
اک کروڑ کا دکھاوا
یہ منظر ضلع چکوال کی تحصیل تلہ گنگ کے گاؤں میال کا تھا جہاں اک بیل ایک کروڑ روپے میں خریدنے کی باوقار تقریب منعقد ہوئی تھی. باقاعدہ پیسے گننے والی مشین لا کر رکھی گئی تھی ۔جلسے کا اہتمام تھا۔ ڈھولیا ڈھول اور نعروں سے اک کروڑ کے بیل کے گن گا رہا تھا. ٹی وی کیمرے لش پش وڈیو بنا رہے تھے.. میدان کھچا کھچ بھرا ہوا تھا. خریدنے اور بیچنے والے دونوں چکوال کے ہی تھے ۔سوشل میڈیا پہ بھی اس بیل کی خوب دھوم مچی تھی. لائیو چینلز پہ دکھایا جا رہا تھا.بیل کی خصوصیات اور مالک کے بارے میں بات بار بتایا جا رہا تھا۔ میدان کے پچھلی طرف بیوہ ماسی مختیار گاؤں کے اک بااثر دکاندارکی گالیاں سن رہی تھی جس نے ساڑھے بارہ سو کا آٹے کا تھیلا اسے ادھار دیا تھا مگر روز گھر پیسے مانگنے آ جاتا تھا. ماسی کو کہیں سے بھی ماہانہ راشن ملنے کے آثار نہیں تھے.نفسا نفسی کے اس دور میں لوگوں کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ کسی بیوہ عورت کے ساڑھے بارہ سو کا حساب چکاتے، سارا علاقہ ایک کروڑ میں خریدے جانے والے قربانی کے بیل کی مدح میں مصروف تھا.ماسی ہر طرف سے مدد مانگ مانگ کر ہار گئی تھی۔۔عید کے دن دو قربانیوں کا بہت چرچا ہوا. پہلی ایک کروڑ کے بیل کی قربانی تھیجب کہ دوسری ماسی مختیار کی چھت سے ٹنگی سوکھی لاش کی قربانی…..
-
نمرہ ملک ملٹی لینگویجز رائٹر شاعره.کالمنسٹ،کمپئر.افسانہ وناول نگار ہیں ۔ صحافی ہیں اور چیئرپرسن پریس کلب تلہ گنگ ہیں
ان کی مزید تحاریر پڑھیں
