چند شفاف روحیں جو بس رہی ہیں اس جہاں میں

چند شفاف روحیں جو بس رہی ہیں اس جہاں میں
اُن وفاشعاروں كو جفائیں ڈس رہی ہیں اس جہاں میں

جفاؤں کےکچوکے یوں لگتے رہتے ہیں لمحہ بہ لمحہ
کہ ہماری وفائیں ہم پہ ہنس رہی ہیں اس جہاں میں

عیاں یوں ہوئی ہے اصلیت کسی جاں سے پیارے کی
کہ سانسیں حلق میں پھنس رہی ہیں اس جہاں میں

یوں تو بے فکریاں عیاں ہیں، بظاہر لب مسکرا رہے ہیں
کرب کی لُویئں اشکوں میں رس رہی ہے اس جہاں میں

گردش زمانہ آزما رہی ہے صابرین کے صبر کا دامن
غم کی شدتیں اپنی طنابیں کس رہی ہیں اس جہاں میں

حوس کے پجاریوں نے اسے بنایا ہے دل کی ملکہ
پاک روحیں دیوارِ ایذا میں دھنس رہی ہیں اس جہاں میں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *