سفر گل زمیں کے
قسط نمبر 07
کندہ شاہ کی پڑ پوتی کی داستانیں
روداد بارے کتاب
قصّہ دو شبدوں کا/ نیلم مروارید اور یاقوت جیسے لوگ
کا سواگت اپنے گھر میں کیسے ہُوا!
حنا میری بڑی بہوبڑے نوٹوں کو لفافے میں ڈالے میری طرف بڑھا دیئے
بوئی :پانچ کتابیں ، مجھے دے دیں لفافہ کھولا پیسے گنے ،ارے یہ تو پانچ کتابوں سے زیادہ ہیں-
بولیں : یہ ٹوکن آف لَو ہے –
کہا: بیٹی! یہ زیادتی ہے – اب آپ اتنی کتابوں کا کیا کرو گی بولی کہ میں اپنی ِجم فیلوز کو دوں گی – تاکہ کتاب پڑھنے کی عادت پڑے-
جذبہ تو شاندار ہے پر یہ زیادتی ہے اتنا خرچہ میری اپنی فیملی کو پڑجائے-
پر وہ مُصِر رہی ،ناچار رکھ لئے-اب کندہ شاہ کی پڑ پوتی ، کندہ شاہ کی جھڑ پوتی سے کیا کہتی!
نادیہ منجھلی نے بہت شاندار پوسٹ میری کتاب کے حوالے سے شیئر کی
اب ورجینیاسے بڑی ڈاکٹر صاحبہ زینب جلال سب سے چھوٹی بہو رانی نے واٹس ایپ میسیج لکھ بھیجا-
Congratulations Aunty on the publishing of your second book
What a proud moment for all of us.
I hope you keep on writing all the beautiful stories and hope your coming generations get to follow you.
شکریہ ادا کرکے لکھ بھیجا کہ خوب صورت ادائیگی کا شُکریہ!♥️❤️
بفضلِ تعالٰی آپ لوگوں کی کھچائی میری زندگی تک تو جاری رہے گی ۰۰۰۰ بعد میں رَبّ کی مرضی وہ کندہ شاہ سی جُڑی اگلی نسل سے کیا کرواتا ہے-
کاش خیر سے قلم بھی تھما دے!
مہرالنساء نے تین کتابیں اپنے کالج کے لئے خرید لیں-
اچھی سی پوسٹ بھی لکھی، جس میں مجھے اتنا سراہا کہ میں پانی پت بھول گئی ، پر وہ بم شیل سے کھیلنے والی بھولنے دے گی ۰۰۰۰ نا میرے اچھے قارئین
بھائی ڈاکٹر امتیاز احمد کادس کتابوں کا آرڈر ہے رِمشہ نے دو کتابوں آرڈر کردیا-ا
بہنوں ، کزنز ، سیکنڈ کزنز احباب اور ملتان نے مبشرالرحمان کا محبت بھرا اور عزت دار میسج
اور
آپ کو بتاؤں سب سے پہلے تو کتاب کو
عزت و قدر بخشنے والا میرا پیارا بیٹا طلال آحمد
ہے ڈیرہ اسماعیل خان سے اس نے جب سنا کتاب کی جھلک امر شاہد صاحب نے دکھائی تو اُنھوں نے کتاب کو سر آنکھوں پر رکھا ! طلال بیٹے کے لئے بہت دُعائیں-بہت دُعائیں بہت قدر اور نیک نیت و صاف دل میرا بیٹا سدا شاد آباد رہے!!!
اب جبکہ میں دوبارہ اپنے پُرانے ڈگر و سفر پر رواں دواں ہوں اور سوچوں میں غلطاں ہوں کہ کُچھ لوگوں کا کہا ہوا ایک ایک جملہ کوسَر آنکھوں پر رکھتی ہوں ضرور مانتی ہوں ، وہیں کندہ شاہ کی پڑپوتی ہونے سے ذرا کَنّی کترا لی کی کہ آپ کو پتہ ہے شاہوں کے کتنے لوگ خواہ مخواہ دُشمن ہوجاتے ہیں -میں تو گھر کی عداوتیں نہیں سنبھال پاتی ۰۰۰ کیوں اپنے باوقار پڑدادا کو ان کی خاطر ہلکا لُوں ، نام نہ لوں پھر بھی دل میں تو بستے ہیں خون میں تو رواں دواں ہیں۰۰۰
خیر دُختر صاحبہ ہمدردی جتاتی بولی اَمّاں : آج دوبارہ آپ کے لئے کسٹرڈ بنا لوں -کل آپ کو پسند آیا تھا –
(گر سچ کہوں تو واقعی بہت اچھی کھچڑی جو واقعی بڑی وی آئی پی کھچڑی تھی مزہ آگیا اور دراصل جو چیز انجوائے کر کر کے کھائی وہ کسٹرڈ تھی میں بےخبر تھی کہ یہ اتنی اچھی بنائے گی میں پورا باؤل چٹ کرگئی-)
محترمہ اب بازو ہِلا کر : ماں سپنوں میں کھُونے کو نہیں ، کسٹرڈ بنا دوں اور کھچڑی بھی۰۰۰۰
کہا: بڑی بہن دھیرج ! مجھے سوچنے دو ۰۰۰ ہاں یوں کرو روز روز رائس نہیں کھاتی دال روٹی لے لُوں اور ہاں کسٹرڈ بنا دو تو نوازش ۰۰۰
زور سے گَلّے لگایا اور ساتھ یہ بھی کہتی ہوئی چلی گئی کہ آپ نے تو لگانا نہیں میں تو لگا لُوں۰۰۰
دراصل ایک تو ڈاکٹر صاحب نے نرم کھانا کھانے کو بولا دوسرا میں سوچ رہی تھی بیٹے جتنی بھی محبت و اُلفت دکھائیں ۰۰۰ مائیں جب تھوڑا سا بھی بیمار ہوں بیٹے جتنی بھی محبت جتلائیں ماں پر کُچھ بن جائےتو پہلے بیٹی کوبُلائیں گی-
پھر میں سوچنے لگی اور بیٹی بھی وہی تو جو دوہفتہ پہلے تک یہ بیانیہ بنانے کی بڑی کوشش کر رہی تھی کہ ماں جی بیٹیاں باپ کی ہوتی ہیں اور بیٹے ماں کے ۰۰۰۰
کہاتھا اب نئے مکالمے بنانے کی کوشش مت کرو میرے بیٹے بفضلِ تعالٰی محبت و ادب کے پُتلے اور تُم ۰۰۰۰
بیٹی : جی جی آگے بولیئے
رضوانہ جس کے رونالڈو کو (میچ کے دوران ا سے پہچان لیا )اس بات سے میں کل تک بہت مُتاثر تھی آج پھر ٹییپا گھی کا قطرہ تک “ٹیپا گھی کا”رضوانہ بچڑا ہے پوری ۰۰۰
