چند شفاف روحیں جو بس رہی ہیں اس جہاں میں
اُن وفاشعاروں كو جفائیں ڈس رہی ہیں اس جہاں میں
جفاؤں کےکچوکے یوں لگتے رہتے ہیں لمحہ بہ لمحہ
کہ ہماری وفائیں ہم پہ ہنس رہی ہیں اس جہاں میں
عیاں یوں ہوئی ہے اصلیت کسی جاں سے پیارے کی
کہ سانسیں حلق میں پھنس رہی ہیں اس جہاں میں
یوں تو بے فکریاں عیاں ہیں، بظاہر لب مسکرا رہے ہیں
کرب کی لُویئں اشکوں میں رس رہی ہے اس جہاں میں
گردش زمانہ آزما رہی ہے صابرین کے صبر کا دامن
غم کی شدتیں اپنی طنابیں کس رہی ہیں اس جہاں میں
حوس کے پجاریوں نے اسے بنایا ہے دل کی ملکہ
پاک روحیں دیوارِ ایذا میں دھنس رہی ہیں اس جہاں میں
-
سعید فاطمہ ایک شاعرہ، کالم نگار اور افسانہ نگار ہیں۔ ایم فل زوالوجی اور ایم ایڈ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئیں۔ آپ کی تخلیقات روزنامہ پاکستان، ماہنامہ انسانیت اور دیگر اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکی ہیں۔
افسانہ نویسی کے مقابلوں میں آپ نے ضلعی سطح پر پہلی پوزیشن اور صوبائی سطح پر دوسری پوزیشن حاصل کی۔
شاعری، کالم اور افسانہ—تینوں میدانوں میں آپ کی تحریریں محبت، سماج اور زندگی کی حقیقتوں کو اجاگر کرتی ہیں۔
ان کی مزید تحاریر پڑھیں
