھے سے گاڑی کے پہیے چرچراۓ اور کسی نے بریک لگایا۔۔نیلم چونکی۔۔ نظریں اٹھا کر دیکھا۔۔ یہ تو اسی کے ڈپارٹمنٹ کا امیر لیکن۔۔۔۔سوبر سا لڑکا فاروق تھا۔۔گرمی کی حِدّت سے اس کا چہرہ سُرخ تھا۔۔۔۔بڑی بڑی خوب صورت جھیل جیسی آنکھوں کے اندر مچلتے آنسو اور۔۔۔۔بےبسی نمایاں تھی،ایک لمحے کو فاروق کا دل ڈول گیا۔۔نقاب کی قید سے آزاد اتنی پُرکشش آنکھیں قدرتی نیلی تھیں،”ایسکیوزمی مس۔۔آپ یقیناً کِسی اُلجھن کا شِکار ہیں۔۔آپ کا پوائینٹ بھی نکل گیا ہے۔۔ ۔اگر آپ مُناسِب سمجھیں تو میں۔۔۔۔آپ کو ڈراپ کرسکتا ہوں”دوسرے ہی لمحے فاروق نے سنبھل کر شائستگی سے پیش کش کردی۔۔”نہ۔۔نہیں۔۔۔۔شکریہ” موجودہ حالات اور منفی خبروں کی وجہ سے نیلم جیسی ڈرپوک لڑکی کا ڈرنا بجا تھا۔۔”نیلم ظہُور۔۔!آپ کی سینڈل بھی ٹُوٹ گئ،دُور دُور تک کوئ موچی نہیں،گرمی کی شِدّت سے آپ کا حال بُرا ہے،پوائینٹ نکل چُکا ہے۔۔مِس نیلم۔۔میں کوئ چِھچھورا،منچلا یا دل پھینک قسم کا لڑکا نہیں ہوں۔۔شاید آپ نے دیکھا ہوگا کہ میں کسی لڑکی کی طرف دیکھتا بھی نہیں۔۔مُجھے شوق نہیں ہے کسی لڑکی سے بات کرنے کا،فطری ہمدردی اور آپ کی حالت دیکھ کر کہا ہے،آپ مُجھ پر بھروسہ کرسکتی ہیں۔۔میں زبردستی نہیں کروُں گا۔۔اگر مُناسب سمجھتی ہیں تو۔۔۔۔انسانی ہمدردی کے تحت میں آپ کو ڈراپ کرسکتا ہوں۔۔نہیں تو گُڈ باۓ”لہجہ انتہائ کھرا اور کسی حد تک سخت تھا”بات سو فیصد دُرست تھی۔۔نیلم خُجل ہوگئ۔۔موجُودہ صُورتِ حال اور آگ برساتی دُھوپ کے ساتھ ٹُوٹی ہوئ سینڈل اضافی مسلہ تھی، جس کے ساتھ ایک قدم اٹھانا بھی جُوۓ شِیر لانے کے برابر تھا۔۔”سوری۔۔دراصل میں۔۔۔۔میں نے کبھی۔۔اس طرح سفر نہیں کیا”وہ منمنائ۔۔اس کی منمنایٹ پر فاروق کو ہنسی آگئ۔۔”میں نے بھی کبھی کسی کو آفر نہیں کی۔۔میرا بھی فرسٹ ایکسپیرئینس ہے”ہنسی دبا کر بولا اور آگے بڑھ کر فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا۔۔اور وہ ہچکچاتی ہوئ گاڑی میں بیٹھ گئ۔۔
“آپ کسی شاپ سے میری سینڈل ٹھیک کروادیں،اور مُجھے مین اسٹاپ پر چھوڑدیجئے” نیلم نے بیٹھتے ہی کہا۔۔
اس کی بات کو نظر انداز کرکے فاروق نے گاڑی اسٹارٹ کی۔۔ اے سی کی ٹھنڈک رگ وپے میں اُتری تو سُکون محسُوس ہُوا۔۔اس کے باوجُود دل بُری طرح دھڑک رہا تھا،نہ جانے کیسا خوف تھا۔۔۔۔
“پلیز۔۔کسی موچی تک پہنچادیں” دوبارہ گویا ہوئ۔۔اگر اس قدر پریشان کُن اور نازک صورتِحال نہ ہوتی تو وہ۔۔۔۔کبھی بھی کسی اجنبی شخص کے ساتھ گاڑی میں ہرگز نہیں بیٹھتی۔۔نیلم کے حالت فاروق کی نظروں سے اوجھل نہ تھی۔۔”آپ نے ناظم آباد نمبر ۳جانا ہے نا؟”نیلم کے بات کو نظر انداز کرکے فاروق نے ونڈ اسکرین پر ہی نظریں جماۓ سوال کیا تو نیلم بری طرح چونکی۔۔”یعنی وہ اس کے گھر کا اسٹاپ جانتا تھا۔۔نیلم نے آنکھیں پھیلا کر اسے دیکھا۔۔”نیلم۔۔!آپ اتنی ان کمفرٹیبل کیوں ہیں؟کوئ پریشانی ہے یا والدین کی طرف سے کوئ خوف؟”فاروق نے پلٹ کر اس کی جانب دیکھا۔۔”جی۔۔! دراصل کبھی ایسا اتفاق نہیں ہوا۔۔اس لۓ۔۔اور اماّں،اباّ نہیں ہیں۔۔چاچا کے ساتھ رہتی ہوں،آپ۔۔۔۔آپ کو کیسے پتہ میرے اسٹاپ کا؟”معصومیت سے سوال کیا۔۔”اوہ۔۔سو سیڈ۔۔آپ کے والدین نہیں ہیں،اور میرا رُوٹ بھی یہی ہے،میں نے کئ بار آپ کو اسٹاپ پر اترتے ہوۓ دیکھا ہے،تیسری بات یہ کہ قسم لے لیں میں نے بھی اپنی زندگی میں پہلی بار کسی لڑکی کو گاڑی میں بٹھایا ہے۔۔پھر بھی کنفیوز نہیں ہوں۔۔آپ فِکر نہ کریں میں آپ کو بہ حفاظت پہنچادوں گا”فاروق نے دھیمی مسکراہٹ سے یقین دہانی کروائ۔۔”جی شکریہ”نیلم نے دھیرے سے کہا۔۔راستے میں کوئ خاص باتیں نہیں ہوئیں،نیلم نے سیبڈل سلوائ اور نیلم کے کہنے پر مطلوبہ اسٹاپ سے کُچھ پہلے فاروق نے اسے اتارا”بہت بہت شکریہ فاروق کمال”نیلم نے تشکُرانہ لہجے میں کہا
“گھر جاکر دو رکعت شُکرانے کے نفل پڑھ لیجئے گا” فاروق نے شُکریہ کے جواب میں سنجیدگی سے کہا تو نیلم نے حیرانی سے اسے دیکھا۔۔
“اس لۓ کہ آپ مُجھ جیسے خُونخوار آدمی کے شِکنجے سے صحیح سلامت نکل آئیں” فاروق کی شرارت پر نیلم شرمندہ ہوگئ۔۔
“اوکے۔۔باۓ” فاروق نے جلدی سے کہا اور گاڑی زن سے آگے بڑھ گئ۔یہ فاروق اور نیلم کے باقاعدہ ملاقات تھی۔۔جس کے بعد آہستہ آہستہ فاصلے سمٹنے لگے۔۔دونوں غیر محُسوس طریقے سے ایک دوسرے کے قریب آگۓ تھے۔۔ فاروق زمیندار فیملی سے تعلق رکھنے والا امیر نوجوان تھا،اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔۔اس کاتعلق انرُرون پنجاب کے گاؤں سے تھا جہاں اس کے والد کی زمینیں ،کھیت کھلیان تھے۔۔ان کے خاندان میں آج بھی ذیادہ تعلیم کا رواج نہ تھا۔۔اپنے خاندان کا واحد لڑکا تھا جو شہر آکر تعلیم حاصل کررہا تھا۔۔بے تحاشا پیسہ ہونے کے باوجود،فطرتاً سنجیدہ،سوبر اور ہمدرد لڑکا تھا،شو شا اور دکھاوے سے کوسوں دور، بیشتر لڑکوں کی طرح چھچھورا نہیں تھا،لڑکیوں کے آگے پیچھے پھرنا اور ان کے بیچ راجہ اندر بننّا قطعی پسند نہیں کرتا،یہی وجہ تھی کہ نیلم اس سے مُتاثّر ہُوئ تھی، بے تکلفی بڑھی تو فاروق نے یہ بھی بتایا تھا کہ وہ نیلم کو کافی عرصے سے پسند کرتا ہے،اس کو نیلم کا باحجاب رہنا اور اپنے کام سے کام رکھتے ہوۓ صرف پڑھائ پر دھیان دینا پسند آیا تھا۔۔وہ نیلم سے دوستی کرنا چاہتا تھا لیکن۔۔۔۔نیلم کی سرد مہری کی وجہ سے بات کرتے ہوۓ گھبراتا تھا۔۔نیلم پر خاص نظر رکھنے کی وجہ سے ہی اس کو نیلم کے رہائشی اسٹاپ کا بھی علم تھا۔۔اب یونیورسٹی میں خالی وقت میں دونوں کبھی گھاس پر،کبھی بنچ پر بیٹھ کر پڑھائ کے علاوہ ہلکی پھلکی گفتگو کرلیا کرتے..نیلم نے اپنے بارے میں فاروق کو کُچھ نہیں بتایا تھا۔۔
“ایک بات پوچھوں نیلم۔۔؟” فاروق کے سوال پر نیلم نے پلکیں اٹھائیں
“کیا تمہیں مجھ سے کوئ تحفُظات ہیں؟کوئ خوف؟کوئ خدشہ؟”
بے تُکے سوال پر نیلم نے حیرانی سے دیکھا۔۔فاروق کی آنکھوں میں سوال تھے۔۔”نہیں فاروق۔۔!ایسا ہوتا تو میں آپ کے ساتھ بیٹھ کر یوں باتیں نہیں کر رہی ہوتی۔۔آپ کو ایسا کِیوں لگا؟”سادگی سے جواب دے کر سوال بھی کر ڈالا۔۔
“اس لۓ کہ تُم نے مجھ سے اپنے حوالے سے،اپنی فیملی کے بارے میں آج تک کوئ بات نہیں کی۔۔جبکہ میں نے اپنے بارے میں تمہیں سب کُچھ بتادیا ہے۔۔تم مجھ سے بات کرتی ہو۔۔۔۔تو کس وجہ سے۔۔؟” پہلی بار تم کہہ کر مخاطب ہوا تھا۔۔
“فاروق۔۔! آپ میرے کلاس میٹ ہیں،دیگر لڑکوں کے مقابلے میں سوبراور شریف ہیں،آپ اس قابل ہیں کہ آپ کے ساتھ بلا خوف ٹائم اسپنڈ کرسکتی ہوں۔۔میں آپ کو اچھا دوست سمجھتی ہوں”سوچ سمجھ کر نپا تُلا جواب دیا۔۔
” پہلی بات تو۔۔۔۔دوستوں میں آپ جناب نہیں ہوتا۔۔اور دوسری بات کا شکریہ کہ تُم نے مُجھے دوست سمجھا اور تیسری اور آخری بات یہ کہ۔۔۔۔میں تمہیں صرف” دوست” نہیں سمجھتا۔۔گزرتے دو ماہ میں کم از کم میں دوستی کی حدود سے آگے بڑھ چکا ہوں۔۔ میں نے ہر طرح سے سوچا،سمجھا،تمہارے بارے میں کُچھ بھی نہ جانتے ہوۓ بھی۔۔۔۔سچ تو یہ ہے نیلم کہ مُجھے اندازہ ہوگیا ہے کہ میں۔۔۔۔شاید تمہارے بغیر نہیں رہ پاؤں گا۔۔۔۔میں کوئ دل پھینک،لاابالی یا عاشق مزاج لڑکا نہیں ہوں،ایک اچھی فیملی کا ذمے دار اور باشعور لڑکا ہوں۔۔گو کہ میرے لۓ فیملی کے خلاف جاکر یہ فیصلہ لینا خاصا مُشکل ہوگا لیکن۔۔۔۔مُجھے یقین ہے کہ میں۔۔۔۔جیت جاؤں گا کیونکہ
کسی بھی کھیل میں اب تک
کیونکہ اب فائنل ایگزام ہونے والے ہیں تو میں۔۔۔۔چاہتا ہوں کہ اپنی ماں جی کو تمہارے بارے میں بتادوں۔۔۔۔اب تم اپنا فیصلہ سناؤ۔۔۔۔تاکہ میں اگلا قدم اٹھاسکوں” کس قدر سادگی اور اطمینان سے دھیمے اور شُستہ لہجے میں فاروق نے اپنا موقف بیان کردیا تھا اور اب۔۔۔۔اُس کے جواب کا منتظر تھا۔۔
یوں اچانک سے۔۔۔۔اتنی بڑی بات کہہ گیا تھا۔۔۔۔نیلم کے لۓ بر وقت فیصلہ لینا مشکل تھا۔۔کُچھ دن سے نیلم کے دل میں بھی فاروق کے حوالے سے کبھی کبھی میٹھی گُدگُدی ہوتی۔۔لیکن وہ اس جذبے کو کوئ نام نہیں دے پاتی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ فاروق اس جیسا عام فیملی سے تعلق رکھنے والا لڑکا نہیں ہے،اس کے اور فاروق کےطکلچر،رہن سہن،طبقاتی،اور مالی ہر لحاظ سے بالکل الگ ہے۔۔۔۔
“کیا سوچ رہی ہو نیلم۔۔؟اگر تم ایسا نہیں چاہتی تو۔۔۔۔کوئ بات نہیں۔۔میں زبردستی کا قائل نہیں نیلم یہ رشتے تو دل کے ہوتےچہیں،قدرتی لگاؤ،انسیت کی حدوں سے آگے بڑھ کر بلا تفریق اور طبقاتی پابندیوں اور خاردار رکاوٹوں کو توڑ کر محبّت کی سرحدیں پار کرلیتے ہیں۔۔۔۔یہاں زور نہیں چلتا،یہاں جذبے چلتے ہیں۔۔اگر تم کو انکار ہے تو میں کسی مجنوں کی طرح کپڑے پھاڑ کر گلیوں میں نہیں نکلوں گا بلکہ۔۔۔۔اپنی قسمت کا فیصلہ سمجھ کر یہاں سے فارغ ہوکر چپ چاپ اپنی دنیا میں واپس لوٹ جاؤں گا۔۔۔۔اور کسی چاچے،مامے یا پھپھو کی جاہل بیٹی سے بیاہ رچالوں گا”
“نہ۔۔۔۔نہیں فاروق۔ !ایسی بات نہیں ہیں۔۔آپ بہت ڈیسنٹ،بہت نائس ہیں،اچھے دوست ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔”
“ایسکیوزمی۔۔پہلے تو” آپ” سے ہٹ کر “تم” پر آؤ کہ کم از کم تُم نے مُجھے دوست تو کہا اور۔۔۔۔۔دوستوں میں آپ ،جناب،محترم اور محترمہ والی فارملٹیز نہیں ہوتیں”فاروق نے اس کی بات کاٹ کر کہا تو نیلم کے لبوں پر مسکان پھیل گئ۔۔
“فاروق۔۔تم میری فیملی کے متعلق نہیں جانتے،میں طبقاتی فرق سے گھبراتی ہوں۔۔جو بات تُم کررہے ہو وہ آسان نہیں۔۔شاید تُم خود ہی میرے گھر اور میری حیثیت جان کوئ فیصلہ نہ کرپاؤ” نیلم کے لہجے میں سچائ تھی۔۔۔” نیلم۔۔میں وہی تو جاننّا چاہتا ہوں۔۔۔۔تمہارا ماضی،تمہاراحال،تمہاری فیملی اور تمہارا اسٹیٹس؟فاروق گویا ہوا۔۔
“نیلم نے اپنے بارے میں سب کُچھ سچ سچ بتادیا تھا۔۔یہ بھی کہ چاچا اور چاچی کا رویہ اماّں ابّا کی وفات کے بعد بدلا ہے” فاروق خاموشی سے سنتا رہا۔۔
“نیلم۔۔میری نگاہ میں روپیہ پیسہ اور مادّی چیزیں اہم نہیں۔۔میرے لۓ رشتے،تعلقات اور روابط اہم ہیں۔۔مجھے ویسے بھی پڑھائ کے بعد باہر نکل جانا ہے،میں خاندانی روایات کا مارا ضرور ہوں لیکن۔۔۔ آخری فیصلہ اور مرضی میری ہی ہوگی۔۔مجھے تم ہر حال میں عزیز ہو، اگر تم چاہو تو میں اپنی اماں سے بات کرکے ان کو تمہارے بارے میں بتادوں گا اور۔۔۔۔ایگزامز کے بعد جاکر ان کو کراچی لے آؤں گا تاکہ۔۔۔۔اس سے پہلے کہ تمہیں کوئ اُچک لے، میں تمہیں اپنے نام کے حوالے سے ہمیشہ ہمیشہ کے لۓ قید اپنے دل میں قید کرلوں” اتنا کھلم کھلا اظہار تھا کہ۔۔۔نیلم کے رارض دہک اٹھے۔۔”میں جواب کا منتظر ہوں نیلم۔۔ہاں یا نا۔۔؟”ہاتھ بڑھا کر تھوڑا سا جُھکا۔۔۔۔نیلم کی پلکیں جھک گئیں۔۔اس نے اپنا نازک سا ہاتھ فاروق کے مظبوط ہاتھ پر رکھ کر بنا کہے خوبصورت اقرار کرلیا
“اوہ۔۔تھینک یو سو مچ نیلم” فاروق کا بس چلتا تو شاید اٹھ کر دو چار ٹھمکے لگادیتا۔۔نیلم کے لبوں پر میٹھی مسکان پھیل گئ۔۔
عبدالشکُور کے پاؤں کا پلاسٹر بھی کُھل چکا تھا اور اب اس کو پہلی فرصت میں نیلم کا مکان اپنے نام مُنتقل کروانے کی جلدی تھی۔۔۔۔
ایگزام بھی سر پر آرہے تھے۔۔اس لۓ نیلم اور فاروق دونوں پڑھائ میں مصروف ہوگۓ،بات چیت میں بھی کُچھ کمی آگئ تھی۔۔ایگزام کے فوری بعد فاروق کو گاؤں جانا تھا۔۔اُس نے اپنی ماں کو نیلم کے بارے میں بتادیا تھا۔۔نہ صرف بتایا تھا بلکہ اپنا فیصلہ سنایا تھا۔۔والدہ نے خلافِ توقع منفی ردِ عمل کا اظہار نہیں کِیا تھا۔۔۔۔
ببب
“نیلم۔۔بیٹی ایک بار پھر سوچ لو کل کو ایسا نہ ہو کہ تُم اپنے بوڑھے چاچا،چاچی سے گِلہ کر بیٹھو کہ انہوں نے تُمہارا مکان اپنے نام کرلیا ہے،ہم نہیں چاہتے کہ تمہارا دل ہماری طرف سے بُرا ہو”
اس رات نیلم اپنے کمرے میں بیٹھی پڑھائ کے ساتھ ساتھ موبائل پر فاروق سے میسج پر بات کر رہی تھی کہ جمیلہ نے کمرے میں آکر اس کے قریب بیھٹتے ہوۓ معصومیت سے کہا
“نہیں چاچی۔۔!ایسا کیوں سوچ رہی ہیں۔۔میں ایسا کیسے کہہ سکتی ہوں،آپ لوگ میرا اتنا خیال رکھتے ہیں،میری ہر بات مانتے ہیں۔۔مجھے اس گھر سے کیا لینا،میں نے چاچو کو مختار بنادیا ہے” نیلم نے سچّے دل سے کہا تھا،جمیلہ نے تشکُر بھری نظروں سے اُسے دیکھا۔۔
“نیلم۔۔! بُرا مت ماننّا یار لیکن۔۔۔ تُم نے جلد بازی میں ایک غلط فیصلہ لیا ہے،اگر مُجھ سے پُوچھتی تو میں۔۔۔۔شاید تمہیں یہ فیصلہ کرنے نہیں دیتا” فاروق نے کُچھ سوچتے ہوۓ کھرے لہجے میں کہا
“فاروق۔۔! ابّا اور اماّں کی موت کے بعد چاچُو نے مجھے ابّا کی کمی محسُوس نہیں ہونے دی،دونوں نے مُجھے بیٹی کی طرح سنبھالا،میری ہر بات مانی،میری شادی بھی ان دونوں کو ہی کرنی ہے۔۔ان ساری باتوں کے آگے ایک گھر کی کیا حیثیت ہے” نیلم نے مدلّل جواب دیا
“وہ ساری باتیں ٹھیک ہیں نیلم۔۔بس میرے دل میں تھوڑا سا کُھٹکا ہے۔۔باقی ان شاء اللہ تُمہیں تو زندگی حویلی میں گزارنی ہے”
“ان شاء اللہ” فاروق نے مُسکرا کر شرارتی لہجے میں کہا تو نیلم بھی مُسکرادی۔۔
ایگزام شروع ہونے میں صرف تین دِن باقی تھے۔۔یونی کی چھٹیاں تھیں اور بچّے گھر پر تیاری کررہے تھے۔۔اچانک گاؤں سے کال آگئ۔۔
اُس کے ماموں کے بیٹے کی شادی اچانک طے ہوگئ ہے اور۔۔۔۔فاروق کو ہر صورت شرکت کرنی ہے،یہ بابا کا آرڈر تھا۔۔۔۔بابا کے آرڈر کے بعد امتحان بھی کوئ معنی نہیں رکھتے تھے۔۔۔۔فاروق نے نیلم کو کال کرکے ارجنٹلی اپنے گاؤں جانے کی اطلاع دی۔۔
“فاروق۔۔! ابھی تو ایگزام بھی ہونے والے ہیں” نیلم خود بھی اپ سیٹ ہوگئ تھی۔۔
“یار کیا کروں۔۔؟پہلے بھی کزن کی شادی پر نہیں جا سکا تھا۔۔۔۔وہ ناراضگیاں اب تک چل رہی ہیں۔۔۔۔ہمارے ہاں پڑھائ سے ذیادہ رشتوں کو اہمیت دی جاتی ہے،اِس بار نہیں گیا تو۔۔۔۔بابا مُجھے مستقل گاؤں بُلوالیں گے۔۔۔۔تُم فکر مت کرو۔۔۔۔جلد ہی خیر سے اماں کو لے کر شہر آجاؤں گا” فاروق نے کہا”ان شاء اللہ۔ !فاروق میں دعا بھی کروں تمہارا انتظار بھی کروں گی۔۔۔۔کوشش کرنا جلد لوٹ آؤ۔۔۔۔تمہارے بغیر زندگی گزارنی بہت مُشکل ہوگی”نیلم کو رونا آگیا تھا۔۔
“پلیز نیلم۔۔تُم میری ہمت ہو یار۔۔تُم ہمّت ہاردوگی تو۔۔۔۔میرا کیا ہوگا؟میں بھی تمہارے بغیر زندگی گزارنے کا تصوّر بھی نہیں کرسکتا۔۔ان شاء جلد آجاؤں گا” فاروق کا دل نیلم کی بات پر بھر آیاتھا۔۔
نہ جانے کیوں نیلم کا دل بُری طرح گھبرا رہا تھا جیسے آخری بار فارُوق کی آواز سُن رہی ہو۔۔۔۔اُس کی آوازسُن رہی ہو۔۔۔بچھڑنے کا احساس ہوریاتھا،سب کُچھ ختم ہوجانے کی کیفیت تھی۔۔۔۔دل چاہ رہا تھا کہ فاروق بولتا رہے اور۔۔۔۔وہ اس کی آواز کو اپنی سماعتوں میں قید کرتی رہے کہ نہ جانے پھر کب اُس کی آواز سُن پاۓ گی۔۔۔۔
“میں رابطے میں رہوں گا۔۔بس میرا انتظار کرنا”
فاروق نے جیسا کہا ویسا ہی کیا۔۔۔۔سفر پر روانگی سے لے کے مکمل سفر تک مستقل رابطے میں رہا۔۔ساتھ یہ بھی ہدایت تھی کہ پڑھائ پر دھیان دو اور اگر۔۔۔۔رابطے میں وقفہ آجاۓ تو پریشان مت ہوجانا،ظاہر ہے وہاں جاکر میں اتنا ٹائم نہیں دے پاؤں گا۔۔اور میں نہیں چاہتا کہ تمہاری پڑھائ ڈسٹرب ہو”گاؤں پہنچنے تک بات چلتی رہی پھر۔۔۔۔گھر پہنچ جانے کا میسج بھی آگیا۔۔۔۔مہندی بارات تک ،مستقل رابطے میں رہا،پکس بھیجیں۔۔پھر فاروق کی ہدایت پر نیلم نے خود کو پڑھائ میں مصروف کرلیا۔۔
اُدھر جب سے مکان بھی عبدالشکُور کے نام ہوگیا تھا۔۔نیلم محسُوس کر رہی تھی کہ چاچُو اور چاچی کا رویہ کُچھ بدل گیا ہے۔۔۔۔پہلے نیلم اگر سورہی ہوتی تو جمیلہ کبھی بھی نیند سے جگاتی نہیں تھی لیکن اب۔۔۔۔ایسا ہونے لگا تھا کہ کبھی شام کی چاۓ کے لۓ آواز دے کر جمیلہ اس کو جگادیتی کبھی،کسی اور کام کے لۓ نیند سے اُٹھا دیتی۔۔پہلے پہل تو نیلم نے اس بات کو اہمیت نہیں دی لیکن۔۔۔۔مسلسل ایسا ہونے لگا تھا۔۔
اس روز نیلم شام کو سو کر اٹھی تو جمیلہ کے کمرے سے غیرمانوس مردانہ آواز سُن کر ٹھٹھک گئ۔۔چاچا کے آنے کا بھی ٹائم نہیں تھا،پھر اس وقت کسی مرد کی موجودگی غیر متوقع تھی۔۔تب ہی جمیلہ کمرے سے باہر نکلی۔۔نیلم نے واپس مڑ جانا بہتر سمجھا۔۔
” نیلم۔۔ادھر تو آؤ۔۔دیکھو میرا بھانجا فیصل آیا ہے،ملتان میں رہتا ہے،کافی سالوں سے سعودی عرب میں تھا،ابھی دو دن پہلے واپس آیا ہے،مُجھے بہت پیار کرتا ہے اس لۓ فوری ملنے آگیا،کُچھ دن یہیں کراچی میں رہے گا”جمیلہ کی آواز پر پلٹی۔۔دراز قد ،سانولی رنگت،بڑی بڑی مونچھیں،بے ترتیب داڑھی اور بکھرے بالوں والا،مٹیالی جینز اور میلی سی ٹی شرٹ میں ملبوس تیس،پینتیس سالہ فیصل پہلی نظر میں ہی شکل سے کوئ اشتہاری لگ رہا تھا،کہیں سے بھی سعودی پلٹ نہیں لگ رہا تھا۔۔
“السلام علیکم” نہ چاہتے ہوۓ بھی عادتاً سلام کیا۔۔
“وعلیییکم السلام”چھوٹی چھوٹی آنکھوں کو پھیلا کر،گہری نظروں سے نیلم کو سر سے پیر تک دیکھا۔۔فیروزی رنگ کے لان کے سوٹ میں سر پر دوپٹہ لۓ،خوب صورت اور معصوم چہرے والی نیلم کو دیکھ کر چہرے ہونٹوں پر عجیب سی مُسکراہٹ اور آنکھوں میں حریصانہ چمک آگئ تھی۔۔نیلم کو وہ شخص سے خوف آرہا تھا۔۔وہ واپسی کے لۓ پلٹی۔۔” اؤے ہوۓ،خالہ یہ تو بڑی کنچا ہے قسم سے”فیصل نے نیلم کے جاتے ہی عامیانہ لہجے میں کہتے ہوۓ جمیلہ کے ہاتھ پر ہاتھ مارا۔۔تو جمیلہ نے آنکھیں نکالیں”چُپ۔۔!ابھی سے اُتاؤلا ہونے کی ضرورت نہیں،صبر کر،چل اب گھر کا رستہ لے،اب ایک ہفتے سے پہلے چکر نہ لگانا،آئ سمجھ؟” “خالہ ظُلم تو نہ کر” سر کُھجا کر کہا اور نیلم کے کمرے کی جانب گُھورتے ہوۓ،باہر کی جانب چل دیا۔۔
نیلم سالہاسال سے چاچا اور چاچی کے ساتھ رہ رہی تھی،آج تک چاچی کا کوئ رشتے دار کبھی آیا تھا نہ چاچی نے کبھی کسی کا ذکر کیا تھا لیکن۔۔۔۔نہ جانے کیسے اچانک یہ بھانجا پیدا ہوگیا تھا۔۔نیلم نے دل میں دل میں سوچا ضُرور تھا۔۔
نیلم یونی سے فارغ ہوچکی تھی۔۔فاروق کی جانب سے پچھلے ہفتے سے خاموشی تھی۔۔۔۔نیلم نے ایک دو میسج بھی چھوڑے مگر جواب ندارد۔۔۔۔اوپر سے وقت بے وقت فیصل کی آمد اور غلیظ انداز میں دیکھنا اور بے وجہ مُسکراتے رہنا نیلم کو سخت زہر لگتا،نیلم کی کوشش ہوتی کہ جب فاروق آۓ تو وہ کمرے میں بند ہوجاۓ لیکن،چاچی کسی نہ کسی بہانے سے نیلم کو آواز دیتیں اور نیلم کو نہ چاہتے ہوۓ بھی باہر آبا پڑتا۔۔چاچا اور چاچی میں نہ جانے کُھسر پُھسر ہوتی،انداز بڑا رازدارانہ ہوتا۔۔
“نیلم۔۔!اب تمہاری پڑھائ ختم ہوگئ ہے،ہم تُمہاری شادی کرنا چاہتے ہیں”ایک دن جمیلہ نے کہا تو نیلم گھبراگئ۔۔فوراً ہی فاروق کاخیال آگیا۔۔
” چاچی میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی”سمجھ نہ آیا کہ کیا بول کر منع کرے۔۔”کِیوں۔۔؟کوئ ننھی بچّی تو ہو نہیں،ہم نے بھی اب تک تُمہاری ذمے داری نبھالی ہے۔۔۔۔تُمہاری شادی کردیں تو بوجھ اُتر جاۓ گا” جمیلہ کے لہجے میں تلخی تھی۔۔اتنا رُوکھا انداز پہلے کبھی نہیں تھا۔۔۔۔
“دیکھو نیلم۔۔ہماری اپنی بھی کوئ زندگی ہے،اتنے سالوں سے تُمہاری وجہ سے جکڑے رہے،اب ہمیں اتنا اچھا موقع مل رہا ہے،تمہاری شادی کرکے بوجھ اُترے تو ہم میاں ،بیوی گھومنےجائیں گے اور ہم بھی زندگی کے مزے اٹھائیں گےفیصل بیچارہ ہمارے لۓ ساری کوششیں کررہا ہے” عبدالشکُور کی بات پر نیلم بُری طرح چونکی۔۔۔۔اس کو چاچا کی بچکانہ بات پر ہنسی بھی آئ کہ ان کے پاس کون سے خزانے تھے جو وہ لوگ زندگی انجواۓ کرتے۔۔؟عبدالشکُور نے اپنی بات جاری رکھی اور۔۔۔۔اگلے جُملے پر
نیلم کے پیروں تلے زمین نکل گئ۔۔۔۔
“نیلم۔۔!ہم نے تمہارا رشتہ طے کردیا ہے،فیصل بہت اچھا لڑکا ہے،اکیلا ہے،آگے پیچھے کوئ نہیں ہے،مُلتان میں اپنا گھر اور اپنا کاروبار ہے،تُم اُس کے ساتھ بہت خُوش رہوگی” الفاظ تھے کہ پِگھلا ہوا سِیسہ جو نیلم کی سماعتوں میں انڈیلا گیا تھا،
“ن۔۔۔۔نہیں چاچا بِالکُل بھی نہیں،میں فیصل سے شادی نہیں کرسکتی” بے ساختہ بولی
“کیوں کیا بُرائ ہے میرے بھانجے میں لاکھوں میں ایک ہے میرا بچّہ” جمیلہ تنک کر بولی
“برائ کُچھ نہیں چاچی،بس مُجھے فیصل پسند نہیں ہیں۔۔۔ آپ لوگ میری فکر نہ کریں،جہاں جانا ہے گھومنے جائیں، میں گھر میں رہ سکتی ہوں” نیلم نے نپے تُلے لہجے میں کہا
“یہ بھی خوب مشورہ دیا تُم نے۔۔۔۔ بی بی ہم نے گھر فروخت کرکےتفریح پر جانا ہے،تُمہاری شادی کرنی ہے اور۔۔۔۔پھر فیصل ہمیں ملتان میں اپنے ساتھ اپنے گھر میں رکھنے والا ہے” اتنی لمبی چوڑی پلاننگ اور۔۔۔۔گھر فروخت کرنے والی بات پر نیلم بُری طرح چونکی اور حیرانی سے چاچا اور چاچی کی جانب دیکھا۔۔
“یہ کیا کہہ رہی ہیں چاچی؟ مُجھے اس بات کی خبر ہی نہیں۔۔۔۔گھر کیسے فروخت کرسکتے ہیں آپ لوگ؟یہ ابّا اور اماّں کی نشانی ہے،میں ایسا نہیں کرنے دوں گی” نیلم کو ان کی بات سن کر شدید غصہ آیا تھا۔۔اتنا بڑا فیصلہ کرلیا اور۔۔۔۔نیلم کو کانوں کان خبر نہ ہوئ۔۔
“دیکھو بی بی۔۔! پہلی بات تو یہ کہ کہ تمہیں بتانا اتنا ضُروری نہیں تھا کہ ہم تمہیں آگاہ کرتے کہ ہمیں کیا کرنا ہے”جمیلہ نے کہا
” چاچی۔۔!آپ لوگ آج کیسی باتیں کر رہے ہیں؟میرے اور میرے گھر کے بارے میں کوئ فیصلہ کرنے سے پہلے کم از کم مُجھے بتانا چاہئے تھا”نیلم کا لہجہ تھوڑا سخت تھا۔”دیکھو ۔۔!اب اس غلط فہمی سے نکل جاؤ کہ یہ گھر تُمہارا ہے۔۔۔۔تُم نے اپنی مرضی سے اور خوشی خوشی یہ گھر اپنے چاچا کے نام کردیا ہے،اس لۓ اب۔۔۔۔ہم تُمہارے ساتھ نہیں بلکہ تم ہمارے گھر میں ہمارے ساتھ رہ رہی ہو۔۔۔۔اِس گھر کے حوالے سے ہم ہر فیصلہ کرنے کا مکمل حق رکھتے ہیں”جمیلہ نے طنزیہ لہجے میں اس کی سماعتوں میں زہر انڈیلا۔۔۔۔نیلم سر پکڑ کر رہ گئ۔۔۔۔اُس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔۔
“چاچا۔۔!چاچی کیا کہہ رہی ہیں؟”نیلم نے عبدالشکُور کو مُخاطب کیا”تمہاری چاچی ٹھیک کہہ رہی ہے نیلم۔۔۔۔بہتر یہی ہے کہ اس کی بات مان لو، فیصل سے شادی کرلو اور ہم جو کر رہے ہیں ،ہمیں کرنے دو “جواب اس قدر کھرا تھا کہ۔۔۔۔ رہی سہی امید بھی جاتی رہی۔۔
” چاچا۔۔!آپ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے؟ مُجھے اندازہ نہیں تھا کہ آپ لوگ میرے ساتھ ایساکُچھ کریں گے؟ میں نے تو آپ پر بھروسہ کرکے آپ کو ابّا مان کر گھر آپ کے نام کیا تھا اور آپ لوگوں نے۔۔۔۔میری پُشت میں چُھرا گھونپا۔۔۔۔نُجھے اپنے ہی گھر میں بے وقعت اور لاوارث کردیا۔۔۔۔فیصل پکی عمر کا اوباش انسان ہے۔۔۔۔اس کے آنے پر شراب کی بو آتی ہے،اتنا سب کُچھ جانتے ہُوۓ بھی میں اس شخص سے شادی کرلوں۔۔؟یہ ناممکن ہے”نیلم کے اعتماد اور بھروسے کی دھجیاں اُڑ چکی تھیں۔۔کُچھ نہ سوجھا تو آنسو بہہ نکلے۔۔
“تُم کیا سمجھتی ہو نیلم کہ ہمیں تُم سے مُحبّت یا لگاؤ تھا یا ہمارے دل میں ظُہور بھائ اور بھابی کے لۓ کوئ نرم گوشہ تھا جو تمہاری ذمے داری قُبول کی اور اتنے سال تمہارے ساتھ گزارے،تمہاری ہر بات مانی،تمہارے لاڈ اُٹھاۓ؟” جمیلہ نے تمسخُرانہ لہجے میں کہا۔۔۔۔نیلم کی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں۔۔
“شروع سے ہی تمہاری خوب صورت ماں کے آگے میں برصورت اور کالی کلوٹی مُشہور تھی۔۔مُجھے تُمہاری ماں سے ہمیشہ نفرت رہی ہے،جب کوئ اس کو میرے سامنے سراہتا تو۔۔۔۔تو میرے تن بدن میں آگ لگ جاتی،میرا دل چاہتا کہ میں تمہاری ماں کی شکل بگاڑ دوں۔تُم ہُو بہُو اُس کی کاپی ہو اتنے سالوں سے تمہیں برداشت کِیا تو اس کے پیچھے تمہاری مُحبّت لگاؤ یا خون کا رشتہ نہیں بلکہ ہمارا مطلب تھا اب ہمارا مقصد پُورا ہوگیا ہے،اِس لۓ بہتری اس میں ہے کہ تم ہماری بات شرافت سے مان لو جیسا ہم کہتے ہیں ،ویسا کرو ۔ ہمارے علاوہ تُمہارے آگے پیچھے کوئی بولنے والا بھی نہیں ہے۔
بی بی ہم نے کچّی گولیاں نہیں کھیلی ہیں” ان دونوں نے کس قدر شاطرانہ چال چلی تھی۔جمیلہ تو چلو غیر تھی۔۔سگے چاچا کی غیرت کہاں مر گئ تھی،گھر کو پالینے کی حرص میں اپنے رُتبے کو،اپنے رِشتے کو بھی یکسر بُھلا بیٹھا تھا۔۔آنکھوں پر حِرص و لالچ کی یہ کیسی پٹی پڑ گئی تھی کہ مرے ہوۓ بھائ کی موت کو مہرہ بناکر اس قدر گھناؤنا اور گھٹیا قدم اُٹھایا تھا۔۔کیسی شاطر چال چلی نیلم کا ذہن ماؤف ہورہا تھا۔
“چاچا۔۔میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ آپ لوگ۔۔۔۔اتنے گِر سکتے ہیں،ایک گھر کی لالچ میں آپ لوگوں نے مُجھ سے ہمدردی جتائ۔۔۔۔آپ لوگوں نے نہ صرف میرے بھروسے،میرے اعتماد میری معصُومیت کا خُون کِیا ہے بلکہ آپ لوگوں نے مُقّدس رشتے کا، اور مرے ہوۓ بھائ کے رشتے کو بھی پامال کِیا ہے۔۔۔۔گھر تو میں نے اپنے بھروسے اور اندھے اعتماد کے صدقے آپ کے حوالے کیا ہے لیکن۔۔۔۔یہ زندگی میری اپنی ہے،اس پر آپ لوگوں کا کوئی حق نہیں،میں ایدھی سینٹر میں چلی جاؤں گی لیکن۔۔۔۔کبھی بھی اس بدقماش ،آوارہ اور شرابی انسان سے شادی نہیں کروں گی” معصُوم،کم گو اور سیدھی سادی نیلم کا دل ٹُوٹا تو نہ جانے کیسے اتنی ہمّت آگئ تھی۔
“تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے نیلم۔۔اتنی بکواس کررہی ہو۔۔۔۔کیسے نہیں کروگی شادی؟یہ مت بُھولو کہ ہمارے بغیر تم ایک لاوارث ،بے گھر اور بے آسرا لڑکی ہو۔۔۔۔کس کے بھروسے بھرم دکھا رہی ہو؟اپنی حیثیت اور اپنا مقام مت بُھولو۔۔اگلے اتوار کو فیصل سے تمہارا نکاح ہے،چُپ چاپ اور شرافت سے مان جاتی ہو تو ٹھیک ہے ورنہ۔۔۔۔؟” جمیلہ ایک لمحے کے لۓ رکی اور خونخوار نظروں سے نیلم کو دیکھا۔۔ “ورنہ کیا چاچی۔۔؟آپ لوگ زبردستی کرو گے؟” نیلم نے بھی اسی لہجے دو بدُو کہا
“تُم سوچ بھی نہیں سکتی کہ میں۔۔۔۔کیا کرسکتی ہوں،جہاں تمہاری سوچوں کی حد ختم ہوتی ہے وہیں سے میری چالیں شروع ہوتی ہیں” جمیلہ اٹل اور گھمبیر لہجے میں کہتے ہوۓ اُٹھ کھڑی ہوئ۔۔ساتھ ہی عبدالشکُور بھی اُٹھ کھڑا ہوا اور بیوی کے پیچھے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔ نیلم کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے؟اس قدر نیچ اور گندے لوگوں کے چُنگل میں وہ پھنس چُکی تھی۔۔کوئ بھی اپنا نہ تھاشِدّت سے فاروق کی یاد آئ۔۔۔۔گو کہ فاروق کی طرف سے کال نہ کرنے کی سخت پابندی تھی لیکن۔۔۔۔ اس کے علاوہ کوئ چارہ نہ تھا۔
*********
شادی سے فارغ ہوکر فاروق تھکن کے مارے گہری نیند سوگیا۔۔اُس رات نیلم سے بات بھی نہیں کر پایا۔۔موبائل ہاتھ میں تھامے تھامے آنکھ لگ گئ۔۔
نہ جانے رات کا کون سا پہر تھا کہ جب۔۔۔۔ماں جی کی چیخ پر برابر کے کمرے میں سوۓ ہوۓ فاروق کی آنکھ کُھلی۔۔نیند کا غلبہ بھی تھا کہ وہ کُچھ سمجھ نہ پایا۔۔۔۔دفعتاً ذہن میں بابا کا خیال آیا وہ۔۔۔۔بجلی کی سی تیزی سے اُٹھا اور۔۔۔۔تیزی سے بیڈ سے اُترا۔۔۔ بے دھیانی میں سائیڈ پر رکھے موبائل پر ہاتھ لگا اور۔۔۔۔موبائل جھناکے سے زمین پر آگرا۔۔۔۔اس سے پہلے کہ فاروق موبائل اُٹھاتا۔۔۔۔ماں جی کی دوسری چیخ پر بد حواس ہوکر باہر کی جانب دوڑا۔۔وہ فاروق کو پُکار رہی تھی۔۔
“فاروق۔ ! دیکھ۔۔تیرے بابا کی سانسیں نہیں چل رہی۔۔۔۔ابھی تو پانی پی کر کروٹ بدلی اور۔۔ساکت ہوگۓ” الماں جی روتے ہوۓ کہہ رہی تھیں۔۔فاروق بابا کے بیڈ کی جانب لپکا”بابا۔۔بابا۔۔آنکھیں کھولو بابا۔۔بابا ۔۔کیا یوگیا ہے؟ بولتے کیوں نہیں؟” فاروق دیوانوں کی طرح چلّا رہا تھا۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔سب کُچھ ختم ہوچکا تھا۔۔بابا نے زندگی سے ناطہ توڑ لیا تھا۔۔
گو کہ کُچھ دنوں سے فاروق بابا کی طبیعت کے حوالے سے مطمئین نہیں تھا،اُسےاِس بات کا دھڑکا ہی لگا رہتا تھا ،بابا کو کُچھ بھی ہوسکتا ہے،لیکن پِھر بھی ایک اُمید۔۔۔۔تھی شاید۔۔۔۔بابا زندگی کی جانب لوٹ آئیں گے ،پِھر سے اوطاق میں بیٹھ کر اپنی گھنی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوۓ رونقیں لگائیں۔۔۔۔ماں جی کے ہاتھوں پر پتوں والی گُھلی مہندی سے اپنے ہاتھ سے بیل بوٹے بنائیں گے ۔۔۔۔حویلی میں ان کے قہقہےگُونجیں۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔ساری اُمیدیں دم توڑ گئیں۔۔۔۔سب کُچھ ختم ہوگیا تھا۔۔۔۔فاروق گُم سُم ہوگیا تھا۔۔۔۔اُسے یہ بھی احساس نہیں تھا کہ۔۔۔۔ نیلم نے درجن کے حساب سے کالیں کر ڈالی تھیں اور۔۔۔۔
ابھی فاروق مکمل طور پر سنبھل بھی نہ پایا تھا۔۔ماں جی کی صورت دیکھ کر اُس نے ہِمّت کی،کیونکہ اب ماں یا ملازمہ (اماّں) کے سوا کوئی قریبی نہ تھا۔۔تب ہی نیلم کا خیال بھی آیا تو۔۔۔۔احساس ہوا کہ وہ اکیلا نہیں۔۔۔۔ساتھ ہی موبائل کا خیال آیا۔۔۔۔
بارہ تیرہ دن ہوگئے تھے نیلم سے رابطہ نہ ہوسکا۔۔۔۔لیکن اللہ پاک کی مصلحت وہی بہتر جانتا ہے کبھی کبھی۔۔۔۔رب بار بار امتحان لیتا ہے،بالکل اسی طرح بابا کی موت کے ٹھیک دسویں دن اچانک ہی ماں جی نے بھی زندگی سے ناطہ توڑ لیا شاید۔۔۔۔بابا کی جدائ برداشت نہیں کرپائیں۔ فاروق کی حالت پاگلوں والی ہوگئ تھی۔۔وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ بابا کے بعد ماں جی بھی یوں اکیلا چھوڑ کر چلی جائیں گی۔
***************
نیلم کا دماغ سوچ سوچ کر ماؤف ہورہا تھا۔۔فاروق کی خامُوشی دن بہ دن اُس کے لۓ اذیت بنتی جارہی تھی۔۔دوسری جانب چاچا اور چاچی کا سوتیلا پن کُھل کر سامنے آگیا تھا،اس بھری دنیا میں لے دے کے ایک فاروق کا سہارا ہی تھا،لیکن اُس کی مُسلسل خاموشی اور سرد مُہری نے نیلم کو توڑ کر رکھ دیا تھا۔۔لیکن نیلم نے بھی سوچ لیا تھا کہ وہ فیصل سے شادی کبھی بھی نہیں کرے گی۔۔بلکہ گھر چھوڑ کر چُپکے سے ایدھی سینٹر چلی جاۓ گی۔۔زندگی عجیب دوراہے پر آگئ تھی۔۔اپنے ہی گھر میں وہ غیر محفُوظ، بے آسرا ہوچکی تھی۔۔
اُس روز بھی نیلم بے حد پریشان تھی۔۔نیلم فاروق کی جانب سے بالکل مایُوس ہوچکی تھی۔۔اُسے لگ رہا تھا کہ یقیناً اپنی ماں ،باباکے دباؤ میں آکر فاروق نے کسی کزن سے شادی کرلی ہے۔۔تب ہی مکمل خاموشی ہے۔۔۔۔دل پر بھاری بوجھ اور آنکھوں میں بے تحاشا آنسو لۓ دبی دبی سسکیوں کے ساتھ فاروق کے لۓ آخری میسج چھوڑا”فاروق۔۔!میں بہت مُشکل میں ہوں،تمہاری بے اعتنائی اور چاچا چاچی کی خود غرضی اور گھٹیا حرکتوں نے مُجھے بے بس ولاچار کردیا ہے۔۔تُم نے بہت دیر کردی ہے فاروق۔۔!میں جن شکنجوں میں جکڑی ہوئ ہوں، وہاں سے فرار ناممکن ہے۔۔میں تھک گئی ہوں فاروق۔۔جو بھی حالات تھے تم مُجھے بتا تو سکتے تھے۔۔تمہاری مسلسل خاموشی اس بات کی گواہی ہے کہ۔۔۔۔تم بھی عام مرد کی طرح بے وفا نکلے”ابھی میسج ٹائپ کیا ہی تھا کہ کسی نے جھپٹ کر موبائل ہاتھ سے لیا۔۔اور۔۔۔۔دوسرے لمحے موبائل پوری قوت سے زمین پر دے مارا۔۔۔۔نیلم اس اچانک اُفتاد پر سراسیمہ ہوگئی ۔۔سامنے آنکھوں میں غیض وغضب لیے فیصل نفرت سے اسے گُھور رہا تھا۔۔پیچھے جمیلہ بھی کھڑی خُونخوار نظروں سے گُھور رہی تھی۔۔
“دیکھا خالہ۔۔اس بےحیا لڑکی کو۔۔پُوچھو اس سے کہ میری ہونے والی بیوی ہوکر کس سے عشق لڑارہی ہے،ایک تُم اندھی ہوکہ تمہیں کُچھ نظر نہیں آتا”
“او بے غیرت۔۔کس کے ساتھ تعلقات ہیں تیرے؟ پڑھائ کے ساتھ کس کس کے ساتھ رشتے بنارکھے ہیں تو نے” جمیلہ چیل کی طرح اُس پر جھپٹی۔۔”چاچی۔۔خُدا کا خوف کریں،کیسی باتیں کر رہی ہیں؟”نیلم نے اپنا بچاؤ کرتے ہوۓ کہا
“خالہ۔۔میں نے پہلے بھی کہا تھا اس پر نظر رکھو،تُم اندھی ہوکر بیٹھی تھی” فیصل نے لال لال آنکھیں نکال کر کہا۔۔”تُم چُپ کرو۔۔تُم ہوتے کون ہو؟ اور کس حق سے مُجھ پر الزام لگا رہے ہو،اپنی حد میں رہو”نیلم کے لہجے میں چنگھاڑ تھی۔۔۔۔
“اوۓ۔ !میری حد پوچھتی ہے دو کوڑی کی ہوکر۔۔تیرے گھر کو تیرے چاچا اور چاچی کو خرید چکا ہوں میں۔۔۔۔اور تیری قیمت بھی دے چُکا۔۔۔۔میرا حق پوچھتی ہے۔۔؟” وہ پھنکارتے ہوۓ آگے بڑھا اور۔۔۔۔نیلم کی لمبی چوٹی اپنی مٹھی میں جکڑ کر بولا۔۔””اُف” درد کی شدت سے نیلم بلبلا اٹھی۔۔
“ک۔ ۔ ۔ ۔کیا۔ ۔ ۔ ۔بکواس ہے یہ؟” درد کی شدّت کے باوجود وہ تیز لہجے میں بولی۔۔
“چُپ کر بے غیرت۔۔۔۔تیری زبان کُھلی ہے تو سچ بھی جان لے۔۔۔۔فیصل میرا رشتے دار نہیں ہے،یہ قاتل،اور غنڈہ ہے،تیرا طلبگار تھا اسی لۓ یہاں تک آیا۔۔ہاں۔۔۔۔اس نے ہمیں بھاری رقم دی ہے۔۔۔۔شُکر ادا کر کہ یہ تُجھ سے نکاح کررہا ہے”
“یااللہ۔۔” نیلم حواس باختہ جمیلہ کے منُہ سے نکلے الفاظ کا زہر اپنے کانوں میں اتار رہی تھی۔۔کوئ اتنا کیسے گِر سکتا ہے؟”
“اس کو کل تک کمرے میں بند کرکے رکھ۔۔کل ہی اس کو نکاح کرکے لے جاؤں گا۔۔۔۔اور ساری اکڑ نکال دوں گا،بہت پارسا بنتی ہے نا” فیصل نے ایک جھٹکے سے اس کی چوٹی اپنے آہنی ہاتھوں سے آزاد کی اور ساتھ ہی نیلم کے موبائل کے ٹکڑے اٹھاۓ اور دندناتا کمرے سے نکل گیا۔۔نیلم نے سر سے اٹھتی درد کی ٹیسوں کو دونوں ہاتھوں سے تھاما۔۔۔۔سر سے ذیادہ ٹیسیں تو دل میں اُٹھ رہی تھیں۔۔جسم سے ذیادہ روح گھائل ہوئ تھی۔۔یہ کیسی انہونیاں دیکھنے اور سُننے کو مل رہی تھیں؟چاچی کے زبان سے نکلا ایک ایک لفظ پھانس بن کر دل میں اٹک گیا تھا۔۔۔۔یہ لوگ کس قدر گِر چُکے تھے۔ ۔جس کی کوئ حد نہیں تھی۔۔۔۔کس قدر تنہا اور لاچار تھی وہ کہ۔۔۔۔اپنے حق میں کُچھ بول بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔۔کسی چیز پر اختیار نہ تھا سواۓ آنُسو کے۔۔۔۔اس دوزخ سے فرار کا کوئ راستہ تھا نہ کوئ صُورت۔۔۔۔بے بسی سے بند دروازے کی جانب دیکھا۔۔۔۔چاچا،فیصل دو مکروہ اور بےغیرت مرد تھے جو۔۔۔۔اس کو تباہ کررہے تھے تو وہیں۔۔۔۔فاروق بھی مُسلسل اگنور کررہا تھا۔۔۔۔اُسے مردوں سے نفرت ہورہی تھی۔۔۔۔گِھن آرہی تھی۔۔۔۔کوئ راستہ، کوئ محافظ نہ تھا۔۔۔۔سواۓ رب تعالیٰ کے۔۔۔۔
***********
“فاروق پُتر۔۔!کب تک یوں پڑے رہو گے؟رب کی مرضی کے آگے ہم سب بے بس ہیں میرے پُتر۔۔بے شک تیرے لۓ بہت بڑا صدمہ ہے لیکن۔۔۔۔حقیقت کو تسلیم کرلو،زندگی کی طرف لوٹ آ ؤ،دیکھو تو کیا حال ہوگیا ہے تمہارا،جانے والے تو چلے جاتے ہیں اُن کا دُکھ اپنی جگہ لیکن۔۔۔۔جو زندہ ہیں ان کے لۓ خود کو مضبوط بناکر جینا پڑتا ہے پُتر،میری طرف دیکھو۔۔۔۔میں بھی تو اکیلی پڑگئ نا” اماّں نے کُرسی پر بیٹھ کر فاروق کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوۓ آبدیدہ لہجے میں کہا تو فاروق نے آنکھوں سے ہاتھ ہٹایا۔۔۔۔رت جگوں اور مُستقل رونے کی وجہ سے سُرخ انگارہ آنکھوں سے اماّں کی طرف دیکھا۔۔
“جو زندہ ہیں،اُن کے لۓ جینا پڑتا ہے” فاروق اماّں کے اِس جُملے پر بُری طرح چونکا۔۔۔۔چَھن سے نیلم کا سراپا نگاہوں کے سامنے آگیا۔۔
“اماّں۔۔!میرا موبائل۔۔۔۔؟” اچانک سے یاد آیا۔۔
“وہ۔۔۔۔؟” اماّں نے ذہن پر زور ڈال کر سوچا۔۔۔۔اچانک ان کو یاد آیا “وہ تو میں نے تمہاری الماری میں رکھ دیا تھا” فاروق تیزی سے اُٹھا اور موبائل اٹھالایا۔۔چارج کرکے موبائل آن کیا تو۔۔۔۔نیلم کی بے شمار مس کالز تھیں۔۔۔۔فاروق نے نیلم کو کال لگئ لیکن۔۔۔۔موبائل آف تھا۔۔۔نیلم کا میسج پڑھ کر فاروق بے چین تھا۔۔۔۔
ایک،دو،تین،لا تعداد بار کوشش کی لیکن جواب ندارد۔۔فاروق پریشان ہوگیا،نیلم تو کبھی بھی موبائل آف نہیں کرتی تھی۔۔والدین کے بعد فاروق کو ویسے بھی حویلی اور گاؤں سے دل اُچاٹ ہوچکا تھا۔۔ساتھ نیلم بھی رابطے میں نہیں تھی۔۔رابطے کو کوئ ذریعہ نہ تھا،فاروق گاؤں سے سب کُچھ ختم کرکے شہر آگیا۔۔ گو کہ موبائل کے علاوہ نیلم سے رابطے کا کوئ ذریعہ نہیں تھا پھر بھی،دل تھا کہ نیلم کی تلاش پراُکسارہا تھا،اُس کے &لۓ تڑپ رہا تھا۔۔۔۔وہ ہر صُورت نیلم کو تلاش کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔نہ جانے نیلم کون سی مةشکل میں تھی۔۔؟نہ جانے اس معصوم، تنہا اور بے بس لڑکی کن حالات کاشکار ہوگی۔
بس یہی سوچیں فاروق کو پاگل کررہی تھیں۔۔پیسے کی کمی نہیں تھی،شہر میں چھوٹا سا گھر خرید لیا تھا۔۔ساتھ اماّں تھیں جو ماں کی طرح خیال رکھتیں۔۔بس ایک کسک تھی،اک پچھتاوہ تھا،جو روگ بن گیا تھا۔۔اُس نے اماّں کو بھی نیلم کے بارے میں بتادیا تھا۔۔۔۔
“اماّں۔۔!میں تھک گیا ہوں۔۔کبھی کبھی دل کرتا ہے کہ خُود کشی کرلُوں لیکن۔۔۔۔ایک آس،ایک اُمید کی ہلکی سِی کِرن مُجھے روک دیتی ہے کہ شاید۔۔۔۔شاید مجھے نیلم مل جاۓ،کہیں بھی،کسی جگہ بھی اچانک،سرِراہ چفتے چلتے “
جب تھکن حد سے ذیادہ بڑھتی تو اماّں کی گود میں سر رکھ کر ڈھیر سارے آنسو بہالیتا،
“میرے بچّے۔۔تمہارا جذبہ سچّا ہے،وہ ان شاء اللہ ضُرور ملے گی” اماّں خود بھی دُکھی ہوجاتیں لیکن۔۔۔۔اُس کا حوصلہ بڑھاتیں۔۔
“نیلم۔۔اُٹھ کر یہ کپڑے پہن کر تیار ہوجا۔۔کچھی دیر میں فیصل آنے والا ہے” جمیلہ نے کپڑوں کا شاپر اس کے سامنے پھینکتے ہوۓ کہا۔۔ “چاچی۔۔!اللہ کا واسطہ میرے حال پر رحم کرو۔۔۔۔مُجھے جانے دو،مُجھ پر یہ ظلم مت کرو۔۔۔۔چاچا۔۔آپ تو میرے چاچا ہو،آپ کو مُجھ پر ترس نہیں آتا۔۔ نیلم نے روتے ہوۓ ہاتھ جوڑ کر کہا لیکن۔۔۔۔لگتا تھا کہ ان کے سینوں میں دل نہیں پتھر تھے،جس سے ٹکرا کر نیلم کا پور پور لُہو لُہو ہوچکا تھا۔۔رونا،گِڑگڑانا،بلکنا،واسطے دینا سب کُچھ بے کار تھا۔۔وہ ایک لاش کی صورت میں دلہن بنی بیٹھی تھی۔۔فیصل اپنے ساتھ اپنے جیسے شرابی اور بدکردار دوست بہ طور گواہان لایا تھا۔۔ابھی نکاح کی تیاری ہورہی تھی کہ۔۔۔۔ اچانک باہر شور ہوا۔۔۔۔ہولیس کی یکے بعد دیگرے گاڑیاں گلی میں داخل ہوئ تھیں۔۔پھر۔۔۔۔دندناتے ہوۓ پولیس کے جوان گھر میں گُھس گۓ تھے۔۔۔۔جمیلہ اور عبدالشکور کے لۓ یہ افتاد اچانک اور نہ سمجھ میں آنے والی تھی۔۔۔۔فیصل اور اس کے دوست بدحواس ہوکر کھڑے ہوگۓ۔۔۔۔فیصل نے پستول نکال لی اور بنا سوچے سمجھے فائر کھول دیا۔۔۔۔اس کی ذد میں جمیلہ آگئ تھی۔۔۔۔جمیلہ کو بچانے عبدلشکُور آگے بڑھا اور۔۔۔۔وہ بھی ڈھیر ہوگیا۔۔دو دوست تو دیوار پھلانگ کر بھاگے۔۔۔۔نیلم خوف و دہشت سے بدحواس کمرے میں کھڑی کانپ رہی تھی۔۔۔۔بھاگتے ہوۓ ایک دوست کی شکل دیکھ پائ تھی۔۔۔۔موت سر پر منڈلارہی تھی۔۔گولیوں کا تبادلہ ہورہا تھا۔۔ایک گولی فیصل کو لگی وہ زمین پر گرگیا۔۔۔۔فوراً ہی پولیس کے جوان گھر میں داخل ہوگۓ۔۔موقع دیکھ کر نیلم غُسل خانے سے نکل کے پچھلے دروازے کی جانب بھاگی اور پِچھلے دروازے سے نکل کر سر پٹ دوڑ لگائ۔۔کُچھ دور بعد قریب ہی ایک گاڑی آکر رکی اور کسی نے منہ دبا کرچ گھسیٹا۔۔۔۔تیز بُو محسوس ہوئ۔۔۔۔نیلم نے بے ہوش ہوتے سامنے والے شخص کو نیم وا آنکھوں سے دیکھا۔ل۔۔۔۔وہ فیصل کا دوست تھا۔۔۔۔گاڑی زن سے آگے بڑھ گئ۔۔۔۔ آنکھ کھولی تو خود کو نرم بستر پر پایا۔طبلے کی تھاپ اورگُھنگرو کی دھیمی چھنکار سماعت سے ٹکرائ۔۔۔۔کچھ نیند کا خمار تھا،کُچھ سر بھی بھاری سا تھا۔۔۔۔پلکیں جھپکا کر اِدھر اُدھر دیکھا۔۔۔۔بجلی کی پُھرتی سے اُٹھ بیٹھی۔۔چاروں جانب نگاہ دوڑائ۔۔۔۔ایک لمحے میں دماغ کی گھنٹیاں بج اٹھیں۔۔سجا سجایا بہترین بیڈروم،جدید طرز کے بیڈ پر سلک کی خوب صورت اور خاصی مہنگی بیڈ شیٹ۔۔بے انتہا کاسمیٹکس اور بیش قیمت پرفیومز سے سجا ڈریسنگ ٹیبل،اور اس پر کُچھ سوکھی اور کچھ نیم جاں گلاب اور بیلے کی بکھری پتیاں،موتیے اور بیلے کے باسی گجرے اور کنگن۔۔۔۔ہوش وحواس ایک دم بحال ہوگۓ تھے۔۔یہ کون سی جگہ ہے۔۔؟سمجھنے کے لۓ سوچنے کی ضرورت نہیں تھی۔۔ہلکی میوزک،طبلے کی آواز مدھم ہوتی جارہی تھی۔۔گھڑی پر نظر ڈالی چار کے گھنٹے صبح کی آمد کااعلان کررہے تھے،خوف سے اُسے جُھرجُھری آگئ۔۔تیزی سے اُٹھی بند کمرے کی ادھ کھلی کھڑکی سے باہر جھانکا۔۔وہ بالائ منزل پر تھی نیچے والے پورشن میں سامنے لمبا چوڑا ہال جس میں سرخ اور سبز خوب صورت قالین بچھا ہوا تھا۔۔سامنے ترتیب سے کمرے بیشتر کمروں کے دروازے بند تھے۔۔ہال کا ماحول خوابناک تھا ،ہلکی سرخ اور سبز روشنی والے جلتے بلب۔۔۔۔دیوار سے لگے مخملیں گاؤ تکیے،قالین پر دھرے طبلے ،بکھری ہوئ پھولوں کی پتیاں اور مسند پر رکھا بڑا سا نقشین چاندی کا پاندان،محفلیں برخاست ہوچکی تھیں۔۔ “یہ۔۔۔۔یہ تو۔۔۔۔کسی طوائف کا کوٹھا تھا۔۔گندی اور غلیظ جگہ۔۔۔۔یا اللہ پاک۔۔میں یہاں کیسے آگئ۔۔؟؟کون لایا ہے یہاں۔۔؟دفعتاً گاڑی والا شخص یاد آگیا جو۔۔۔۔فیصل کا دوست تھا۔۔۔۔اس کا وجُود بے جان ہورہا تھا۔۔دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔۔۔۔ٹانگیں لرز رہی تھیں۔۔سارا وجود پسینے سے شرابور تھا۔۔ہلکی ہلکی گھنھگرو کی آواز سے اندازہ ہورہا تھا کوئ طوائف محفل کو رونق بخشنے کے بعد کمرے میں جارہی تھی۔۔ساری لائیٹیں بھی بند ہوچکی تھیں۔۔گویا صبح کی آمد کے ساتھ ہی محفل ابھی اندھیرا تھا،نیلم یہاں سے بھاگنا چاہتی تھی۔۔سو ہمّت کرے باہر کے دروازے کی جانب آئ۔۔۔۔اس سے پہلے کے دروازے تک پہنچتی۔۔دھاڑ سے دروازہ کُھلا۔۔نیلم گھبرا کر دو قدم پیچھے ہٹی۔۔۔۔اس کے چہرے پر خوف نمایاں تھا۔۔۔۔نظریں کُھلے دروازے پر جم گئیں۔۔ادھیڑ عُمر کی سلک کے گلابی سوٹ اور فل میک اپ کے ساتھ بالوں کا جُوڑا بناۓ پان چباتی ہوئ خرانٹ عورت نے قدرے مُسکراکر ایک ادا سے آنکھیں گُھمائیں اور۔۔۔۔آنکھوں میں چمک نمایاں تھی۔۔” اُٹھ گئیں چندا۔۔ ہماری دنیا میں خوش آمدید۔۔۔۔ تو ہو نا؟ کسی چیز کی ضرورت ہو تو۔۔۔۔مجھے بتادینا،میں یہاں کی مالکن الماس بائ ہوں”ہاتھ نچاکر نیلم سے مخاطب ہوئ۔۔نیلم کے پیروں تلے زمین نکل گئ۔۔ “می۔۔میرا نام۔ ۔ ۔ ۔ چندا نہیں۔۔نیلم ہے۔۔۔۔مجھے یہاں کون لایا ہے؟ میں یہاں نہیں رہوں گی۔۔مُجھے جانے دو۔۔میں ایسی ویسی لڑکی نہیں ہوں” نیلم کی آواز کپکپا رہی تھی۔۔ “ہاہاہاہا۔۔او میڈم۔۔یہاں پر آنے سے پہلے ساری ہی شریف زادیاں ہوتی ہیں۔۔۔۔سب کو واپس جانا ہوتا ہے۔۔۔۔سب کو اپنے نام اور مقام عزیز ہوتا ہے لیکن۔۔۔۔یہاں آنے کے بعد نہ نام ان کا چلتا ہے نہ خاندان۔۔۔۔جو ایک بار اس چار دیوار میں آجاۓ پِھر وہ اس چار دیواری سے باہر نہیں جا سکتی۔۔۔۔الماس بائ اتنی پاگل نہیں کہ لاکھوں میں خرید کر تمہیں آزاد کردے۔۔۔۔تُجھے ہمارے ایک آدمی نے یہاں پہنچایا ہے پورے پانچ لاکھ قیمت ادا کی ہے میں نے۔۔۔۔ابھی نئ آئ ہے اس لۓ۔۔۔۔تُجھے رعایت دے رہی ہوں۔۔دوسری بات یہ کہ تو ارم،نورین،عابدہ،فاریہ جو بھی تھی۔۔وہ تیرا ماضی تھا۔۔آج سے تُو چندا ہے۔۔الماس بائ کی چندا۔۔۔۔دوچار دن جم کے کھا پی لے پھر۔۔۔۔تُجھے گانا سیکھنا ہوگا۔۔الماس بائ سخت ہے تو۔۔۔۔لیکن۔۔اپنی لڑکیوں سے پیار بھی بہت کرتی ہے۔۔۔۔تُو اتنی حسین ،اتنی نازک اور کمسن کلی ہے کہ تُجھے تو میں۔۔۔۔بہت اچھے سے،آرام سے کیش کروں گی” تھوڑا سا جُھک کر انتہائ عامیانہ انداز میں کہتے ہوۓ آنکھ ماری۔۔۔۔نیلم کے تن بدن میں جُھر جُھری آگئ۔۔وہ گھبرا کر دو قدم پیچھے ہٹی۔۔۔۔اس کا دل زور سے دھڑک رہا تھا۔۔۔۔دماغ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محُروم تھا۔۔یہ کتنا جان لیوا اور تکلیف دے انکشاف تھا کہ وہ۔۔۔۔اغوا ہوکر کسی طوائف کے کوٹھے پر بیچ دی گئ تھی۔۔۔۔اس گند سے بہتر تو چاچا اور چاچی کا ساتھ تھا۔۔۔۔اس کا وجود پتھر کا ہو چکا تھا۔۔قدم وہیں پر جم گۓ تھے۔۔وہ پتھرائ ہوئ آنکھوں سے الماس بائ کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ “چل میری چندا اب۔۔۔۔آرام کرلے۔۔۔۔صبح ملتے ہیں،اور ہاں یہاں سے باہر نکلنے کی کوشش مت کرنا کیونکہ۔۔۔۔یہاں آنے کا تو دروازہ ہے لیکن۔۔۔۔جانے کا کوئ راستہ نہیں” ایک جھٹکے سے اپنی آرٹیفیشل چوٹی کو پیچھے کرتے ہوۓ الماس واپس پلٹی۔۔نیلم بیڈپر گر کر پُھوٹ پُھوٹ کر رودی۔۔زندگی یہ کس موڑ ہر لے آئ تھی۔۔آج کے بعد وہ بھی ایک طوائف کے نام سے جانی جاۓ،بگڑے ہوۓ،گندے اور غلیظ لوگوں کا دل بہلاۓ گی۔۔۔۔ان کے سامنے ناچے گی،گاۓ گی۔۔کس قدر اذیت ناک تھا سب کُچھ برداشت کرنا۔۔واپسی کا کوئ راستہ نہ تھا۔۔نیند تو کہاں آتی۔۔۔۔طبیعت خراب ہونے لگی تھی۔۔۔۔بھوک پیاس تو اڑ چکی تھی لیکن۔۔۔۔سچ تو یہ تھا کہ گزشتہ کئ دن سے پیٹ بھر کر کھانا بھی نہیں کھایا تھا۔۔۔۔گھر کا خیال آیا تو۔۔۔۔آنکھوں میں چاچا اور چاچی کی تڑپتی لاشیں اور زخمی فیصل کا چہرہ نگاہوں میں آگیا،فیصل تو پولیس کی حراست میں تھا،چاچا ،چاچی ختم ہوچکے تھے۔۔ کسی فلم یا ناول کی طرح پل میں زندگی کیا سے کیا ہوگئ تھی۔۔سب کُچھ بدل چُکا تھا۔۔۔۔فجر کی اذانیں شروع ہوئ تو نیلم وضو کرکے نماز کے لۓ آکھڑی ہوئ۔۔آس پاس کے ماحول سے بے نیاز آنکھیں بند کۓ بے تحاشا آنسوؤں کے ساتھ وہ رب سے اپنے واسطے خیر کی دعائیں مانگ رہی تھی۔۔۔۔ صبح تک وہ یونہی جاۓ نماز پر بیٹھی رہی۔۔ ایک دبلی پتلی چھریرے بدن والی سانولی سی لڑکی کمرے میں آئ۔۔قدموں کی چاپ پر سر اٹھا کر دیکھا۔ “میم ۔۔ناشتے پر انتظار کررہی ہیں،اٹھو میرے ساتھ چلو” لڑکی نے کُھردرے لہجے میں کہتے ہوۓ اس کو سر سے پیر تک دیکھا “مُجھے ناشتہ نہیں کرنا” نیلم نے منہ پھیر کر کہا۔۔۔۔مسلسل رونے سے آنکھیں سوجھ کر لال ہورہی تھیں۔۔لڑکی کو اپنا وقت یاد آگیا جب۔۔۔۔وہ بھی اسی کمرے میں اور ایسے ہی بیٹھی تھی۔۔۔۔کوئ پرسانِ حال نہ تھا، نہ جانے کیوں لڑکی کو اس پر ترس آگیا تھا۔۔ “چندا۔۔!ضد مت کرو ،یہاں پر ہم مر تو سکتے ہیں لیکن۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔فرار نہیں پا سکتے،میری بہن ناشتہ تو کرلو” نہ جانے اس کے لہجے میں کیا تھا کہ۔۔۔۔نیلم خاموشی سے کھڑی ہوگئ۔۔۔۔”گھر سے بھاگی ہوئ ہو؟”کوریڈور میں چلتے ہوۓ لڑکی نے پوچھا”نہ۔۔۔۔نہیں”مختصر جواب دیا۔۔”یہاں کیسے آئ۔۔؟”کوئ لے کر آگیا”نپے تلے جواب سے ثمرہ کو اندازہ ہوگیا کہ وہ۔۔۔۔بات کرنا نہیں چاہتی،اسی لۓ ثمرہ نے مزید کوئ بات نہیں کی۔۔ناشتے کی لمبی چوڑی ٹیبل پر اچھا خاصا ناشتہ سجا تھا۔۔نیلم نے ایک اچٹتی نظر ڈالی میم کے علاوہ ثمرہ کو ملا کر کل چھ لڑکیاں تھیں۔۔ “آجاؤ۔۔چندا۔۔الماس بائ نے مسُکراکر کہا اور دیگر لڑکیوں سے اس کا تعارف کروایا۔۔نگینہ،فوزیہ،موتیا،کاجل،ریکھا ساری تیس کے اندر اندر تھیں۔۔کھی کھی کرتی ہوئ،آنکھوں آنکھوں میں ایک دوسرے سے اشارہ بازی اور چھچھورے مزاق نیلم کے لۓ سخت الجھن اور کوفت کا باعث تھے۔۔بہ مشکل ایک سلائس کھایا۔۔ ” چندا۔۔!آج شام سے تمہاری گائیکی کی کلاس شروع ہوگی۔۔مُجھے دوبارہ نہ کہنا پڑے۔۔شام چھ بجے اچھی طرح سے تیار ہوکر ،نیچے آجانا۔۔ثمرہ اس کے لۓ اس کے سائز کے کپڑے بنواؤ اور شام کو گہنے بھی منگوانا”میم الماس ناشتہ ختم کرکے کھڑی ہوئ اور پہلے نیلم اور پھر ثمرہ کو آرڈر دیتے ہوۓ۔۔ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئیں۔۔ “کیسے آئ۔۔؟” کون لایا؟” کوئ بھگا کر یہاں بیچ گیا؟”کسی آشنا نے استمعال کرکے یہاں بیچ دیا؟”میم کے جاتے ہی چاروں طرف سے آنکھیں مارتے ہوۓ۔۔مکروہ ہنسی اور انداز کے ساتھ گندے،غلیظ سوالوں کی بوچھار ہونے لگی۔۔لہجوں میں طنز تھا،نیلم بوکھلا گئ “چُپ کرو تم لوگ،جاؤ اپنا اپنا کام کرو”ثمرہ نے سب کو ڈانٹا تو کھی کھی کرتے ہوۓ کمروں کی جانب بڑھ گئیں۔۔ ثمرہ کی حیثیت میم کا دایاں بازو جیسی تھی،گویا میم کے بعد وہ گدی ثمرہ کے حصے میں آبے والی تھی،یہی وجہ تھی کہ دوسری لڑکیاں بھی ثمرہ سے اکڑ نہیں دکھاتی تھیں۔۔ اکھڑ مزاج اور خرانٹ ثمرہ کے دل میں نہ جانے کیوں روزِِاوّل سے ہی نیلم کے لۓ نرم گوشہ تھا،شاید نیلم کی معصومیت سے اس کو نیلم سے ہمدردی ہوگئ تھی۔۔ نیلم کی گائیکی کا کلاسیں شروع ہوچکی تھی۔۔ثمرہ قدرتی طور پر نیلم کے بہت قریب آچکی تھی۔۔نیلم کو بھی اس ناپسندیدہ ماحول میں ثمرہ کا ساتھ اچھا لگا،وہ جانتی تھی کہ یہاں سے باہر نکلنا نا ممکن ہےبہتری اسی میں تھی کہ چُپ چاپ خود کو وقت اور حالات کے حوالے کردے۔۔نیلم کی کُچھ قدرتی ہی آواز میں لوچ،نرمی اور نزاکت بھی تھی۔۔یہی وجہ تھی کہ بہت جلد نیلم اچھا گانا گانے لگی تھی۔۔ نیلم صرف گاتی تھی،رقص بھی کبھی کبھار کرتی ہے،یہ ثمرہ کی مہربانی اور بہت بڑا احسان تھا کہ نیلم یہاں پر صرف گاتی تھی۔۔اور گندا کام نہیں کرتی تھی۔۔ نیلم کی ثمرہ سے ہی بنتی تھی۔۔دونوں فری وقت میں ایک دوسرے سے اپنے ماضی کی باتیں کرتے،کبھی روتے تو کبھی ہنستے،نیلم نے ثمرہ کو اپنے بارے میں سب کُچھ سچ سچ بتادیا تھا۔۔یہ بھی کہباب اُسے فاروق سے نفرت ہوگئ ہے۔۔ “نیلم۔۔!ہوسکتا ہے کہ فاروق کے ساتھ کوئ مسلہ ہوگیا ہو،اس کا بھی کوئ قُصور نہ ہو” ثمرہ کی بات پر نیلم کو غصہ آگیا۔۔ “کیسا مسلہ ثمرہ؟اُس کا موبائل آن تھا،وہ ایک رپلائ تو کرسکتا تھا،وہ بھی عام مردوں کی طرح بے وفا نکلا،سارے مرد ایک جیسے ہوتے ہیں۔۔چاچا،فیصل،فاروق اور مجھے یہاں پر پہنچانے والے جیسے،بے غیرت” اس کے لہجے میں درد بول رہے تھے۔۔ نیلم کی آواز نے الماس میم کا کاروبار دُگنا کردیا تھا۔ دُور دُور سے لوگ اس کی آواز سُننّے آتے۔۔اور خوب پیسے لٹاتے۔۔ نیلم خالی وقت میں ایک کاپی پر کُچھ لکھتی رہتی تھی۔۔ “نیلم۔۔! تم یہ کیا لکھتی رہتی ہو؟” اس روز ثمرہ کمرے میں آئ تو نیلم کاپی پر کُچھ لکھ رہی تھی۔۔ “اپنا ماضی،لفظوں کی صورت صفحے پر بکھیرتی ہوں ثمرہ۔۔۔۔کبھی کبھی جب۔۔۔۔دل و دماغ میں گزشتہ تلخ یادیں،آکر دھمال ڈالتی ہیں۔۔۔۔فماغ پھٹنے لگتا ہے تو۔۔۔۔لفظوں کا سہارا لے لیتی ہوں۔۔رات کو لوگوں کو جو نغمے سنا کر ان کے چہروں پر مسکراہٹ سجاتی ہوں،وہی گیت لکھ کر خود آنسو بہا لیتی ہوں” نیلم کے لہجے میں بے پناہ دکھ بول رہے تھے۔۔ “نیلم۔۔میری بہن۔۔!اللہ پاک تُجھے ضرور خوشیاں دے گا،اگر تُم چاہو تو میں۔۔۔۔جان پر کھیل کر تمہیں یہاں سے باہر نکال دوں گی” ثمرہ خود بھی اُداس ہوجاتی تو۔۔۔۔اُس کو راہ دکھاتی۔۔ “ہاہاہاہا۔ اب کاہے کی خوشیاں ثمرہ۔۔؟یہاں سے نکل کوئ پارسا نہیں رہتا،ان کے لۓ نہ خوشیاں ہوتی ہیں نہ آزادی۔۔۔۔مُجھے کہیں نہیں جانا،باہر کی دنیا میں بھی لٹیرے ہیں،ایک اکیلی لڑکی کے لۓ پناہ تو کہیں بھی نہیں، یہاں رہنے کو کم از کم چھت تو ہے نا” نیلم لاجواب کردیتی۔۔نیلم کو یہاں آۓ ڈیڑھ سال ہوچکے تھے۔۔ “***”
فاروق۔۔بچّے۔۔ اللہ نے جو نصیب میں لکھ دیا ہے،وہی ہمیں ملتا ہے،میں جانتی ہوں کہ تُم نیلم کو ایک پل کے لۓ نہیں بُھولے۔۔۔۔لیکن پُتر بیٹھ کر کھانے سے تو قارون کا خزانہ بھی ختم ہوجاتا ہے۔۔کب تک یوں بے کار رہو گے؟میرا کیا ہے، میں عُمر کے اُس حِصّے میں ہوں کہ کسی وقت بھی زندگی سے ناطہ ٹُوٹ سکتا ہے،میں اپنی زندگی میں تمہیں کسی قابل دیکھنا چاہتی ہوں،جو بھی رقم باقی ہے اس سے کوئ کاروبار کرلو۔۔۔۔زندگی اتنی ارزاں نہیں ہوتی پُتر کہ اس کو سوگ میں گُزار دیں۔۔۔۔نارمل زندگی کی طرف لوٹ آؤ، اللہ پاک تمہارے لۓ بہتری کے دروازے کھول سکتا ہے”بہت دنوں تک برداشت کرکے آخر ایک دن اماّں نے فاروق کو احساس دِلایا تو فاروق نے اثبات میں س ہلایا۔۔۔۔اماّں کی بات بالکل دُرست تھی۔۔۔۔
ایک روز اتفاق سے مال میں فاروق کو اس کا پرانا دوست رفیع مل گیا۔۔رفیع خوب پیسے والا اور خاصابگڑا ہوا لڑکا تھا۔۔اس کی مدد سے اور اماّں کے سمجھانے اور زور دینے پر فاروق نے اپنا بزنس اسٹارٹ کرلیا تھا۔۔نصیب سےچند ماہ میں بزنس خُوب چل نکلا۔۔
اسی دوران رفیع کی گرل فرینڈ اس چھوڑ کر کسی اور کے ساتھ شادی رچا بیٹھی اور۔۔۔۔رفیع اس کی جدائ میں نیم باؤلا ہوگیا۔۔دن رات سگریٹ پھونکتا رہتا۔۔اور گھر میں ہی پڑا رہتا۔ فاروق سمجھا سمجھا کر تھک گیا مگر۔۔۔۔رفیع پر کوئ اثر نہ ہوتا۔۔پھر رفیع نے غم غلط کرنے کا نیا راستہ نکالا۔۔اور فاروق کے ہمراہ الماس بائ کے کوٹھے پر آگیا۔۔
“پاگل ہوگۓ ہو رفیع۔۔؟یہ مُجھے کہاں لے آۓ ہو؟ “گاڑی رکی تو فاروق نے کھڑکی سے سر نکال کر آس پاس کا ماحول دیکھا اورچ جُھرجُھری لے کر قدرے غصے سے کہا۔” ابے یار۔۔گھبراتا کیوں ہے،تھوڑی دیر بیٹھ کر دیکھ،دل سے سارے بوجھ کیسے اُتر جاتے ہیں۔۔”گاڑی پارک کرکے رفیع نے فاروق کی کلائ پکڑ کر کہا
“مُجھے نہیں جانا یار۔۔تُجھے جانا ہے تو جا” فاروق ہاتھ چُھڑا کر بولا
“تیرے دل پر بھی تو بوجھ ہے نا فاروق۔۔ایک بار چل کر تو دیکھ۔۔ہم نے کون سا رات گزارنی ہے یار چل” رفیع زبردستی اندر لے آیا،ایسی جگہ زندگی میں پہلی بار آیا تھا۔۔مرے قدموں سے سیڑھیاں چڑھتے۔۔۔۔فاروق کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔۔
الماس بائ نے مسکرا کر سواگت کیا تھا۔۔”گھبرائیے نہیں حُضور۔۔یہاں آکر تو بے قراریوں کو قرار اور بے چینیوں کو چین مل جاتا ہے، تشریف رکھئیے۔۔ٹھنڈا پانی لیں اور محفل کے مزے لیجئے۔۔ایک سے ایک پری چہرہ ہے میرے پاس”خالص بازاری انداز میں خیر مقدم کیا گیا تھا،فاروق گاؤ تکیے کے سہارے قالین پر ٹک گیا۔۔ایک لڑکی نے گانا شروع کیا اور دوسری نے رقص۔۔۔۔
کیا خوب صورت سماں بندھ گیا کہ فاروق کو وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا۔۔گھڑی پر نظر پڑی تو۔۔۔۔چونک کر رفیع کو دیکھا۔۔وہ پُورے انہماک سے محفل کا لطف اُٹھا رہا تھا۔۔
فاروق جب دو گھنٹے بعد وہاں سے لوٹا تو۔۔۔۔یُوں لگا جیسے واقعی دل ہلکا ہوگیا ہو۔۔لیکن فاروق نے سوچ لیا تھا کہ آئیندہ یہاں نہیں آۓ گا۔۔ ایک ہفتےکے بعدفاروق کو آفس سے واپسی پر بس اسٹاپ پر ہو بہو نیلم جیسی لڑکی نظر آئ۔۔فاروق مُخالف سمت کی روڈ پر تھا۔۔لڑکی پر نظر پڑتے ہی فاروق اپنی سیٹ سے اچھل پڑا۔۔شام کا وقت تھا۔۔مصروف ترین روڈ پر گاڑی ریورس کرنا بھی مشکل تھا فاروق نے ۔۔۔۔بجلی کی سی تیزی سے گاڑی بھگائ تاکہ یُو ٹرن لے کر واپس آسکے۔۔۔۔سڑک پر ٹریفک کا اژدھام تھا۔۔مُڑ مُڑ کر دیکھتے ہوۓ بہ مشکل ابھی یو ٹرن تک پہنچا ہی تھا کہ۔۔۔۔اکٹھا دو تین روٹ کی بسیں آگے پیچھے آکر رُکیں۔۔۔۔کسی کمپنی کی بسیں تھیں،چڑھنے اور اتُرنے والوں کے رش میں۔۔۔۔جب منظر صاف ہوا تو۔۔۔۔۔وہ لڑکی بھی غائب ہوچکی تھی۔۔نہ جانے کون سی بس میں چڑھ گئ تھی۔۔۔۔فاروق نے غصے سے اسٹیئرنگ پر ہاتھ مارا۔۔۔۔”ٹریفک کے ہجوم میں شور مچاتی بسیں آہستہ آہستہ نظروں سے اوجھل ہو رہی تھیں “اُف”دل دکھ اور کھو دینے کے احساس سے بھر گیا۔۔۔۔من بوجھل اور ہوگیا تھا۔۔نہ جانے کس بس میں سوار ہوکر وہ لڑکی اپنی منزل کی جانب چل دی۔۔شاید۔۔شاید نیلم تھی بھی یا نہیں۔۔؟بے بسی سے آگے انسان کُچھ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں کھو بیٹھتا ہے۔۔فاروق دل پر بھاری بوجھ لۓ گاڑی کی دھیمی رفتار سے آگے بڑھ گیا۔۔
” اماّں۔۔!آج مجھے نیلم جیسی لڑکی دکھائ دی،میں نے کوشش بھی کی لیکن۔۔۔۔۔”ایک بار پھر اماّں کی گود میں سر رکھ کر دکھ بہا ڈالا۔۔جن جزبوں کو تھپک تھپک کر بڑی مُشکل سے سلانےکی کوشش کی تھی ایک بار پھر۔۔۔۔انگڑائ لے کر بیدار ہوچکے تھے۔۔بھوک پیاس اُڑ گئ تھی۔۔ بے چینیاں جب حد سے سِوا ہوگئیں۔۔تو۔۔۔۔نہ چاہتے ہوۓ بھی نہ جانے کیوں،قدم ایک بار پھر الماس بائ کے کوٹھے کی جانب چل پڑے۔۔نہ جانے کون سا جذبہ تھا؟
خوفِ رُسوائ سے اُٹھ اُٹھ کے قدم رُک جانے والی کیفیت سے گزرتے ہوۓ وہ۔۔۔۔الماس کے کوٹھے کی سیڑھیوں تک جا پہنچا تھا۔۔لمحوں اذیت ،دکھ ،ندامت اور پل صراط جیسا سفر طے کرتے ہوۓ،کس قدر بھیانک حقیقت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔۔دل و دماغ پر آہنی ضربیں لگاتی۔۔۔۔پور پور زخمی کرتی،آنکھوں میں انگارے بھرتی۔۔۔۔کیسی تلخ سچائ کا ادراک ہوا تھا۔۔۔۔
وہاں پر،اُس گندے اور گناہوں کی دلدل میں۔۔۔۔حقیقت میں جیتی جاگتی،نگاہوں کے سامنے،ہاتھوں کی دسترس میں،بات کرنے کی پوزیشن میں ہوتے ہوۓ بھی۔۔۔۔ہاں۔۔۔۔فاروق جب وہاں سے اُٹھا تو۔۔۔۔ان کہے لفظوں میں بہت کُچھ سُن کر اُٹھا۔۔۔۔اُس کی بولتی آنکھوں میں نفرت تھی،شکایت تھی۔۔۔۔بےوفائ اور بے اعتنائ کا شکوہ تھا۔۔۔۔دُکھ تھا،بےبسی اور بیچارگی تھی،
صنم۔۔!
تم نے کہا تھا یہ
مُحبّت جاوداں کرلیں
نگاہوں سے بیاں کرلیں
یہ لفظوں کی کہاں مُحتاج ہوتی ہے
نگاہوں سے بیاں ہوکر متاعِ خاص ہوتی ہے
آج بھی دمِ رُخصت
لبوں سے کُچھ نہ بولوں گی
مگر یہ پھیلتا کاجل
عیاں سب راز کردے گا
(نُزہت جبیَن ضِیاء)
سارے راز عیاں ہوچکے تھے۔۔۔۔فاروق نے بھی فیصلہ کرلیا تھا۔۔وہ ہر صُورت نیلم کو وہاں سے نکالے گا۔۔چاہے خود دیوالیہ ہوجاۓ لیکن۔۔۔۔نیلم کو اب اس ماحول میں نہیں رہنے گا۔۔
***
“کیا ہوا نیلم۔۔؟کل سے اتنی اداس کیوں ہو؟میم نے کُچھ کہا ہے کیا؟” ثمر کل سے اس کی اداسی نوٹ کر رہی تھی۔۔
“ثمرہ۔۔!مُجھ پر ایک احسان کرو گی؟” نیلم نے سر اٹھا کر ،سوال کے بدلے سوال کرڈالا۔۔اس کے لہجے میں عاجزی تھی۔۔
“نیلم۔۔کیسی باتیں کررہی ہو؟صاف صاف کہو۔۔تمہیں بہن مانا ہے،تمہارے لۓ کُچھ بھی کرسکتی ہوں” ثمرہ نے نیلم کے ہاتھ تھام کر پُوری سچّائ سے کہا
“مجھے یہاں سے نکال سکتی ہو؟” غیر یقینی سوال پر ثمرہ نے آنکھیں پھاڑ کر اُسے دیکھا۔۔
“کیا ہوا۔۔؟کُچھ بتاؤ گی نہیں؟”
“ثمرہ۔۔میری بہن۔۔مُجھ سے سوال نہ کرو۔۔بس مُجھے کسی طرح بھی یہاں سے نکال دو،آج ہی” ایسا لگتا تھا جیسے نیلم کے اندر کوئ لاوا پک رہا ہے۔۔نہ جانے اس کے اندر کیسی جنگ جاری تھی جو۔۔۔۔لفظوں میں بیان نہیں ہوسکتی تھی۔۔ثمرہ نے دُکھی نظروں سے اُس پیاری اور حرما نصیب لڑکی کو دیکھا۔۔”ٹھیک ہے نیلم۔۔!جیسا تُم چاہتی ہو،ویسا ہوجاۓ گا،اللہ پاک تمہیں سُکونِ قلب عطا فرماۓ،تمہارے دُکھوں جو سُکھ میں بدل دے آمین”ثمرہ نے اُس کو گلے سے لگاتے ہوۓ دُکھی لہجے میں کہا۔۔
الماس بائ کی گرج دار آواز سے پُورا کوٹھا لرز رہا تھا۔۔
“میں کہتی ہوں۔۔وہ بے غیرت آخر کہاں گئ۔۔؟کیسے نِکلی یہاں سے؟ ایک ہی راستہ ہے جہاں سے آنا جانا ہوتا ہے۔۔۔۔وہ بھی پُھول والوں کی نظروں کی ذد میں رہتا ہے،کیمرے لگے ہیں،وہ کیسے نکلی؟”
ساری لڑکیاں تھر تھر کانپ رہی تھیں ثمرہ کمرے میں زخمی حالت میں پڑی کراہ رہی تھی۔۔
یہ تو کسی کو بھی خبر نہیں تھی کہ نیچے بیسمینٹ میں جو خفیہ راستہ ہے،جس کا علم صرف الماس بائ کو تھا،ایک رات تجُسس کے مارے چُپکے،چُپکے ثمرہ نے بھی الماس بائط کے پیچھے جاکر وہ راستہ دیکھ لیا تھا۔۔۔۔اور رات کو اسی راستے سے نیلم کو نکالا تھا۔۔واپس آکر شیشے کے گلدان سے خود کو زخمی کرکے بے ہوشی کا ناٹک کیا۔۔۔۔جیسے اس نے نیلم کو روکنے کی کوشش کی اور نیلم اس کو زخمی کرکے بھاگی ہے۔۔۔۔
الماس بائ پاگل ہورہی تھی۔۔کوٹھے کی جان۔۔۔۔بہترین کمائ کا ذریعہ تھی وہ۔۔۔۔پانچ لاکھ کی رقم خرچ کرکے اسے کسی قابل بنایا تھا اور۔۔۔۔وہ میسنی چکمہ دے کر نکل گئ۔۔جو راستہ دس سال سے لڑکیاں نہ جان ہائیں کل کی لڑکی وہ کیسے جان گئ۔۔۔۔
*
ایک بار پھر۔۔۔۔فاروق بڑی اُمید کے ساتھ اسی راستے پر چل پڑا۔۔۔۔اپنی ساری جمع پونجی لُٹا کر۔۔۔۔بس نیلم کو حاصل کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔اس کو سب کُچھ بتا کر،ہاتھ جوڑ کر اُسے منالینے،اس کے راستے کے پتھر سیمٹ کر،اچھی اور باوقار زندگی دینے کی خواہش دل میں ایک بار پھر سیڑھیوں پر قدم رکھا۔۔۔۔آج آنے والی آواز میں نہ لوچ تھی نہ لچک۔۔۔۔لگتا تھا جیسے محفل میں وہ مزا نہیں۔۔۔۔یہ وقت تو محفل پورے جوبن پر ہوتی تھی۔۔۔۔فاروق کا دل کسی انجانے خدشے کی ذد میں تھا۔۔۔۔
آج طبلے کی دھن میں بھی مزا نہ تھا۔۔۔۔وہ اندر آیا ۔۔دھیمے سُروں میں گاتی لڑکی کو دیکھ کر مایُوسی ہوئ لیکن آج۔۔۔۔آج وہ پورے ارادے سے آیا تھا۔۔۔۔بڑی ہمتیں مجتمع کرکے آیا تھا۔۔
“الماس بائ۔۔!مجھے چندا کا گانا سنوادو،جتنی کہو گی رقم دوں گا” الماا بائ کے سامنے بیٹھ کر عاجزی سے درخواست کی۔۔الماس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔۔۔۔
“مر۔۔۔۔گئ چندا۔۔!اب وہ کبھی نہیں گاۓ گی” الماس کی بات پر۔۔۔۔فاروق کی آنکھیں حیرت انگیز طور پر پھیل گئیں۔۔۔۔
“یہ کیا۔۔۔۔کیا بکواس ہے؟کیسے مر سکتی ہے میری نیلم؟فاروق پوری قوت سے چیخا تھا۔۔۔۔اُس کی آواز سن ثمرہ بھی آگئ۔۔۔۔
” ہاں۔۔۔۔ہاں۔۔۔۔مر گئ چندا۔۔۔۔اس کوٹھے سے اس کا جنازہ نکل گیا”الماس بھی جواباً چلّائ۔۔
“میری نیلم” ثمرہ فاروق کی بات پر بُری طرح چونکی تھی۔۔
ایک لمحے میں ثمرہ جیسی لڑکی کے دماغ کی گھنٹیاں بج گئ تھیں۔۔۔۔وہ سب کُچھ سمجھ گئ تھی۔۔۔۔ثمرہ تیزی سے واپس پلٹی اور اپنے کمرے کی جانب بھاگی۔۔
فاروق کُچھ لمحے یونہی گُم سُم اور خالی اذہن بیٹھا رہا۔۔اُس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔۔۔۔پھر دل پر منؤں بوجھ لۓ لڑکھڑاتے ہوۓ بے جان قدموں سے زینے کی جانب بڑھ گیا۔۔
“دو منٹ۔۔ٹہرئیے۔۔” آواز پر پلٹ کر سر اٹھایا”آپ کا فاروق ہے۔۔؟”لڑکی کے سوال پر فاروق نے حیرانی سے اُس کو دیکھا۔ “جی۔۔۔۔مگر آپ کو کیسے پتہ؟” سوال جائز تھا۔۔
“میں ابھی کُچھ کہہ نہیں سکتی۔۔یہ ڈائری نیلم کی ہے،وہ یہاں بھول گئ۔۔آپ یہ رکھ لیں۔۔اور ہاں میں نے بھی اس میں ایک پرچی رکھی ہے۔۔وہ بھی پڑھ لیں۔۔بس اتنا کہوں گی کہ نیلم زندہ ہے” وہ اِدھر اُدھر دیکھتے ہوۓ قدرے آہستہ آواز میں اور عُجلت میں۔۔۔۔کاپی فاروق کے ہاتھ میں تھما کر بڑی تیزی اور محتاط انداز میں واپسی کے لۓ پلٹی۔۔۔۔فاروق ششدر کھڑا تھا۔۔۔۔ساتھ ہی نیلم کی زندگی کی خبر سے دل میں ایک آس، اُمید کی ہلکی سی کرن جاگی تھی۔۔۔۔
*
رات کو بند کمرے میں نیلم کی کاپی پڑھتے ہوۓ بے شمار آنسو فاروق کے تکیئے میں جذب ہوگۓ تھے۔۔
پہلے ثمرہ کی پرچی پر نظر پڑی۔۔
“فاروق بھائ۔۔!بہت عُجلت میں لِکھ رہی ہوں نیلم زندہ ہے،وہ یہاں سے بھاگ چُکی ہے۔۔ ایک مجبُور لیکن آج بھی پاکیزہ لڑکی ہے۔۔۔۔میں نے ہی اس کو لاہور کا ٹکٹ کرواکر دیا ہے،آج اس کی ٹرین ہے،آپ اُس کو روک لیں پلیز”
فاروق نے نیلم کی ڈائری کھولی۔۔۔۔جیسے جیسے فاروق پڑھ رہا تھا،نیلم کا ایک ایک لفظ فاروق کے دل پر چھریاں چلارہا تھا،دِل خُون کے آنُسو رو رہا تھا،اس نے والدین کی وفات،چاچا،چاچی کی طوطا چشمی سے لے کر۔۔۔۔اپنی زندگی کے کوٹھے میں گُزرے آخری دن تک کا مُکمل احاطہ کِیا تھا۔۔۔۔فاروق کا بھی ذِکر تھا۔۔۔۔فاروق سے مُحبّت اور پھر نفرتوں کی آخری حد تک جا پہنچی تھی۔۔۔۔صاف لکھا تھا کہ فاروق کو دیکھ کر وہ کوٹھے سے بھاگ رہی ہے۔۔۔۔فاروق کو بے وفا، کہا تھا۔۔۔۔دھوکے باز،فریبی کہا تھا۔۔۔۔
“افُ۔۔۔۔نیلم جیسی معصوم،شریف اور دُکھی لڑکی پر وقت نے کتنا ظلم کیا تھا۔۔ اُس کی روح پر تقدیر نے کیسے کیسے گھاؤ لگاۓ تھے۔۔اتنی سی عُمر میں صدیوں کا سفر کانٹوں پر طے کرکے آج بھی وہ،بے اماں اور بے آسرا تھی۔۔۔۔
” اماّں۔۔!میں۔ ۔ ۔ ۔ میں نے کہا تھا نا کہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔نیلم بہت معصوم ہے،شریف اور باحیا لڑکی ہے۔۔۔۔۔دیکھیں۔۔۔۔یہ دیکھیں۔۔۔۔اُس کا ثبوت۔۔۔۔اماّں۔۔۔۔میں اب کسی صورت اُس کو کھونا نہیں چاہتا” ایک بار پھر ساری کہانی اماّں کو سُنا کر وہ اُن کے بچّوں کی طرح رورہا تھا۔۔۔۔آج۔۔۔۔آج۔۔۔۔اماّں کی آنکھیں بھی نم تھیں۔۔
کراچی سے لاہور جانے والی شالیمار ایکسپریس کا ٹائم ڈیڑھ گھنٹے بعد تھا۔۔۔۔فاروق اُسی وقت گھر سے نکل پڑا۔۔دلِ بے تاب کی بے تابیاں حد سے سوا تھی۔۔اُمید و نا اُمیدی کے درمیان متزلزل سوچوں کے درمیان تیز رفتاری سے گاڑی دوڑاتے ہوۓ، اُس کی منزل کینٹ اسٹیشن تھا۔۔
ابھی ٹرین کی روانگی میں وقت تھا،سو لوگوں کا ہُجوم بھی قدرے کم تھا۔۔۔۔فاروق تیزتیز قدموں سے آگے بڑھا۔۔۔۔کافی خواتین حجابوں میں تھیں۔۔وہ جانتا تھا کہ نیلم بھی حجاب و نقاب میں ہوگی۔۔۔۔اُس کو ڈھونڈنا بھی آسان نہ تھا۔۔۔۔فاروق کی بے چین نگاہیں اِدھر اُدھر گردش کررہی تھیں۔۔۔۔
“اوہ۔۔!سوری” بے دھیانی میں سامنے سے آتی برقعہ پوش خاتُون سے ٹکرا گیا۔۔۔۔ندامت بھرے لہجے میں کہتے۔”اِٹس اوکے۔۔۔۔غلطی شایدخاتُون کی تھی۔۔۔۔جو نگاہیں جُھکاۓ جارہی تھیں۔۔۔۔تب ہی نگاہ اُٹھاکر دھیرے سے کہا۔۔۔۔عین اُسی لمحے فاروق نے نگاہ اُٹھائ۔۔۔۔سماعتوں سے ٹکرانے والی آواز کو وہ صدیوں کے بعد بھی پہچان سکتا تھا۔۔۔۔نظروں کے تبادلے کے ساتھ ہی۔۔۔۔دونوں کی آنکھیں حیرت اور غیر یقینی انداز میں ہھیل گئیں۔۔۔۔”ن۔۔۔۔ی۔۔۔۔ل۔۔۔۔م”
یہ آواز۔۔۔۔یہ گہری نیلی آنکھیں۔۔۔۔فاروق بُھول ہی نہیں تھا۔۔۔۔اگلے لمحے ہی نیلم سنبھل گئ تھی۔۔۔۔ اب اُس کی آنکھوں میں اجنبیت نہیں بلکہ۔۔۔۔نفرت تھی۔۔۔۔بِنا کُچھ کہے نفرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوۓ وہ۔۔۔۔تیزی سے واپس پلٹی۔۔۔۔فاروق نے بے اختیار اُس کی کلائ تھام لی۔۔۔۔
“چھوڑو میرا ہاتھ۔۔۔۔تمہاری ہِمّت کیسے ہوئ؟” نیلم نے جھٹکے سے ہاتھ چُھڑایا۔۔۔۔اُس کی آنکھوں میں جلال تھا۔۔”نیلم۔۔پلیز ایک بار۔۔۔۔صرف ایک بار میری بات سُن لو”وہ گِڑگِڑایا “فاروق۔۔!اب کہنے،سُننُے کا وقت نہیں رہا،اِس سے پہلے کہ یہاں کوئ تماشا کھڑا ہو۔۔۔۔میری نظروں سے دُور ہوجاؤ”
“نیلم۔۔میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔صرف پانچ منٹ مُجھے دے دوتمہاری غلط فہمی دُور نہ ہُوئ تو۔۔۔۔میں سُکون سے مر بھی نہیں پاؤں گا تماشا میں بھی نہیں کرنا چاہتا۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔مُجھے صرف پانچ منٹ دے دو،ورنہ میں تمہارے سامنے یہیں پر اپنی جان دے دُوں گا،پھر تمہیں میری وفا پر یقین آۓ گا” فاروق نے دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر التجا کی۔۔۔۔اور قدم آگے بڑھادئیے۔۔
گو کہ نیلم اب بھی شاکی تھی لیکن پِھر بھی نہ چاہتے ہوۓ بھی فاروق کے پیچھے چل پڑی۔۔دونوں آخری بنچ پر جا بیٹھے۔۔”جو کہنا ہے،جلدی کہو،ٹرین آنے والی ہے”نیلم نے تُرش لہجے میں کہا “فاروق۔۔!تم مُجھ کو مُجرم سمجھ رہی ہو؟ مُجھے بے وفا،جُھوٹا اور فریبی انسان کہہ رہی ہو؟ تم کو اندازہ بھی ہے کہ پِچھلےچند سالوں میں مُجھ پر کیا گُزری۔۔؟”پل پل مرا ہوں میں” فاروق۔۔۔۔مُجھے اپنی بے بسی کی کہانی مت سُناؤ،تُمہیں کیا پتہ بے بسی،بے چارگی اور مجبُوری کیا ہوتی ہے؟ قطرہ قطرہ کیسے جیتے ہیں؟پل پل موت کیسے آتی ہے؟خاردار رستوں پر سفر کیسے طے کیا جاتا ہے؟ بدنامی و رُسوائ کے گندے ماحول میں اپنے دامن کو کیسے پاک رکھا جاتا ہے،کتنے کانٹوں کا تاج پہن کر۔۔۔۔کتنی اذیتّوں کو سینے میں دبا کر، اپنے اندر طوفان اُٹھاتے شوریدہ و زہر آلُود آنسوؤں کے سیلاب پر لبوں پر میٹھی مُسکان سجا کر بند باندھنا پڑتا ہے؟ تُم۔۔۔۔تُم۔۔۔۔مُجھے اپنی مجبُوری،اپنی بے بسی کیا بتاؤ گے؟” نیلم پھٹ پڑی تھی۔۔۔۔
“نیلم۔۔۔۔!جانتا ہوں سب کُچھ۔۔۔۔بے شک تُم نے بہت کٹھن وقت گزارا ہے ،تُم نے کانٹوں پر چل کر بہت اذیت ناک سفر طے کیا۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔لیکن نیلم بے بس صرف عورت ہی نہیں ہوتی ہی نہیں ہوتی۔۔۔۔وقت اور حالات کے چکّر ویو میں صرف عورت ہی نہیں پھنستی، وقت کے ہاتھوں میں عورت ہی کھلونا نہیں بنتی۔۔۔۔حادثات اور کٹھنائیاں صرف عورت کے حِصّے میں نہیں آتے۔۔۔۔مردوں کے ساتھ بھی یہ سب کُچھ ہوسکتا ہے،تقدیر اس کے ساتھ بھی مذاق کرسکتی ہے۔۔۔۔بے بس و لاچار مرد بھی ہوسکتا ہے۔۔
” فاروق۔۔!تُم کو کون سی مجبُوری تھی؟تُم تو شادی کی خوشیوں میں مگن تھے؟”
“ہاں۔۔ہاں میں شادی کی خوشیوں میں مگن تھا لیکن۔۔۔۔تم سے رابطے میں بھی تھا۔۔۔۔شادی کے دوسرے دن ہی اچانک بابا کا ہارٹ فیل ہوگیا تھا۔۔۔۔میرے لۓ یہ بہٹ بڑا سانحہ تھا۔۔۔۔مُجھے اپنا کُچھ ہوش نہیں تھا۔۔۔۔بابا کی اچانک موت کے بعد ماں جی ہوش و حواس کھو بیٹھیں ،میں پہلے بابا کے بعد نیم پاگل ہوگیا تھا،سب کُچھ سنبھالنا لمشکل تھا۔۔۔۔اُس پر ماں کی حالت۔۔۔۔ایسی،صرف یہی نہیں بلکہ بابا کی موت کے دسویں روز ماں جی بھی مُجھے اکیلا چھوڑ کر طلی گئیں۔۔میرے لۓ تو قیامت سے پہلے قیامت تھی۔۔میں خود ہوش وحواس کھو بیٹھا اور نروس بریک ڈاؤن ہوگیا۔۔تین دن ہاسپٹل رہا۔۔۔۔بڑی مشکلوں سے یہ حقیقت سمجھ آئ کہ۔۔۔۔میرا ہنستا بستا گھر اُجڑ گیا۔۔۔۔میرں ماں میرے ساتھ شہر آنے والی تھیں۔۔۔۔تُم سے ملنے۔۔۔۔میری شادی کی بات کرنے لیکن۔۔۔۔ساری خوشیاں۔۔۔۔مٹی میں مل گئیں۔۔۔۔سارے خواب چکنا چُور ہوگۓ۔۔۔۔ماں کی تدفین کے دوسرے دن جچ ذرا ہوش آیا میں نے موبائل آن کیا تو۔۔۔۔تمہارا موبائل مسلسل آف تھا۔۔۔۔موبائل کے علاوہ رابطے کا کوئ ذریعہ بھی نہیں تھا۔۔۔۔میں فوری آنہیں سکتا تھا۔۔گھر،زمین سب کُچھ اب میری ذمے داری تھی۔۔عُجلت میں سب کُچھ سمیٹ کر۔۔۔۔کُچھ چیزوں کی ذمےداری ماموں کو دے کر کراچی واپس آیا۔۔۔۔گزشتہ چار سالوں سے پاگلوں کی طرح تُم کوبس اسٹاپس پر،ہاسپٹلز میں،شاپنگ مالز میں ہر ہر جگہ تلاش کِیا۔۔۔۔پھر تم ملیں تو۔۔۔۔الماس بائ کے کوٹھے پر۔۔۔۔تمہیں اُس گندی جگہ دیکھ کر۔۔۔۔میرے دِل پر کیا گُزری میں۔۔۔۔لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا۔۔۔۔میرےطلۓ سب سے بڑی اذیت یہ تھی کہ۔۔۔۔میں نے اسی وقت تُمہاری آنکھوں میں اپنے لۓ نفرت دیکھ لی تھی۔۔۔۔لیکن میں۔۔۔۔نے ٹھان لیا تھا کہ۔۔۔۔کسی بھی طرح تُم کو سب کُچھ بتادُوں گا۔۔۔۔میں نے پکّا ارادہ کرلیا تھا کہ میں ہر حال میں تُم کو اُس گندگی سے نکالوں گا۔۔۔۔چاہے مُجھے اپنی ساری جائیداد ،گھر،کاروبار کیوں نہ داؤ پر لگانا پڑے۔۔۔۔لیکن جب میں دوبارہ وہاں گیا تو۔۔۔۔ تُم۔۔۔۔تُم وہاں سے نکل آئیں۔۔۔۔نیلم۔۔۔۔مُجھے بتاؤ کہ کیا تمام حالات میں میری غلطی کہاں ہے۔۔؟”
فاروق مسلسل بولے جارہا تھا۔۔۔۔شِدّتِ جذبات سے اُس کی آواز بھرّا گئ تھی۔۔۔۔اور۔۔۔۔نیلم سر جُھکاۓ سب کُچھ سُن رہی تھی۔۔اُس کی چہرے کا رنگ بدل چکا تھا۔۔۔۔وہ توکُچھ اور ہی سمجھ بیٹھی تھی۔۔اُس کے وہم و گُمان میں بھی نہ تھا کہ۔۔۔۔فاروق کے ساتھ یکے بعد دیگرے اتنے تکلیف دے حادثات ہوچکے ہیں۔۔۔۔
“بولو نیلم۔۔!چُپ کُیوں ہو؟ کیا اب بھی تمہیں میری مُحبّت پر،میرے خلوص پر،اور میری باتوں پر کوئ شک ہے؟کیا تُم کو سب کُچھ جان لینے کے بعد بھی میں قصور وار لگتا ہوں؟میں تو آج بھی تمہارا ساتھ چاہتا ہوں۔۔۔۔تُمہیں صدقِ دل سے اپنانا چاہتا ہوں۔۔۔۔تمہاری خاموشی کو کیا سمجھوں۔۔؟”
فاروق کے لہجے میں بے تابی تھی۔۔۔۔نیلم۔۔۔۔سوچ رہی تھی کہ وہ۔۔۔۔کوٹھے سے واپس آنے والی لڑکی ہے۔۔۔۔کیا فاروق اس کو صحیح مقام دے پاۓ گا۔۔؟”
نیلم کا دل ڈول رہا تھا وہ متذزب تھی۔۔۔۔بدستور چُپ تھی۔۔
“ٹھیک ہے نیلم۔۔!تُمہاری چُپ سے مُجھے اپنے سوال کا جواب مل گیا ہے۔۔کہ تمہارے دل میں اب میرے لۓ کوئ گنجائش نہیں۔۔۔۔تُم اپنے حال میں خوش رہو۔۔۔۔اور میں اپنے ماضی کی یادوں میں گُم ہوکر زندگی گزار لوں گا۔۔
اللہ حافظ” فاروق اُٹھ کر کھڑا ہوا اور مڑ کر قدم بڑھایا ہی تھا کہ۔۔۔۔نیلم نے تڑپ کر روتے ہوۓ اس کی کلائ تھام لی۔۔”فاروق۔۔کس منہ سے تُمہاری زندگی میں آؤں گی؟میں۔۔۔۔ایک کوٹھے سے واپس آئ ہوں اور تُم ایک عِزّت دار آدمی ہو۔۔۔۔ہمارا معاشرہ کبھی بھی اس بات کی اجازت نہیں دے گا”نیلم کے لہجے میں دُکھ بول رہے تھے۔
“کس معاشرے کی بات کررہی ہو نیلم۔۔؟یہی لوگ،یہی معاشرہ جس نے تمہیں ایک نیک ،شریف،پاکباز اور معصوم لڑکی کو اپنے گھر سے بے دخل کیا۔۔۔۔روپئے کی خاطر سگے رشتوں نے تمہارا سودا ایک آوارہ اور بد چلن انسان سے کیا۔۔۔۔،اسی معاشرے کے ایک غیرت اور گھٹیا انسان نے تمہیں بازار کی زینت بنادیا۔۔۔۔معاشرے میں اگر بگاڑنے والے ہیں تو۔۔۔ بنانے والے بھی ہیں۔۔۔۔عِزّتیں داؤ پر لگانے والے ہیں تو۔۔۔ عِزّتیں بحال کرنے والے بھی ہیں۔۔۔۔ نیلم میں بھی اسی معاشرے کا ایک فرد ہوں۔۔۔۔میں تُمہیں اپنا نام دینا چاہتا ہوں” فاروق اُس کے پاس آبیٹھا اور اُس ہاتھ تھام کر دل کی تمام تر سچائیوں سے بولا
“فاروق۔۔! مُجھے مُعاف کردو تُم انسان نہیں فرشتہ ہو میں نے تُم کو غلط سمجھا” نیلم آس پاس کی پروا کئے بغیر فاروق کی گود میں سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی۔۔اُسی لمحے ٹرین نے وِصل بجائ اور۔۔۔۔مسافروں میں پُھرتی آگئ۔۔بھاگ دوڑ اور شور بڑھ گیا۔۔۔۔
ٹرین مسافروں کو لے کر اپنی منزل کی جانب روانہ ہوئی ۔
ادھر فاروق اور نیلم ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کے آگے بڑھے۔۔۔۔ان دونوں کی منزل فاروق کا گھر تھا،جہاں اماّں بے چینی سے دونوں کی مُنتظر تھیں۔۔غلط فہمی اور دُکھ کے بادل چھٹ گۓ تھے۔۔۔۔گاڑی میں فاروق کے پہلُو میں بیٹھ کر نیلم کی ل گزشتہ سالوں کی ساری تھکن،ساری اذییتیں ،سارے دُکھ مُٹھی میں سے پھلستی ریت کی مانند نکلتے چلے گۓ۔۔۔۔ایک بار پھر بے اختیار آنکھیں بھر آئیں۔۔فاروق نے گہری نظروں سے دیکھ کر اپنا بازُو پھیلایا۔۔۔۔نیلم نے کاندھے پر سر رکھ کر آنکھیں مُوند لیں۔۔۔۔ڈھیروں سکون اور تحفظ کا احساس نیلم کے رگ و پے میں اُتر گیا۔
