شعور کا فقدان
پرچی کاؤنٹر کے سامنے لگی بھیڑ میں دیر سے کھڑی جواں سالہ مریضہ کا شدید گرمی کے باعث سر چکرایا، تو وہ جیسے ہی گیلری کی دیوار کے ساتھ کھڑی تھی، وہیں بیٹھ گئی۔ اس کا سر چکرانے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انتظار گاہ میں جو کرسیاں خواتین و حضرات ،کمزور اور نڈھال مریضوں کے لیے رکھی گئی تھیں، ان پر ہر مریض کے ساتھ دو صحت مند نوجوان بھی براجمان تھے اور وہ کافی دیر سے کھڑی تھی ۔وہاں عوامی بدنظمی کی وجہ سے حبس اتنی تھی کہ چار پنکھے بھی بے کار ثابت ہو رہے تھے۔
ہجوم میں موجود ایک باشعور نوجوان نے جلدی سے آگے بڑھ کر ہٹے کٹے جوانوں سے اس مریضہ کے لیے اپنی کرسی چھوڑنے کا کہا، تو نئی بحث چھڑ گئی:
“ہم اپنے مریض کے ساتھ ہیں!”
“یہ لڑکی آپ کی کیا لگتی ہے؟”
“آپ اس کی طرف داری کیوں کر رہے ہو؟”
“اس مریضہ کے وارث خود اسے لاوارث چھوڑ گئے ہیں، تو آپ کو کیا فکر؟”
اتنے میں یہ سب باتیں سنتے ہوئے اس مریضہ کے بوڑھے والد صاحب بھی اس کے پاس آ گئے، جو اس کی والدہ کو انتظار گاہ سے باہر واٹر کولر سے پانی پلانے لے گئے تھے۔ پانی انہوں نے مریضہ کے لیے بھی لانا تھا، مگر بدقسمتی یہ کہ واٹر کولر کے ساتھ رکھا گلاس اس کے ساتھ زنجیر سے بندھا ہوا تھا ،تاکہ جس کو جب پانی پینا ہو، یہ گلاس وہیں دستیاب رہے۔ اس لیے وہ دونوں خالی ہاتھ واپس پلٹ آئے۔
وہ ابھی مریضہ کے پاس آئے ہی تھے کہ آواز لگانے والے نے پھر سے اس مریضہ کے نام کی آواز لگائی اور کہا، “آپ کا نمبر گزر چکا ہے ۔ خیر ابھی رک جائیں، جیسے ہی وہ مریض باہر آئے، آپ چلے جائیے گا ۔
اب اس مریضہ کی والدہ ماجدہ پر الزامات کا طوفان آ گیا۔
بوڑھے والد نے غصے میں کہا:
“ایک تو آپ کو پیاس لگ جاتی ہے! جواں بیٹی کو ساتھ لاتی ہو، تو کچھ صبر بھی کیا کرو۔ آپ کی وجہ سے مجھے اور اس بیٹی کو شرمندگی اٹھانی پڑی۔ ہر جگہ آپ نے ذلیل کروا رکھا ہے۔ آپ کی وجہ سے ایک نمبر بھی لیٹ ہو گیا!”
ادھر وہ نوجوان جو پہلے سے سب کی نظروں کا نشانہ بنا ہوا تھا ، اب خاموشی سے یہ تماشا بھی دیکھ رہا تھا
۔ جیسے ہی اس کے سامنے ایسے کئی لوگوں کا ہجوم تھا، ویسے ہی اس کے ذہن میں کئی سوالوں کا ہجوم تھا:
“میں نے ایسا بھی کیا کر دیا جو سب مجھے طنزیہ نگاہوں سے دیکھ رہے تھے؟”
“سرکار نے اتنی سہولتیں دیں ہیں، کیا ہم نے ان کا صحیح استعمال کیا؟”
“ایک نمبر لیٹ ہونے پر کون سی قیامت آ جاتی ہے بھلا؟”
“مانا، گھریلو خواتین کم ہی جانتی ہیں باہر کے معاشرے اور قوانین کو، مگر کیا کوسنا اور ڈانٹنا ہی انہیں سمجھانے کا طریقہ ہے؟”
“اگر وہ صاحب خود اتنے سمجھ دار تھے، تو گھر سے ایک بوتل پانی کے ساتھ لانے میں کیا حرج تھی؟
دوسروں کی تربیت پہ انگلی اٹھانے والے ہم اپنی تربیت پر توجہ کب دیں گے ؟
ایسے ہی کئی سوال اس مریضہ کے ذہن میں بھی تھے ۔
