سفر گل زمیں کے
قسط نمبر 05
گُلابی آنکھیں جو تیری دیکھیں سنبھلنامشکل ۰۰۰ہوگیا
گو ہاتھ میں جُنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ابھی ساغر ومینا میرے آگے
جب صبح ٹھیک چھ بجے “ سلور لائنز” کی خواتین درخت چوک پر موجود تھیں اور شہر یار Signature Adventure Trips Organiser)اپنی ہائیس سمیت آ وارد ہُوئے اور اپنی اپنی گاڑیوں سے رنگین آنچل زبردست میچنگ والے ملبوسات سنبھال کر سب خواتین جس بے تابی سے سیٹیں سنبھال کربیٹھیں گویا ایک دوسرے ملنے کی تمنا اب بےقابو تھی اپنے اندر نئی تازگی اور انرجی بھرنے کی تمنا عروج پر تھی-
جپ سب سواریاں مکمل ہوئیں تو خوشگوارموسم اور صبح دم سوئے ہوئے حسین و جمیل اسلام آباد کو جو آج کل مسلسل بارشوں سے دُھل کر یوں نکھر چکا تھا گویا پورے دارالخلافہ کو رَبّ تعالٰی نے خاص مَلکوتی سرسز لباس میں ملبوس کرکےہماری آنکھوں کی جوت جگا دی اورسلور لائنز کی شوخ وشنگ و حسین شاداب صنف نازک کے ٹولےنے جگانے کا عزم کرلیا میلوڈی کی فوڈسٹریٹ پر ناشتہ کی بکنگ پہلے سے تھی-سب چنچل لڑکیاں وہاں ڈائننگ ہال پہنچ کر اپنی اپنی کُرسیاں سنبھال چُکی تھیں-
پھر رارارا پراٹھوں، پوری حلوہ ، اچاری چنےاور گرم گرم چائے کے ساتھ صاف سُتھرے برتنوں میں ناشتہ چُنا جا چکا تھا
ہائے رام! میں اُس وقت بہت پچھتائی جب میں نےشاہدہ صاحبہ کی فوڈ سٹریٹ کچن کی وڈیو دیکھی جس میں لَسّی بن رہی تھی میں تو بالکل چائے نا پیتی
بلکہ لسّی کے ساتھ رارارا پُراٹھا کھاتی !
کچن والی وڈیوز تو لاثانی ہیں-بعد میں دیکھی
خیر آگے بڑھتے ہیں ناشتہ سے انصاف کرنے کے بعد
جب باہر گاڑی میں بیٹھے تو چار نئی زندگی سی بھرپور Comsats University کے سٹوڈنٹس نےپرانی جوان لڑکیوں سلور لائنز والیوں کو نئی زندگی بخش دی
خیر وہی چلبلا پن ، موج مستی، شوخ شنگ کاکیوں نے گانوں کے ساتھ سُر سے سُر تال سے تال ملا کر وہ رونق لگائی کہ فضا جھو اُٹھی ، سونے پے سُہاگہ جیسے ہزارہ موٹر وے پر گاڑی دوڑنے لگی قدرت وفطرت بھی گاڑی والوں کے ساتھ جذبے اورجنون سے پیار کے پھول برسانے لگی آس پاس کا پائن کے درختوں سے لدا پھندا ماحول سڑک کےکنارے سبز کچ درختوں سے لدے تھے اور اوپر گانا میں چلی میں چلی اُس پیار کی گلی سب کُچھ دوآتشہ ہوگیا
سب سواریاں تال سے تال ملا رہی تھیں اچانک جب شہریار ایک انتہائی درختوں سے گُتے ہوئے پہاڑی راستے کے بارے میں بتایا یہاں تو مشہور ڈرامہ سنگِ ماہ فلمایا گیا تو سب کی نظروں وہ لس پیراں کا عاطف اسلم ، کبریٰ خان، نعمان اعجازسمیت ڈرامے سین گھوم گئے اب اُس جگہ اُس سڑک اُن درختوں کے جھُنڈ کی اہمیت اور بڑھ گئی –
ہنستا ٹاپتا جھومریں ڈالتا ٹولہ اپنی مستی میں تھا پیچھے سے سٹوڈنٹس لڑکی عامرہ شہاب سے پوچھنے لگیں آپ سب ماشااللہ خوش خوشحال ورکنگ لیڈیز ہیں ساجدہ صاحبہ نے بتایا ٹوٹل ریٹائرڈ مال ہے بلکہ دادیاں نانیاں بیٹھی ہیں ان میں جوان سال بس عامرہ شہاب ہے
اُس پیاری لڑکی نے اُسی وقت عہد کیا کہ میں بڑی ہوکر ایسی بنوں گی-
ثمینہ صاحبہ کے ٹھمکے بھی اُس دن دیکھنے کو ملے واہ کیا کمال ہیں یہ زندہ دلانِ سلور لائنز ۰۰۰۰۰ سائرہ جی اور حمیرا جاوید نے بھی جھومر پارٹی کا ساتھ دیا
ہمارے اُس دن کے گروپ کی حسینہ ریحانہ بہت نیک دل لڑکی ہیں حسن و نیک بختی کا حسین امتزاج !
اب گاڑی سے اُترے اور سامنے لہریں مارتا دریائے سِرن تو اتنی نرمی اور خوب صورتی سے بہ رہا تھا کہ سب کے دل مچل گئے کُرسیاں منگوا لی گئیں سب اُس میں پاؤں ڈال کر بیٹھ گئے صاف شفاف پانی تو ویسے بھی زندگی کی علامت ہوا یوں کہ میرا جیسا جوڑوں کا ستایا ہوابندۂِ خُدا بھی پانی میں کوئی ڈیڑھ گھنٹہ تو پاؤں بھگوئے بیٹھے رہے یہ ہم سب کے لئے پانی کو چھونا ایک اچھوتا تجربہ تھا لگا گویا ہم فطرت کے گلے میں بانہیں ڈالے بیٹھے ہیں ہمارے ہمراہ ڈاکٹر سائرہ صاحبہ بھی تھیں اُن کی فرمائش پر قومی نغموں کا وہ دور چلا کہ فضا بھی جھوم اُٹھی ہماری تان سین ، ملکہ پکھراج و ملکۂِ موسیقی عامرہ شہاب کا ساتھ سب نے دیا
وہاں پانی میں بیٹھے بیٹھے زبردست چائے پی گئی لطف آگیا ہلکے ہلکے بادل لگتا ہمارے سر پر دھوپ میں چھتری بن گئے سچ میں بھائیو! موسم نے بہت ساتھ دیا یہ شاہدہ صاحبہ کی دُعاؤں کا نتیجہ تھا -وہ تو سمجھدار ٹھہریں اپنی چھڑی ساتھ لائی تھیں مجھے درخت سے سوٹی کٹوا کر عنایت ڈاکٹر صاحبہ نے کی-
پھر جب بہت سا پانی سامنے والی پُل کے نیچے سے بہہ گیا ہمارے علاوہ وہا ں اور ٹوریسٹس بھی تھے ، کوئی کھانا پکانے کا بندبست کر رہاتھا تو کوئی زیادہ گہرے پانی میں کُرسی ڈال کر مزے لے رہا تھا مقامی بچے پانی میں خوب مزے لے لے کر نہا رہے تھےاُنھیں دیکھ کر خوشی ہورہی تھی کہ یہ زبردست تفریح شکرہے انھیں میسر ہے – شہر نچے ان آزادیوں سے محروم ہیں
وہاں سے چل کر پھر اپن گاڑی کی طرف گئے سب پھر سیٹوں پر براجمان ہوگئے وہاں گاڑی سے دیکھا بہت روانی سے بہتی نہر نا صرف ماحول کی خوب صورتی میں اضافہ کر رہی تھی بلکہ خوشی تھی کہ اس کی بدولت فصل اچھی ہوتی ہوگی
آگے خالص پہاڑی راستہ تھا لوگ کندھوں پر آٹے کی بھری بوریاں کندھوں پر اُٹھائے پہاڑی راستوں پر اتنی سہولت سے اونچے نیچے پتھریلے راستوں پر چل رہے گویا ہموار سڑک ہواُن کی ہمت کی داد دینی پڑتی ہے
جب وہاں پہنچے تو لگا ہم تو پانیوں کی سر زمین پر اُتر آئے ہیں بادلوں اور ہلکی ہلکی ہوا کا بہت سہارا تھا موسم تو ایسا کہ یہ وادیاں یہ پربتوں کی شہزادیاں والا فلمی سین تھا مگر حقیقی کُچھ فیملیز کے بچے پانی جوتے بہائے بیٹھے تھے کُچھ بھاگ بھاگ کر پکڑ رہے تھے کُچھ پانی میں بیٹھ کر ساتھ ساتھ دھو کر آم کھا رہےتھے
فوٹو سیشن چل رہے تھے
وہی دریا ئےُسرن جو اوپر بہہ رہا تھا اُس کا کُچھ حصّہ نیچے کی طرف بھی رواں دوان تھا وہاں آٹا چکی تھی ، دریا کے کنارے بڑے بڑے پتھر تھے اور وہ سٹوڈنٹس اب Love birds میں تبدیل ہوچکے تھے
ہمیں یہ نئے ہم سفر بھی بہت بھائے مگر ایک قطار جو ساتھیوں کی ساتھ نہ تھی جیسے سمیرا ،ندا ، ارشد ، سویرا،منزہ،تبسم ، تمبا، راحیلہ،ماورا سب کو بہت مِس کیا
بلکہ بہت ہی مِس کیا
خیر ہمارے پاس بھی بہترین ساتھی تھیں جیسے شاہدہ صاحبہ ، ساجدہ ،حمیرا ،ڈاکٹر سائرہ اُن کی بیٹی ، ثمرین طاق ہماری ٹیلینٹڈ فوٹو گرافر،زبیدہ شجاع,ریحانہ،فروا، زینیہ،نائرہ اورمائرہ چار وہ سٹوڈنٹس
اب میں آپ کو بتاؤں یہ دشوار راستہ تھا وہ ایک نیک پری رَبّ نے زمیں پر اُتار دی ریحانہ کی صورت میں اُنھوں میرا ہاتھ تھا م لیا مگر چاک وچوبند قافلہ بڑی روانی سے بمع ایس پی صاحبہ کے آگے ہی آگے بڑھتا جا رہاتھا میں حیران تھی اُوپر والے دریا کے ساتھ ایک پتھر پر بیٹھ گئی ریحانہ نے کہا میں آپ کو لے چلتی ہوں کہا: بیٹی آپ جایئے وہ ساری خواتین تو ہاتھوں سےپھسلی جا رہی ہیں میں ادھر ٹھیک ہوں سامنے دور سے مجھے اپنی والیاں نظر آرہی تھیں کہا میں اتنے دور انھی پتھروں پر چل کر جاؤں گی پھر واپسی بھی کرنی ہوگی
خیر پندرہ بیس منٹ کے بعد شہریار نے مجھے دور سے دیکھا اور قریب آکر بولے: میم! آپ اُدھر جانا چاہتی ہیں اپنوں کے پاس میں آسان راستے سے لے جاتا ہوں
کہا : پھر لے چل پُتر
پہنچ گئی وہاں سب پتھروں پر براجمان تھے میں بھی بیٹھ گئی دریا اپنی موج میں بہتا چلا جارہا تھا اور یہ ساری محترمائیں آٹا چکی کا وزٹ بھی کر آئی تھیں اور دودو کلو مکئی کا آٹا بھی خرید لائیں
روانگی کا وقت آگیا صاف شفااف دریا کو اللہ حافظ کہنے کا کسی کا مَن نا تھا پر اب بھوک بھی چمک اُٹھی تھی
بہت صاف ستھرے ریسٹورنٹ میں لنچ کیا ایسا مزہ آیا کہ نہ پوچھیں بہت معقول لنچ تھا آئس کریم کھا کر
بھی مزہ آگیا
اب کچھ نے آئس کریم نا کھائی چائے پی
اب سب کا آوادگی میں حد سے گُزر جانے بعد لیکن کبھی کبھا ر گھر جانا چاہیئے والا سین تھا مجھے خوبصورت راج ہنسوں کا جوڑا نہیں بھولتا! وہ گاڑی کے ساتھ ایسے ٹھہرے تھی گویا ہمیں فی انان اللہ کہنے آئےتھے
واپسی پر کافی سواریاں سو گئیں سب بہت تھک چُکے تھے میری جوانی جواب دے گئی تھی میں جب گھر واپس آئی تو بس لگتا تھا میری ٹانگیں ڈی این 11جواب دے گئیں پر جی جو مزہ کیا اُس کے آگے یہ ٹانگیں کیا وقعت رکھتی ہیں وہ سرائیکی کہتے ہیں”فجر ڈینھ (دن) تھیسی بندہ شِینھ (شیر ) تھیسی
فسانہ لکھ رہی ہوں دِلِ بے قرار کامنزہ سب سے پہلے درخت چوک پہنچ کر کسی ذی روح سلور لائنز ممبر کو ناپاکر کُچھ گھبرا گئیں کہیں بھول کر غلط وقت پر تو نہیں آگئی ، روبینہ شمس نے گھر بیٹھے تسلی دی کہ میں آئی۰۰۰
یوں کوسٹر آگئی اور سب ہی جلد ہی پہنچ گئے سلورلائنز ممبرز کا ہنستا مُسکراتا ٹولہ اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوگیا میں نے کھڑکی کا پردہ ہٹا کر جب سڑک کے اطراف نظر گھمائی تو لگا سب کے منہ گرمی کی شدت نے سُکھا رکھے تھے- جب زندگی کے رنگوں سے بھرپورکوسٹر کی سواریوں پر نظر ڈالی تو دل میں کہا نظر بددور سلور لائنز کی خوشی ٹھنڈی ٹھار کوسٹر میں عروج پر تھی
جب یہ آواز گونجی کالی زُلفوں کالی زلفوں کے پھندے نہ ڈالو
ہمیں زندہ رہنے دو اے حسن والو۰۰۰۰۰نصرت فتح علی خان کا فن گلوکاری اپنی موسیقیت اور دلنوازی میں آسمان کو چھو نے لگا ہم سب سفید مُنڈی والیاں اور کالی گھٹاؤں والیوں کے جذبے بھی بہت اونچے ہواؤں و فضاؤں میں اُڑنے لگے-
لگا گرمی ہے تو ان سڑ ک والوں کے لئے ہمارا کیا !کوسٹر کی کھڑکی سے باہر گرم موسم ، بے رونقی اور بے دلی نظر آ رہی تھی مگر ہم تو ہیں سلور لائنز کے داسی واسی۰۰۰۰ہمیں بغیر عمر کے لحاظ ایک دوسرے ملنا ہے اپنی اپنی باتیں ایک دوسرے کو سُنانی ہوتی ہیں جس میں حسن اور بےطرح بےتکلفی اور دوستی ہوتی ہے یہی وجہ ہے جب ہم ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو بےحد خوش ہوتے ہیں، نا ملیں تو ملنے کو جی چاہتا جب فرصت کی گھڑیوں سے چُرا کر کچھ لمحے اکٹھے بتاتے ہیں تو مزہ آجاتا ہے عجیب تازگی اور خوشی سمیٹ کر لوٹتے ہیں-سوچوں کے موتیوں کے ہار سمیٹ لئے کہ لوجی یہ موج ختم ایوب پارک آگیا چاہتے نا چاہتے چہروں پر مُسکراہٹ سجائے( کوسٹر کے اے سی کی ٹھنڈک اور ساتھیوں کی گرم جوشی
بہت پھب رہی تھی) mini vehicles پر بیٹھ کر یہ قوسِ قزح کے رنگوں سے مُزّئین لان کے بہترین پرنٹس میں ملبوس یہ مہیلائیں اُتریں مریکل گارڈنMiracle Garden وہ گارڈن ہے جو سچ مُچ بڑا دلربا ہے !
جونہی داخل ہوئے موروں کی چیخ نُما آوازوں نے گویا ہمیں خوش آمدید کہا ُدکھ لگا خوبصورت مور حسن سے تو نوازے گئے ہر ادا دلنشیں پر پھیلانا پر سمیٹنا پر آواز کا جادو کوئل کی کُوکُو کو مل گیا پر یہاں گھوگھری آواز اُن کے حصّے میں آئی-۰
خیر سبزہ تو چاروں اَور تھا نفیس انسانی ڈیکوریشن اور فطری حسن دونوں نے مل کر گارڈن کی خوب صورتی کو چار چاند لگا دیئے
سبزہ اور شام کے لمحات آپس میں گھُل مِل گئے گویا انسان اور قدرت نے خود اپنے ہاتھوں سے مل کر باغ سجا دیااور ان سب نفاستوں بہت سی ںزاکتوں کو تو ثمرین طارق نے کیمرے کی آنکھ میں مہارت سےمحفوظ کرلیا-
سلور لائنز کی حسینائیں ندا، راحیلہ، روبینہ،ہانیہ، منزہ، ساجدہ، ثمرین ،سمیرا تو اس باغ کی اپسرائیں لگ رہی تھیں(ہاں یہ کہنا ضروری ہےکہ سونیا، ارشد صاحبہ، سویرا،زَہرہ ،عامرہ اور دوسرے سب ممبرز جو بوجہ نہ آسکے بہت کمی لگی)
لباس بھی وہ زیبِ تن کئے تھے کہ گرمی کو بھی نرم نرم رنگوں پر پیار آنے لگا
سلور لائنز کے دودھیا بالوں والیوں کا وقار بھی دیدنی تھا شاہدہ صاحبہ، سیماجی حمیرا، تبسم ، تمنااور بھرے بھرے جسم کی حوّا کی بیٹیوں میں عظمٰی، زُبیدہ مُتبسم چہروں اور خوش لباسی میں سب کو مات دے رہی تھیں میں بھی اُنھی کا حصّہ بننے کی تگ ودو میں تھی-
پر مَن آنم کہ مَن دانم
عُظمٰی کی صورت رَبّ نے ایسی بنائی ہے ماشااللہ جسے دیکھ کر زندگی کا اور زندگی کی خوشی کا احساس ہوتا ہے-تصویر کَشی میں عظمٰی نے بھی خوب نام کمایا
ثمرین وعظمٰی اور ندا گویا ماہر فوٹو گرافرز کی طرح جانتی ہیں کہ کس اینگل سے تصویر لی جانی چاہیئے
سیماجی! صرف آپ نہیں ہم سب بھی ندا کے مداح ہیں اُن کی انسان دوستی اور سلور لائنز کے لئے کی گئی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں یہ جو شاہدہ صاحبہ سمیرا اور ندا کی مثلث ہے یہ سلور لائنز کے ماتھے جھومر ہے اسی سے یہ دوستوں کی محفل سجتی ہے اور سج دھج کو نظر نہ لگے –
سمیراکہ رہی تھیں نا کہ جب ہم سب کُچھ وقت کے لئے نا ملیں تو ملنے کی چاہت بڑھ جاتی ہے، تبھی تو افسانہ لکھ رہی ہوں دِلِ بے قرار کا
اب اُسی جادوئی باغ میں کوئی مجسموں کے دودھیا وجود کے ساتھ فوٹو سیشن بنوا رہا تھا کوئی مغلیہ میناکاری سے مُزئین دیواروں والے فوراے کی دیوار پر بیٹھ فوٹو کھنچوارہا تھا تو کچھ سبز گھاس سے مُزئین لگنے والے صوفوں کی زینت بنا بیٹھا تھا اور کچھ بارہ دری کی پچی کاری اور میناکاری کی فنکاری سے مُزئین چھت اور دیواروں سے مرعوب تھا سچ تو یہ ہے کہ یہ سارا جادوئی باغ بہترین آرکیٹیکٹ کی جیتی جاگتی تصویرہے
اس قافلہ کی روح رواں ندا صاحبہ اور منتظمہ آعلٰی شاہدہ صاحبہ نے کوئٹہ کیتلی کی طرف قدم بڑھانے کا اشارہ کر چکی تھیں تو ہم سب کوئٹہ کیتلی کے کُرسیوں اور پیڈسٹل پنکھوں کی ہوا کھانے آرام دہ کُرسیوں پر براجمان ہوگئے-
میزبانوں نے ٹھنڈی ٹھار پانی کی بوتلیں پکڑا مہمانوں کو شاد کیا ، پانی پیتے پیتے میری نظر ایک دو سائن بورڈز پڑی کوئٹہ کیتلی تو بڑے بڑے جلی حروف میں وسط میں لکھا تھا ایک طرف کرتار پورہ لاؤنج اور ساتھ ہی نمایاں لکھا تھا Every Time Breakfast میں تھوڑی حیران تھی۰۰۰۰
اس پُرلطف شام کے بہت سے رنگ اگلی قسط میں
