کہکشاں کے نیچے ایک دن – ممتاز خان منیس کے دیس میں

⚠️ یہ کالم محض کالم نگار کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز اس کے مندرجات کا ذمہ دار نہیں۔

کہکشاں کے نیچے ایک دن – ممتاز خان منیس کے دیس میں


کہتے ہیں کہ سفر وسیلہ ظفر ہے کچھ سفر ایسے ہوتے ہیں جو انسان کو بدل دیتے ہیں — اور کچھ ملاقاتیں ایسی ہوتی ہیں جو کتابوں میں محفوظ ہو جانے کے قابل ہوتی ہیں۔
ایسا ہی ایک دن تھا… 13واں روزہ، رمضان کی برکتیں اپنے عروج پر، اور ہمیں دعوت ملی ممتاز خان منیس کے دیس جانے کی، جو زراعت کے آسمان کا چمکتا ہوا ستارہ ہیں۔
نمازِ فجر کے بعد، رضاکارانہ اساتذہ نے اپنے پرنسپل کی ایما پر روزہ رکھ کر ایک روحانی اور سیکھنے سے بھرپور سفر کا آغاز کیا۔ کچھ چہروں پر تجسس، کچھ پرجوش، اور کچھ تیاری سے بھرپور ، ہم فیکٹری چوک سے بدھلہ سند، جہانیاں کے سرسبز کھیتوں سے ہوتے ہوئے ٹبہ سلطان پور پہنچے، جو ضلع وہاڑی کا ایک خوشبو بکھیرتا قصبہ ہے۔
جیسے ہی ممتاز خان منیس کے ڈیرے پر قدم رکھا، “پینا فلیکس” پر ہماری آمد کا پرجوش خیرمقدم کیا گیا۔ سادہ مزاج، خالص دیسی رنگ اور خلوص بھرا ماحول، جہاں روزہ داروں کے علاوہ دیگر مہمانوں کے لیے بھی بھرپور انتظام تھا۔
ممتاز خان منیس — ایک ایسا کسان، جو نہ صرف جرمنی سے پی ایچ ڈی ہیں بلکہ 17 گولڈ میڈلز اور بے شمار اعزازات کے حامل بھی ہیں۔ ان کی ایک گائے بھی “گولڈ میڈلسٹ” ہے، جو ان کے علم، تجربے اور جدید زراعت کے شوق کا زندہ ثبوت ہے۔ ان کے سرائیکی لب و لہجے کی خوشبو اور الفاظ کا وزن متاثر کن تھا۔ ہم سب کا انہوں نے بھرپور خیر مقدم کیا۔
انہی پتھروں پہ چل کے آ سکو تو آؤ
میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے۔

اور یہ سچ تھا۔
ان کے ڈیرے پر ترکی کے شہر انکرہ میں پائی جانے والی انگورا نسل کی بکریاں، دودھ دوہنے والی مشینیں، گھاس اتارنے کے آلات، اور دیگر جدید زرعی مشینری موجود تھی، جن میں:
درآمد شدہ مشینیں: 21 سال پرانی لیکن مکمل طور پر فعال، جن کے پرزے جرمنی سے منگوائے جاتے ہیں۔
مشینری کی کارکردگی: ایک مشین 500 افراد کا کام ایک دن میں کر سکتی ہے۔
ڈریپ ایریگیشن: جدید آبیاری کا بہترین نظام ہے۔
آلو نکالنے والی مشین، گوبر بچھانے والی مشین، ٹریکٹر سے جڑی گھاس کاٹنے والی مشین۔
پیاز کے بیج: 800 گرام کے بیجوں سے کاشت۔
مچھلی کا تالاب: جس میں 500 نر مچھلیاں تیرتی ہیں۔
باغات: 1350 آم کے درخت، جن کا ہر پودا 40 ہزار روپے مالیت کا ہے، اور کل فروخت دو لاکھ ستر ہزار کلوگرام تک جاتی ہے۔
زیتون، شہتوت، اور دیگر موسمی پھلوں کے درخت۔
ممتاز منیس نہ صرف ایک کامیاب کسان ہیں بلکہ علم کا سمندر بھی ہیں۔ ان کے پاس چار کمنٹس بکس موجود تھیں۔ جس میں ہر آ نے والے نے انکے لیے بہترین الفاظ میں خراج تحسین پیش کیاہے۔ ہر آنے والے مہمان کو 25 کلو آلو کا تھیلا اور سوہن حلوہ تحفے میں دیا گیا۔
یہ دن علم، تجربے، مہمان نوازی اور جدید زراعت کے مشاہدے سے بھرپور تھا۔ واپسی پر ہر کسی کے دل میں صرف ایک ہی بات تھی — “ایسے لوگ قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔”
ممتاز منیس کو 2007 میں صدر پاکستان کی جانب سے تمغۂ امتیاز، FAO کے دو گولڈ میڈل (1995 میں سورج مکھی اور 2005 میں لائیوسٹاک کی پیداوار پر) جیسے بین الاقوامی اعزازات بھی مل چکے ہیں۔ وہ ایگروبزنس سپورٹ فنڈ (ASF) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ابتدائی رکن ہیں۔
ممتاز منیس نہ صرف زمین سے محبت کرتے ہیں بلکہ اس محبت کو علم، تجربے اور جدت سے سنوارتے بھی ہیں۔ ان کا ڈیرہ صرف ایک کھیت نہیں، بلکہ ایک درسگاہ ہے ۔
شام ڈھل چکی تھی۔ ہم ایک بھرپور دن گزار کر لوٹے۔
ممتاز خان منیس نے ہمیں بتایا کہ کسان صرف ہل نہیں چلاتا — وہ قوم کی بنیادیں کھودتا ہے، پانی دیتا ہے، سینچتا ہے… اور سنوارتا ہے۔
اگر کبھی زمین پر علم، خلوص، محنت، جدیدیت اور دیہی سادگی کو ایک ساتھ چلتے دیکھنا ہو — تو ممتاز خان منیس کا ڈیرہ ضرور دیکھیے۔
وہ کہکشاں جو معلومات اور علم کی روشنی سےچمکتی ہے… اور بتاتی ہے کہ زمین کے سینے سے نکلنے والی خوشبو، کتابوں کی سیاہی سے کم نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *