سفر گل زمیں کے
قسط نمبر08
قصّہ قُم سُم زُلیخا کا
فریال کہنے لگیں : پہلی فون کی screen تو پہلے سے ٹوٹی ہوئی تھی رمضان میں بندہ کچن میں ہوتا ہے تو وڈیو کالز وغیرہ بھی کام کی ساتھ ساتھ چلتی ہیں پر دوسری فون تقریباً ٹھیک تھی مجاہد کہنے لگا : بی بی ! آپ کی یہ فون بہت زبردست ہے ابھی تک چل رہی ہے-
فریال: یقین کریں مجاہد کی نظرِ بد سے اسی دن فون پھر ہاتھ سے چھوٹی اورٹوٹ گئی – یوں ایک فون سے آواز سنتی ہوں دوسری پر جواب دیتی ہوں پتہ نہیں کیا سبب ہے فون مجھ سے بہت ٹوٹٹے ہیں- میرے ہاتھ سے گرتے بہت ہیں-
کہا : آپ کے فونز پر افسانہ لکھنے کو جی چاہتا ہے-
فریال کی باتیں دلچسپ اور کراری ہوتی ہیں-پر یہ جو مُجاہد صاحب ہیں انھیں بھی مجاہد ڈاند ہی سمجھیئے گوکہ اُن کے دال کے دلدادہ مالک نے ان کا کافی مُنڈھ کَڈھا (نکالا)ہواہے –
پچھلے سال بھی ان پر ایک پوسٹ میں لکھا تھا جب مالکن بےحساب کتابوں کو ترتیب دینے کےلئے بڑے ذوق وشوق سے لکڑی کے ریک بنوا رہی تھیں تو کاریگر کے سامنے ایسا پوز کرتے جیسے یہی بنوا کر دے رہے ہوں ، ڈیزائنگ بھی یہی کر رہے ہوں- بڑھ بڑھ کر آگے سے بولتے ، صبح کی چائے کے لئے بیگم کی بروقت تاکید کے باوجود مجاہد صرف نظر فرماتے اور مکمل تاخیر سے چائے میّسر کرتے یہ سب کریڈٹ ہتھ رکھے ہاتھوں کو جاتا ہے –
میری امّاں مرحومہ کہا کرتی تھیں ، بی بی دا ہَاں سڑا کیں کوں پتہ کانی ، باندی دا متھا بھَنّا ہَر کَیں کُوں ڈیسیندھا ہِے –
مطلب مالکن کو جتنا تپاتا ہے وہ کوئی نہیں جانتا ، ملازمہ کے ماتھے کا زخم سب دیکھتے ہیں-
لیکن میں کیا کہوں جب بہن کو عید کی فیملی پکچرز اور وڈیوز بھیجیں تو کہنے لگی اچھا اب کی بار اپنے گھر کی ہیلپرز لڑکیوں کی تصاویر بھیجیں ( ہر سالگرہ یا فنکشن پر تاکید کرتی ہے کہ لڑکیوں کی تصاوئر بھیجا کرو)ساتھ یہ بھی کہا کہ گلبدن کے علاوہ سب کے نام بھولائے بیٹھی ہوں-
تمہاری بہو بیٹیوں اور بچوں کے ساتھ ان لڑکیوں نے بھی پیارے لباس زیب تن کئے ہوئے تھے -ذرا ان کے نام بتانا گلبدن کی بہن کا کیا نام ہے ؟اور دوسری ۰۰۰
کہا: بہہن تمہاری کمیونٹی مصروفیت سمجھ میں آتی ہے-
میں بتاؤں تمہیں ۰۰۰۰کَل ملیحہ نے جب بہت کہا تو رازی و حنا فیملی عید کے دوسرے دن گیگا مال کےلئے روانہ ہوئی میں بھی ساتھ تھی کہ حنا نے کہا چلیں ایسے چکر لگا آتے ہیں-
فرزانہ (میری بہن) اب تمہیں کیا بتاؤں، قم سُم زُلیخا کو دیکھ کر میڈا ہاں سَڑ کے کولا تھی گے(قم سُم زُلیخا کو دیکھ کر دل جل کر کوئلہ ہوگیا)
گُزرے کَل عید کے دن کتنی پیاری لگ رہی علی بابا چالیس چور والی مرجینا کی سی خوب گھیرے کی شلوار میں اور فراک میں ۰۰۰۰ اور آج عید کے دوسرے دن لڑکی کُچھ کی کُچھ لگ رہی تھی –
فرزانہ صرف تمہیں آج کی تصاویر سب سے پہلے شیئر کر رہی ہوں عید کے پہلے دن اور دوسرے دن کی تصاویر کا فرق دیکھو-
فرزانہ میری پیاری! وہ جو میرے ساتھ ٹھہری ہے وہ تو رضُو ڈاند ہے – ابہت اچھی اتنی پیاری ، سادہ طبیعت کی ہم اوئے کا توئے نہیں کہ سکتے کہ یہ پریشان ہوجاتی ہے-
اکثر میری طرح سرائیکی اُردو ملا کر بولتی ہے لیکن اسے مذاق میں ٹوک دو وہ ہوروں کی ہور ہوجاتی ہے – عمر ، نادیہ مہرالنساء اور میں پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں کہ طبع نازُک پر کوئی بات گراں نہ گُزرے-
اُس دن افطاری کا دسترخوان لگاتے لگاتے کہنے لگی کہ کھجور کے گکنوں(گٹھلی کو ہم سرائیکی گکڑ کہتے ہیں ویسے بہت چترے چنڈال بندے کو بھی “گکڑ “کہ دیتے ہیں)- گکنوں پر ہم سب ہنس دیئے محترمہ ناراض ۰۰۰۰ہوگئیں-
لیکن اس لڑکی زُلیخا کی ہڈی پیدائشی مری ہوئی لگتی ہے – ٹانگیں گھوڑی کُکڑ سے بھی پتلی ہیں، دیوی جی کو حنا چست پاجامے پہناتی ہے تو جب اکدم سامنے آئے تو لگتا ہے کونج نے وردی پہنی ہے- میری تو ایک بار ہنسی چھوٹ جاتی ہے-
کہتی ہوں : حنا ! ایں بِسنتی تے کُجھ وی نی اُٹھدا ( اس قسمت کی ماری پر کُچھ بھی نہیں سجتا)
میں حنا کو کہتی ہوں- گلبدن پہلے دن سے جامہ زیب ہے اور پہننے کا سلیقہ رکھتی ہے – یہ قُم سُم زُلیخا (دراصل اسکا نام کلثوم ہے ہانیہ اسے قُم سُم کہتی ہے ہانیہ اس کی اور یہ ہانیہ کی فیورٹ ہے ، کھلنڈری جو بہت ہے ، زُلیخا میں نے نام دیا –
ہنس بھی رہی ہو تو صورت پر اُداسی چھائی رہتی ہے گویا اس کا یوسف اس سے بچھڑ گیا ہو لہذا زُلیخا نام پورے گھر میں پڑگیا – )یہ اب قُم سُم زُلیخا بقول حنا دوبڑے بکس دونوں کے مختلف رنگوں کے کپڑوں سے بھرے ہیں یہ مخصوص کپڑوں کے علاوہ دوسرے پہنتی نہیں ہے – جب دونوں بہنیں فارغ ہوتی ہیں تو روز نہاتی ہیں- گلبدن ایسے جوبن والی ہے لگتا ہے اُس کی بوتیک ہو اور یہ اُس کے آگے پانی بھرتی نظر آتی ہے اب کُٹانڑی کیسے کہوں-
یہ بھی فرزانہ کو بتایا کہ سونے پہ سُہاگہ محترمہ سر پر چوڑے پَٹے کا ہیئر بینڈ بھی لیتی ہے مسلسل بلا تفریق رات دن –
ایک تو میرے سامنے حنا جو اس کی بی بی ہے اس کے سر سے نکال پھینکا کہ اسے تو معاف کردو ، اگلے دن اسنے ایک اور لگا لیا –
ظاہر ہے بہن کوتو چونکہ بہت صبح نور پِیر کا وقت تھا ایک خاص نیم غنودگی میں کھوئی کھوئی آواز کے ساتھ اسے تسلسل سے بتایا بہن اب سمجھ گئی ایک رضُو ڈاند ، دوسری گلبدن تیسری قُم سُم زُلیخا جب گیگا مال تو ،تُم تڑاخ (مکمل بند)بند تھا –
صرف فوڈ کورٹ اور فن لینڈ کھُلے تھے- سب فوڈ خریدتے رہے کھاتے رہے سب نے کھایا پیا میں زُلیخا پر نظریں جمائے بیٹھی تھی کہ اللہ سائیں توآکوں ناراضگی نہ آوے شالا !اے بھیڑی زُلیخا تاں اُکی اللہ دا مال ہے-
میں ان کی تصویریں بناتی رہی ۰۰۰رازی و عبدالمالک بھی کُچھ دور میز سجائے بیٹھے تھے پر میری نظریں ان تینوں میں گڑی تھیں –
اللہ سائیں نے بھی ایک دو ہڈیاں جوڑ کر زُلیخا بنا دی- وہ بے چاری ہانیہ کو اُٹھا نہیں سکتی پر ضد کہ میں اُٹھاؤں گی ، سب کہتے رہے اچھی بھلی کُڑی بنی پھرتی ہانیہ خود اُنگلی پکڑ کر چلے ۰۰۰۰ نہ ہانیہ اُس کی جان چھوڑتی اور نہ وہ ہانیہ کی ۰۰۰۰ گلبدن کی تو ویسے بھی عادت ہے کہ باس بنتی ہے- اور قُم سُم زُلیخا بولتی بے تکان ہے اُس وقت اپنے کبوتر جیسے بائیں بازو سے چوڑیوں کا پورا دستہ اُتا ر کر مجھے دیا کہ میرے دائیں بازو میں پہنا دو کہ میں ہانیہ کو بائیں ڈھاک پر بٹھاؤں گی تو اُسے چبھے گیں- ایک سیکنڈ میں پورا چوڑیوں کادستہ دائیں ہاتھ میں اکٹھا چڑھا دیا-
وادئِ کُمراٹ خوابوں کی جنت اُنیس حوریں بیسویں ساتھی
ویسے تو چاندی جیسے بالوں والیوں کا یہ گروپ خاصا طویل ہے اور ایک دوسرے سے جُڑا ہے بہت سے ممبران اپنی اپنی ذاتی وجوہات کی بنا پر شرکت نہ کرسکے اُن کی کمی کو بہت محسوس کیاگیا
کاش ! ہم سب کے سب اکٹھے اس سپنوں کی وادی کا لُطف اُٹھاتے
پھر تو کُمراٹ وادی کے سبزہ زاروں پر پریوں کا جمگٹھا نہیں برات اُترتی وہ سماں جشن کا سا ہوتا
یہ خوبصورت چیڑ و صنوبر کے درختوں سے گھِری وادی میں بہتے لہراتے سفید شفاف پانیوں میں خوب صورت سبز رنگ یوں گھُلا ہے جیسے کسی نفیس ذوق
کے رنگساز نے ہرا دھانی رنگ اس شفاف جھاگ اُڑاتے پانی میں نہایت نفاست سے گھول دیا ہو –
یہ شفاف سفید و ہری لہروں پر مچلتا پانی ایک الگ نظارا ہے-
یہ سب اُنیس حوریں خود کو فطرت کے بہت قریب محسوس کر رہی تھی-
اس دلربا موسم نے سب کے اندر نرمُ مُلائم مستی بھر دی –
مشہورتو تین بنجمن سسٹرتھیں یہاں کُمراٹ ویلی کی سبز پوش وادی میں تین جوڑیاں تو صرف سسٹر ز کی تھیں-
تینوں جوڑیوں نے اپنا اپنا رنگ جمایا تھا-
جب بون فائر کے ارد گرد دائرے میں بیٹھی حورں کے ٹولہ انتاکشری میں اپنا جادو جگا رہا تھا -اور سب کے سب نہایت محظوظ ہو رہے تھے
عامرہ الطاف اور عامرہ شہاب کی برجستہ ماہیوں، ٹپوں اور گانوں کی جو میموری ہے وہ بے مثال اور عامرہ شہاب تو ہر موقع کی مناسبت سے ٹِکا کے گانا گاتی ہیں۔ بندہ ششدر رہ جاتا ہے
فاطمہ اور خدیجہ کا ذوق بھی بون فائر کے مزے لیتے ہوئے کُھلا لاجواب اور واپسی پر دونوں بہنوں کا انرجی لیول آسمان کو چھو رہا تھا جیسے آج میں اُوپر آسماں نیچے-
حنافاطمہ اور رضا فاطمہ تو مَستم مَست Fantastic جوڑی حس مزاح سے لبریز بظاہر خاموش مگر بہت پُرکشش گفتگو کرنے کا انداز ایسا کہ یہ بہنیں محفل کا خوب صورت انگ تھیں
منزہ اور وجیہہ تو محفل میں رچ بس گئیں اور دونوں ہیں بھی ادب و حسن کا حسیں امتزاج اور بہت دلنواز بہنیں و دلکش و پُرکشش
اس دُلربا حسینہ کُمراٹ ویلی نے تو اپنے سحر میں سب کو جکڑ لیا ہے ایسا اس کے جادو کا ٹرانس ہے کہ کوئی اس سے نکلنا بھی نہیں چاہتا آج بھی یہی بات ہو رہی تھی کہ روح میں رچی وادی اور یہ شہزادیاں گویا ایک دوسرے کے لئے بنی ہیں-
رنگ شربتوں کا یہ میٹھے گھاٹ کا پانی۰۰۰۰۰
میراقلم تو خود بہت حیران اور سحر زدہ ہے قدرت کا تحفہ وادی کا حسن زیادہ ہے یا ان خوب صورت شخصیات کا فیصلہ کرنا مشکل ہے-
کوئی نہیں چاہتا تھا کہ یہ گیتوں بھرا سفر کبھی ختم ہو
