قصّے مسافرت کے
نشئی ،جھولتے گھنگریالے بال اور سُرخ آنکھیں
ہائیں! یہ تو عورتیں نکلیں
کاؤنٹر پر موجود خاتون نے
نشئی سے کہا :سامنے آفس ہےچلے جاؤ۔ نشئی بےحد حیران تھا پوچھا میم ! مجھے فٹنس سنٹر جانا تھا۔
جب اُس حسینہ نے فٹنس سنٹر کا راستہ دکھا دیا تو نشئی نے معذرت کے ساتھ پوچھا: مادام ! آپ مجھے سامنے آفس کیوں بھیج رہی تھیں-
مادام نے نشئی کے جھولتے گھونگھریالے بالوں اور سوئی سوئی سُرخ آنکھوں کو دیکھااور یوں گویا ہوئیں ۔ دراصل سامنے والے آفس میں ڈرگ کے عادی مریضوں کا انٹرویو لے کر اُنھیں اسپتال داخل کرنے کے لئے عملہ موجود تھا –
گھونگھریالے بالوں والوں نشئی کے ہوش ٹھکانے آگئے۔اب آپ سوچ سوچ کر ہلکان نا ہوں کہ اس لکھنے والی نے نشئی کا نام تو بتایا نہیں!
ارے بابا! بتاتی ہوں، بتاتی ہوں ۔
ہوا یوں کہ باسٹن سے واپسی پر بہن اور بھانجا پھر ہمارے نیویارک لوٹ آنے کا پُختہ ارادہ بنائے بیٹھے تھے۔(اب بھی مؤرخہ ستمبر2024 جب کے میرے دیس لوٹ آنے پر بھی وہ خفا تھی کہ تم دونوں ماں بیٹا غچہ دے گئے-)کہا فرزانہ جی! ساری چھٹیاں تو آپ لوگوں کے لئے ذیشان لی تھیں ، ہم ملے اکٹھا وقت گُزارا اب پھر آتے تو مجھے پتہ ہے رات دیر سے سوتے صبح دیر سے روانہ ہوتے ڈی سی پہنچتے پہنچتے شام ہوجانا تھی اور وہاں پیاری کزن میمونہ ہمارا انتظار کر رہی تھیں ۔ خیرالمختصر ذیشان نے سوچا باآواز بُلند: امّاں ! اچھا ہے نا سفر کو کھینچیں اس وقت میں فریش ہوں نیوجرسی کے اس اینڈ پر کسی ہوٹل میں کمرہ بُک کراتا ہوں رات وہیں گُزار کر صبح ناشتہ کرکے ڈی سی بروقت پہنچتے ہیں میمونہ خالہ لنچ ضرور کھلائیں گی پھر سب سے مل کر رچمنڈ پہنچ جائیں گے زینب وبچے بھی خوش ہوجائیں گے۔ میں نے بھی اس شیڈول کو اوکے کردیا تو پھر آرام سے جائے مقررہ پر پہنچ کر چین کی بانسری بجا کر ماں بیٹا سوگئے۔
صبح ڈاکٹر ذیشان خاکوانی نے مجھے جاگتے پایا تو کہا اَمّاں میں جم جاتا ہوں ۔ آپ آرام سے تیار ہوجائیں پھر ناشتہ کرکے نکلتے ہیں-
ذیشان صاحب جو عرصۂ سے بال کٹوانا بھولے بیٹھے تھے اور کاؤنٹر پر موجود خاتون کے مخمور آنکھوں والے نشئی۰۰۰ٹریٹمنٹ دینے کے کسی ادارے میں داخل کروانے پر تیار ہو گئیں۔ توپھر جب اگلے دن گھر پہنچے تو صبح صبح بال کٹوا کر آگیا ۔کہا بچہ اب روپ نکالا!
یہی 2024جنوری کامہینہ تھا مالم جبہ سے واپسی پر کوئی بار بار مجھے فون کررہاتھا نامعلوم نمبرز سے فون میں اُٹھاتی نہیں پر پانچویں بار اٗٹھا لیا دوسری طرف سے بےحد پیاری سلجھی ہوئی نسوانی آواز تھی قیصرہ میں آپ کے کالج کی سائیکالوجی کی لیکچرر نسرین بات کر رہی ہوں میں ششدرسی تھی ارے۔۔۔ پینتالیس چھالیس سال پیچھے جاتے سمے میں ٹھٹھک کیوں رہی ہوں-
میم بتائے جارہی تھیں کہ جب تمہیں پہلی بارکالج کے لان سے برامدے کی طرف آتے دیکھا اور تم اپنی دوستوں کے ساتھ ہنس ہنس کر دُہری ہو رہی تھی ۔
میں سوچتی رہ یا اللہ ! کیا بات اسے اتنا ہنسا رہی ہے پھر جب تمہیں دیکھا , تم تو ایسی ہنسوڑ نکلیں اور پھر ہماری دُعا سلام ہوگئی دراصل میں میم کی سٹوڈنٹ نہ تھی بلکہ چونکہ لٹریچر اور ڈرامیٹک سوسائٹی کی جنرل سیکریٹری تھی تو کالج کی چُنیدہ اور سرگرم لیکچرز سے واسطہ پڑتا تھا ۔وہ تو جب بی اے کرنے کے اگلے سال فرزانہ(چھوٹی بہن) فرسٹ ایئر میں تو میم نسرین کی لائق فائق شاگرد ہ بنی اور میم نسرین کی وہ معتقد کہ سائیکالوجی پڑھا کر میم نے میری راہیں منتخب کروا دیں تھیں اور مجھے بتا رہی تھیں کہ تم اتنی شوخ اور وہ اتنی سنجیدہ میں بہت سوچتی تھی ۔ میں نے اُنھیں بتایا کہ میرے میکہ والوں کو سنجیدگی سے لگاؤ ہے مجھے ذرا کم ہے۔
